345

صفائی اور اسلام

تحریر: مفتی محمد زاہد اسدی

تہذیب اسلامی کی انتہائی ابتداء میں ابھی تک ایمان ، اسلام اور احکام شریعت میں سے کچھ نزول نہ ہوا تھا ۔ایک خاص پیغام کے ساتھ روح الامین اترتے ہیں اور مخاطب ہوتے ہیں ۔۔۔۔ یایھا المدثر ۔۔۔۔۔۔ فاھجر ۔اے چادر اوڑھنے والے آخری پیمبر ! ہمت کیجیے ۔۔۔ کھڑے ہو جائیے اور ڈراءیے ، اپنے رب کا نام لیجیے اور اپنے کپڑے صاف رکھیے اور ہر قسم کی نجاست سے دور رہیے ۔۔۔۔۔ ضروری تھا کہ جس وجود پر برکات و عنایات ربانی کا ورود و نزول ہو ۔۔۔ لباس ، مقام بود و باش صاف ستھرا ہو ۔۔۔ پورا وجود اور ہر وہ جگہ جہاں اس وجود گرامی کا اثر بلکہ پیغام پہنچے صاف ستھری ہو ۔۔یوں تہذیب اسلامی کا ابتدائی حکم نظافت ، طہارت اور صفائی ہے ۔۔۔۔ ایک موقع پر پیمبر مرسل فرماتے ہیں ۔۔۔ مجھ میں تمہاری دنیا میں سے تین چیزوں کی محبت رکھی گئی جن میں سے ایک خوشبو ہے ۔۔۔ یعنی بدبو سے نفرت اور خوشبو سے محبت یہ انکی طبیعت ، مزاج ، سنت مبارکہ تھی ۔۔۔ عطر اس محبت اور سنت کی ظاہر صورت تھی ورنہ اس میں دراصل سنت بدبو سے نفرت اور خوشبو سے محبت ہے ۔۔۔ ایک عورت فوت ہوگئی آپ کو فوتگی کی اطلاع نہ دی گئی پوچھنے پر بتایا گیا کہ اسکا انتقال ہو گیا ہے اسکی قبر پر تشریف لے جاتے ہیں ،دعا فرماتے ہیں ۔۔۔ یہ قدردانی اس وجہ سے کی کہ وہ مسجد میں جھاڑو دیا کرتی ہے ۔اب ایک مقام پر خود ارشاد فرماتے ہیں ۔۔۔ جعلت لی الارض مسجدا و طہورا ۔۔۔ میرے لیے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک کی گئی ہے ۔۔۔ اس سے لازمی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جو پوری زمین پر جس جگہ بھی صفائی کے لیے جھاڑو دے گا ، عالی جناب کی دعا و عنایت اسے پہنچے گی ۔ متعین مسجد میں جھاڑو دینے والی عورت کے لیے خصوصی دعا فرماءی اور تمام امت کو روءے زمین پر جھاڑو دینے کی رغبت دلا دی کیونکہ خود انکے لیے پوری زمین سجدہ گاہ بناءی گءی ہے ۔۔۔۔ ایک قبر پر سے گذرتے ہیں ایک ٹہنی قبر پر رکھتے ہیں ۔۔۔ فرماتے ہیں جب تک خشک نہیں ہوتی مردے کو فاءدہ ہو گا ۔۔۔ عقلی طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ مردے کو فاءدہ تو آپکے فرمان اور فعل سے ہو گا ۔ ٹہنی رکھنا بظاہر طریقہ ہے اس میں ایک لطیف اشارہ ہے کہ شجر کاری بہت اہم شے ہے جسکے مستحق نہ صرف زندہ انسانوں کی آبادیاں ہیں بلکہ قبرستان بھی اسکے مستحق ہیں ۔۔۔۔ درخت لگاءیے اور ہر دو جہان میں فاءدہ اٹھاءیے۔ایک موقع پر فرمایا کہ ایمان کا نصف طہارت و پاکیزگی ہے ۔اجسام کی اصلاح اور فکر کی زرخیزی کا تعلق زمین کے بنجر اور زرخیز ہونے سے بھی ہے جس پر اجسام چلتے پھرتے ہیں ، اٹھتے بیٹھتے اور کھاتے پیتے ہیں ۔مولانا روم کہتے ہیں ۔ خشک مغز و خشک تار و خشک پوست ۔۔۔۔۔ ازکجا می آید ایں آواز دوست ۔۔۔۔۔۔ زرخیز دل و دماغ ہی سے ہری بھری فکر پیدا ہو سکتی ہے ۔ مصور مادر وطن کہتے ہیں ۔۔۔ خدا اگر دل فطرت شناس دے تجھ کو ۔۔۔ سکوت لالہ و گل سے کلام پیدا کر ۔۔۔۔۔ میں کلام کیسے پیدا کروں ۔ افسوس میری دھرتی سے لالہ، گل و گلزار کاٹے جا رہے ہیں ۔۔۔۔ صاف ستھرے رہیے ، خوشبو پھیلاءیے، جھاڑو دیجیے ، شجر کاری کیجیے ۔۔۔۔۔ وطن عزیز کے ماحول کو سر سبز رکھیے ۔۔۔۔۔۔ یہ ہماری تہذیب کا وقار اور بانی تہذیب معلم اخلاقیات ، پیمبر امن و اصلاح کی سنت سنیہ ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں