337

غازی محمد ایاز خان ایک بے مثل شخصیت

تحریر: شاہد مرتضی چشتی۔

اس دنیا میں ارب ہا لوگ آئے اور چلے گئے ان میں سے چند لوگ ہی ایسے ہیں جو زندگی میں ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دے گئے کہ ان کی زندگی بہت ساروں کے لیے مشعل راہ ہوتی ہے اور یوں وہ مر کر بھی زندہ و جاوید رہتے ہیں۔ انہی لوگوں میں سے ایک شخصیت غازی لیفٹیننٹ محمد ایاز خان مرحوم جن کو مرحوم سمجھنا ہمارے لیے آج بھی بہت مشکل ہے۔ وہ پاکستان بھر کے ہزاروں سماجی کارکنان کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ ہزاروں سماجی خدمت گار ان کے زیر تربیت رہے انہی کی حوصلہ افزائی سے خدمت انسانی اور سماج کی بھلائی میں آج بھی مصروف عمل ہیں۔

لیفٹیننٹ غازی ایاز خان کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ وہ طویل عرصہ قائد اعظم محمد علی جناح کی سرپرستی میں قائم ایک تنظیم پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے صدر رہے۔ یہ وہ تنظیم ہے جسے 1930 میں سید یاسر حسین جعفری نے قائد اعظم کی خواہش پر نظام ساکاوٹس کے نام سے قائم کیا۔ نواب بہادر یار جنگ اس کے پہلے چیف سکاوٹ بنے۔ بعد ازاں ڈاکٹر زاکر حسین بھی اس کے چیف سکاوٹ رہے جو انڈیا کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔ پھر پاکستان سکاوٹ ایسوسی ایشن اور پھر پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے نام سے آج بھی مصروف عمل ہے۔

غازی ایاز خان سماجی خدمت کے جذبے سے سرشار تھے اور ہزاروں نوجوانوں کو اس جزبہ سے روشناس کروانے کا باعث بنے۔ وہ سید یاسر حسین جعفری، عبدالستار ایدھی جیسےعظیم لوگوں سےمتاثر تھے اور ان کے نقش قدم پر چلنا زندگی کا مشن مانتے تھے۔ ان کی قیادت پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے مختلف موضوعات پر ملک بھر کے طول و عرض میں موجود سماجی تنظیموں اور کاکنان کی راہنمائی اور حوصلہ افزائی کے لیے سیمینارز، تربیتی ورکشاپس اور کانفرنسز منعقد کی گئیں اور ہزاروں سماجی کارکنان کی حوصلہ افزائی کے لیے ایوارڈز دیئے گئے۔

راقم کو یہ اعزاز اور فخر حاصل ہے کہ غازی ایاز خان صاحب کے ساتھ ملک بھر میں متعدد ورکرز کانفرنسز کے انعقاد میں بطور کارکن حصہ لینے کا موقع ملا. وہ مجھ جیسے ہزاروں سماجی کارکنان کے راہنما اور دوست تھے. وہ ہمیشہ کہتے تھے جو سماجی کام صرف اور صرف اللہ کی مخلوق کی خدمت، بہتری اور اپنے رب کی رضا کی خاطر کیا جائے اس میں جو سکون ہے وہ کسی اور عمل میں نہیں مل سکتا.

وہ سچے عاشق رسول اور سنت رسول پر عمل کرنے والی شخصیت تھے. لکھنے اور پڑھنے میں اتنی مہارت تھی کہ شاید ہی ان کا کوئی ثانی ہو.

انہوں نے 1948، 1965 اور 1971 کی جنگوں میں حصہ لیا، غازی بنے لیکن پوری زندگی شہادت کا شوق دل میں موجزن رہا۔ ان کی کمان میں لڑنے والے نوجوان نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو 1948 کی جنگ میں شاندار کارکردگی اور بہادری کے اعتراف میں ہلال کشمیر اور بعد ازاں غازی صاحب کی کاوشوں سے نشان حیدر سے بھی نوازا گیا۔

لیفٹنٹ غازی محمد ایاز خان ستارہ سماج کی 13ویں برسی پر ہم انہیں بھرپور طریقے سے خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تبارک تعالی ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کی سماجی تنظیم اور خدمت کو محترم سید عمار حسین جعفری مرکزی صدر و سیکرٹری جنرل حکیم لطف اللہ کی قیادت میں جاری و ساری رکھنے کی ہمت و توفیق عطا فرمائے رکھے۔ آمین ثم آمین!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں