408

پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن اپنا قبلہ درست کرے……ہومیو پیتھک ڈاکٹر خالد محمود ہادی.

تحریر : ہومیو پیتھک ڈاکٹر خالد محمود ہادی

پنجاب حکومت نے 2010 ء کی اسمبلی سے PHC پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن کا قانون پاس کروایا ۔ جو 2015 سے نافذ العمل ہوا اس قانون کے مطابق صوبے بھر میں عطائیت کو ختم کرنا مقصود تھا۔ اس قانون کے مطابق ہر وہ شخص جو شعبہ صحت سے جڑا ہوا ہے یا یوں کہہ لیں ہر وہ شخص جو طب سے جڑا ہوا ہے اس میں ایلوپیتھی ۔ ہومیو پیتھی ۔ طب اور نرسنگ کو بطور ہیلتھ سروس پرو وائڈر کے طور پر رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔ PHC کی رجسٹریشن کے مطابق درجہ بالا شعبہ میں کلینک /دواخانہ کو طریقہ علاج کے قانون کے مطابق کام کرنے کو قانونی حیثیت کے مطابق تسلیم کرتے ہوئے رجسٹرڈ کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں حکومتی سطح پر جن طریقہ علاج کو مستند سمجھا جاتا ہے ان کی ہی رجسٹریشن کی جاتی ہے اور مطعلقہ کونسل کے قانون کے مطابق ایلو پیتھک ڈاکٹر ۔ ہومیو پیتھک ڈاکٹر ۔ طبیب اور نرسز کو اپنا کلینک بنا کر پریکٹس کرنے کا اہل سمجھتے ہوئے کلینک ومطب کو حکومت پنجاب PHC کے قواعد و ضوابط کا پابند کرنا ہے۔ اس سے عطائیت کی سرکوبی کو کافی حد تک ممکن بنا کر سادہ لوح انسانوں کو درست معالج کا انتخاب کرنا اور عطائیوں کی نشاندہی کرکے عوام کو آگاہی بھی دینا ہے۔

PHC قانون کے مطابق دوسرے ھیلتھ سروس پرووائیڈر یعنی لیبارٹری۔ میڈیکل سٹور۔ ایکسرے ۔ ECG ۔ سے وابستہ لوگوں کو ریگولر کرنا ہے جس سے عطائیت پروان چڑھ رہی ہے ۔ بدقسمتی سے آج بھی تمام تر حکومتی کوششوں کے باوجود عطائی بڑی تعداد میں موجود ہیں او ر انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں جس سے معصوم لوگ پیچیدہ اور موذی امراض میں مبتلا ہو کر موت کی نیند سو رہے ہیں۔ ہرمحلے/گاؤں اور گلی میں عطائیت بڑے زور و شور اور دیدہ دلیری سے جاری ہے جو آج بھی PHC کے قانون کی ضرب سے محفوظ ہیں اور مبینہ طور پر محکمہ صحت کی سر پرستی میں جوں کا توں چل رہا ہے ۔

پاکستان ایک غریب ملک ہے یہاں لٹریسی لیول کم ہونے کی وجہ سے محکمے ان کی معصومیت سے فائدہ اُٹھا کر ان کو مس گائیڈ کرتے ہیں جس کی وجہ سے لاقانویت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ سزا کا فقدان ہونے سے ہر شعبے میں بالخصوص شعبہ صحت میں کرپشن اقربا پروری عام ہے اس لیے عوام کو اصل اور عطائی لوگوں میں آج تک فرق سمجھنے میں کنفیوزن ہے۔

پنجاب میں اندازاً 40000 ہومیو پیتھک کلینک رجسٹرڈ ہیں تمام PHC کے قواعدو ضوابط کے مطابق پریکٹس کر رہے ہیں جب کبھی PHC کی کوئی ٹیم وزٹ کرتی تو کسی غلطی یاکمی کی وجہ سے کلینک کو سیل کر دیا جاتا ہے جس سے ڈاکٹر کی ساکھ خراب ہو جاتی ہے۔ جاری مریضوں کا علاج بھی رک جاتا ہے، ادویات خراب ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کو ہیڈ آفس آنے کا حکم صادر فرمایا جاتا ہے، موقع پر بھی ڈاکٹر کو اس کی نشاندہی کر دی جاتی ہے مگر موقع پر کلینک سیل کر کے ہیڈ آفس بلا کر بڑی بڑی رقوم کا جرمانہ کرکے کلینک کو ڈی سیل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے جاتے ہیں۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ اس دوران کلینک بند ہونے سے مریض خوار، امراض میں اضافہ کے قوی امکانات، دوائیوں کا خراب ہونا یقینی۔ ہیڈ آفس کے کتنے چکر لگوائے جاتے ہیں۔ پتہ نہیں کتنا مالی نقصان ہوتا ہے۔سب سے بڑی پریشانی ڈاکٹر کی ساکھ ہے جس کو بیک جنبش قلم پامال کر دیا جاتا ہے جو کہ انتہائی افسوسناک ہے۔

پوری دنیا میں ہر شعبہ میں کام کرنے کے قواعدو ضوابط ہوتے ہیں اور لوگوں کو ان قواعدو ضوابط کوپورا کرنے کا پابند کیا جاتا ہے۔ کبھی بھی حراساں نہیں کیا جاتا۔ملکی ترقی میں چھوٹے سے چھوٹا کاروبار اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی طرح میڈیکل کے شعبہ میں بھی جب کوئی کلینک رجسٹرڈ کیا جاتا ہے تو ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ کبھی ایسا تاثر نہیں دیا جاتا کہ آپ کو حراساں کیا جارہا ہے ایک یا دو مرتبہ چیک کرنے کے لیے آتے ہیں اور صرف اپنے اختیار کے بار ے ہی سوال کرتے ہیں سب سے پہلے اپنی شناخت کرواتے ہیں، غلطی پر وارننگ دیتے ہیں یاد دہانی کے لیے لاگ بک پر درج کرتے ہیں۔ بار بار غلطی پر کبھی کاروبار سیل نہیں کرتے غلطی کا تعین کرنے پر صرف جرمانہ کیا جاتا ہے اور کبھی کیش وصول نہیں کیا جاتا۔ پورا وقت دیتے ہیں تاکہ جرمانہ متعلقہ اکاؤنٹ میں جمع کروایا جاسکے۔

اس بات کا خیال رکھیں کہ ملک کے معاملات کبھی کاروبار بند کرنے حراساں کرنے اور ڈرانے دھمکانے سے ٹھیک نہیں ہوتے ملک کا نظام چلانے کے لیے پیسے چاہیے ہوتے ہیں وہ بھی سرکاری خزانہ میں آئیں۔ بد قسمتی سے یہاں صرف اوپر کی کمائی کیلئے حراساں کرنا، ڈرانا دھمکانا، درجنوں افراد کے ساتھ کلینک پر ہلہ بولنا۔ جاہلانہ ا ور غیر مہذب طریقہ اپنا کر دہشت برپا کرکے نفسیاتی تسکین اور مالی فوائد حاصل کرنا ہوتا ہے نا کہ برائی کو فتح کرنا۔ اگر معاشرے سے برائی ختم کرنا مقصود ہو تو کبھی بھی ایسے طریقہ اختیار نہیں کیے جاتے۔
آج میں انتہائی دکھ کے ساتھ احکام بالا PHC سے گزارش کرتا ہوں کہ ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کو حراساں اور بلیک میل نہ کریں۔ ذاتی عناد رکھنے والوں کی شکایت پر ڈاکٹرز کے کلینک سیل نہ کریں۔ مہذب معاشرہ بنانے کیلئے اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لائیں۔ پڑھے لکھے لوگوں والا طرز اپنائیں ۔ فرعونیت کے لبادے سے باہر آئیں۔ اپنی عزت بڑھائیں دوسرے کی عزت نفس مجروح نہ کریں ملک میں اس وقت MBBS کے بعد دوسری بڑی تعداد ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کی ہے ۔ ملک کے قانون کے مطابق میڈیکل سے وابستہ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیں کلینک کو سیل نہ کریں وارننگ دیں ۔ موقع پر یا اس کی رجسٹریشن پرجرمانہ لگائیں ۔ جس سے ملکی خزانے میں رقم آئے ۔ آپکی تنخوائیں اور مراعات میں حلال کا عمل دخل زیادہ ہو ۔ عوام کو میڈیکل سروس میسر رہے اور ڈاکٹر کا معاشی قتل بھی نہ ہو اگر کہیں قانونی سقم ہے تو وہ بھی آپ نے ہی ٹھیک کرنا ہے ۔ہومیو پیتھک ڈاکٹرز نے ہمیشہ محکموں سے تعاو ن رکھا ہے قانون کے مطابق کام کیا اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سروس مہیا کرنے کے کیلئے کوشاں ہیں ہومیو پیتھک تنظیمیں اس معاملے کی درست سمت متعین کرنے میں ہمیشہ تعاون کرتی ہیں۔ اس سلسلہ میں آپ کوششیں کریں ہومیو کمیونٹی آپ سے ہر قسم کا تعاون جاری رکھے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں