372

حضرت بابا فریدالدین مسعود گنج شکر یونیورسٹی کے قیام کا وعدہ وفا نہ ہوا..

تحریر: پیر توقیررمضان

دور جدید کا مقابلہ کرنے کے لیے جس طرح موجودہ وقت کے مطابق رہن سہن اور رسم ورواج کو اپنا کو اسی وقت میں ہی سمٹ جانا ضروری ہے اسی طرح ترقی یافتہ دور میں کامیاب مستقبل کو اپنانے کے لیے جدید دور کے مطابق تعلیم ضروری ہے جس کی بنیاد اعلیٰ سطح کے سرکاری تعلیمی اداروں سے ہی ممکن ہے۔ایک غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے نوجوان اعلیٰ سطح کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے بڑے علاقوں میں جاکر مہنگی تعلیم حاصل کرنے کی سکت نہیں کرتے ہیں،اگر انہی کے علاقے میں کوئی یونیورسٹی لیول پر گورنمنٹ کا اعلیٰ سطحی تعلیمی ادارہ موجود ہو تو وہ اس میں داخلہ لے کر اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہیں اگر ان کے آبائی علاقے میں سرکاری تعلیمی ادارہ نہ ہوتو وہ اپنے مستقبل کی دوڑ کو غربت کے ہاتھوں تنگ ہو کر وہیں پر چھوڑ کرکسی ہنر سیکھنے کا راستہ اختیار کرتے ہیں جس کے باعث پاکستان تعلیمی رینکنگ میں پیچھے ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے ننکانہ صاحب کے شہریوں کے لیے بابا گرونانک کے نام پر یونیورسٹی لیول کا ایک تعلیمی ادارہ بنانے کا اعلان کیا ڈپٹی کمشنر ننکانہ صاحب راجہ منصور احمد نے اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے ناجائز تجاوزات کے خلاف جاری آپریشن کے تحت ناجائز قابضین کے قبضہ سے 18 سے زائد ایکٹر سرکاری رقبہ واگزار کروایا جس پر وزیر اعظم عمران خان نے ننکانہ صاحب میں خطاب کے دوران راجہ منصور احمد کو خراج تحسین پیش کیا۔ ننکانہ صاحب میں بابا گرونانک کے نام پر یونیورسٹی قائم کرنے کے لیے کام کا آغاز کردیا ہے۔

ضلع پاکپتن میں سرکاری لیول پر یونیورسٹی نہیں ہے جس کے باعث پاکپتن کے طلباء اپنی تعلیم کو جاری رکھنے کی خاطر ساہیوال ،لاہور سمیت دیگر بڑے شہروں کے دھکے کھانے پر مجبور ہوچکے ہیں، اسی دوران کئی طلباء انہی روز مرہ کے دھکوں سے دل برداشتہ ہو کر تعلیم کو خیر آباد بھی کہہ چکے ہیں۔جنرل انتخابات سے قبل بھی تمام سیاسی جماعتوں کے امیدواروں نے ووٹ کے حصول کے لالچ میں آکر پاکپتن کے نوجوان باسیوں کو کامیابی کے بعد یونیورسٹی کے قیام کی یقین دہانی کروائی مگر بدقسمتی کے ساتھ ارکان اسمبلی اپنے وعدوں کو پورا کرنے کو دور سننے تک کو تیار نہیں ہے۔طلباء بھی متعدد بابا فرید ؒ کے نام پر سرکاری یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر آئے نعرے بازی کی مگر ان کے اس امر سے کچھ نہ ہوسکا۔ حال ہی میں پاکپتن کی مقامی نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نامی طالب علم تنظیم کے سینکڑوں کارکنان نے شہری کی سماجی شخصیات کے ہمراہ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے نام ایک سرکاری یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر آئی ۔پاکپتن کے شہریوں ،تاجروں ،طلباء اور سماجی شخصیات کی طرف سے حکومت سے یونیورسٹی کے قیام کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔عمران خان حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ سے بھی گہری عقیدت رکھتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ بابا فرید کے نام پر پاکپتن میں بھی ایک یونیورسٹی قائم کریں۔

مرکزی انجمن تاجران کے صدر چوہدری اظہر محمود نے ’’صدائے وطن ‘‘سے گفتگوکے دوران کہاکہ فروغ تعلیم ہی ترقی و خوشحالی کا یقینی راستہ ہے،پاکپتن کے طلباء اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے بڑے شہروں کے دھکے کھاتے ہیں اور ناقابل برداشت اخراجات پر مشتمل مہنگی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں، غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے طالبعلموں کے لیے اب یہ دھکے اور دربدر کی ٹھوکریں برداشت کرناناممکن ہو کررہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ ضلع پاکپتن میں بابا فرید ؒ کے نام پر ایک سرکاری یونیورسٹی جیسے تعلیمی ادارہ کا قیام فوری طور پر عمل میں لایا جائے تاکہ پاکپتن کے نوجوان اپنے آبائی ضلع میں ہی اپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔

طلباء تنظیموں کے رہنما مستنصر کامران بلوچ،شہزاد احمد وٹو سمیت دیگر کا کہنا ہے کہ ہمارا حکومت سے ایک ہی مطالبہ ہے کہ ضلع پاکپتن میں ایک سرکاری یونیورسٹی قائم کی جائے تاکہ پاکپتن کے طلباء پاکپتن میں ہی اعلیٰ اور سستی تعلیم حاصل کرسکیں ،پاکپتن میں یونیورسٹی کے قیام سے ناصرف طلباء کے لیے آسانی ہوگی بلکہ پاکپتن کے باسیوں کے تعلیمی اخراجات بھی کسی حد تک ختم ہو جائیں گے۔

کنونیئریونیورسٹی بناؤتحریک پیر محمد سعید احمدچشتی نے کہا ہے کہ ریاست مدینہ میں تعلیم کو اولین ترجیح حاصل تھی پاک پتن شریف کے تاریخی خطے میں علم کی روشنی کے فروغ کیلئے یونیورسٹی قائم کرنے کیلئے موجودہ حکومت عملی کردار ادا کرے قیام پاکستان سے لیکرآج اعلیٰ معیار کی یونیورسٹی سمیت مقامی سطح پر اعلیٰ تعلیمی تقاضوں سے ضلع پاک پتن کے ہزاروں طلباوطالبات محروم ہیں تاریخی شہر میں فیضان اولیا ء حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے نام سے منسوب یونیورسٹی قائم کی جائے ا س کیلئے یونیورسٹی بناؤتحریک کے سلسلے میں صدر مملکت ، وزیر اعظم ، چیف جسٹس آف پاکستان ،وزیر اعلیٰ پنجاب کوخطوط لکھنے سمیت دستخطی مہم شروع کررہے ہیں یونیورسٹی نہ ہونے سے یہاں کے طلباوطالبات کو دوسرے اضلاع میں جانا پڑتا ہے

ضلع پاکپتن حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی نسبت سے بین الاقوامی شہرت کا حامل ضلع ہے مگر سرکاری یونیورسٹی جیسی بنیادی سہولت سے محروم اسی شہر کے باسی اعلیٰ تعلیم کے لیے دیگر بڑے شہروں کے دھکے کھارہے ہیں۔سرکاری یونیورسٹی جیسی بنیادی سہولت سے محروم پاکپتن کے نوجوان جہاں حکومت سے رحم کی اپیل کررہے ہیں وہیں انہی نوجوانوں کے والدین کی طرف سے یہی مطالبہ سامنے آیا ہے کہ حکومت فوری طور یونیورسٹی کا قیام عمل میں لائے تاکہ پاکپتن کے نوجوان در بدر کی ٹھوکریں کھانے سے محفوظ ہو سکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں