347

راہ محبت…قسط چہارم…..(افسانہ از ایشاء گل)

تحریر: ایشاءگل
قسط  چہارم

سابقہ قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

ناہید۔۔۔۔ناہید دروازہ کھولو مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
ناہید تم جواب نہیں دے رہی سو رہی ہو کیا یا جاگ رہی ہو جواب تو دے دو۔۔۔
اف یہ لڑکی بھی نا۔۔۔
فریحہ یہ کہہ کر پلٹنے لگی مگر ایک دم رک گئی کیوں کہ ناہید کی سسکیوں کی آواز باہر تک آ رہی تھی۔
ناہید تم رو رہی ہو کیا۔۔۔
ناہید میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں دروازہ کھولو۔
مگر ناہید نے ابھی بھی دروازہ نا کھولا۔
ناہید دروازہ کھولو ورنہ میں امی اور بابا کو بلا رہی ہوں۔۔۔فریحہ نے اسے دھمکی دی۔۔۔
امی اور بابا کے نام کی دھمکی کا اس پر خاطر خواں اثر ہوا اس نے جھٹ سے نا سہی مگر کچھ دیر میں ہی دروازہ کھول دیا۔
فریحہ نے اس کی لال ہوتی سوجی آنکھوں کو دیکھا جو کہ ابھی بھی بہہ رہی تھی تو اپنے دل پر ہاتھ رکھ لیا۔
میری گڑیا تم کیوں رو رہی ہو۔
فریحہ لاڈ سے اسے گڑیا کہہ کر پکارتی تھی۔
اس سے پہلے کہ فریحہ اس کے رونے کا کوئی اور مطلب لیتی ناہید نے فوراً اپنے پیر کی طرف اشارہ کیا جو کہ کانچ لگنے سے زخمی ہوگیا تھا اور اب اس میں سے خون بہہ رہا تھا۔
او میرے خدایا۔۔۔
ناہید یہ کیا کیا میرا مطلب ہے کہ یہ کانچ تمہیں کیسے لگا۔
اس سے پہلے کہ ناہید پھر کوئی اشارہ کرتی فریحہ کی نظر کھڑکی کے پاس پرے کانچ کے ٹوٹے گلدان پر پڑی۔
وہ گلدان جو ناہید نے غصے میں توڑا تھا اور پھر فریحہ کے آنے پر خود ہی اس پر پاؤں رکھ دیا تا کہ اسے ہر غلط فہمی سے دور رکھ سکے۔
(حلانکہ جو فریحہ کو ہوتی وہ غلط فہمی ہرگز نا ہوتی ) بہت لا پرواہ ہو تم ناہید اتنا بڑا زخم لگوا لیا اور اوپر سے دروازہ بند کیے بیٹھی ہو۔
چلو بیٹھو ادھر میں تمہاری بینڈیج کر دوں۔فریحہ نے اسے بیڈ پر بیٹھایا تو وہ کسی روبورٹ کی طرح چپ چاپ بیٹھ گئی۔
فریحہ نے پہلے اس کی بینڈیج کی اور پھر کانچ کے ٹکڑے صاف کے۔کچھ دیر بعد وہ پھر اس کے کمرے میں آئی اور اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی درد ہو رہا ہے ناہید۔۔۔۔۔
(کیسے بتاؤں کتنا درد ہو رہا ہے دل چاہ رہا ہے کہ چیخ چیخ کر کہوں کہ کوئی مجھے اس درد سے نجات دلا دے )
“ہاں بہت”۔۔۔
وہ مختصر بولی۔۔۔
ٹھیک ہو جاۓ گا ناہید۔۔۔۔
(نہیں یہ ٹھیک نہیں ہوگا یہ درد مجھے مار دے گا میرا دل بند ہو رہا ہے کچھ کرو )
“ہمم”۔۔۔
اتنی چپ کیوں ہو گڑیا کچھ بولو۔کیا بولوں فری (کچھ بولنے کو تو اب بچا ہی نہیں)
۔۔۔ارے کچھ بھی۔۔۔
خیر مجھے تم سے کچھ پوچھنا تھا۔۔
ناہید نے سر ہلایا۔۔۔
یعنی اجازت ہے پوچھو۔
تمہیں سب پتا تھا ناں کہ یشل کے گھر والے کیوں آ رہے ہیں وہ رشتہ مانگنے آرہے تھے اور تم اسی لئے اتنا خوش تھی۔۔۔۔
اوہ تو فری کو پتا لگ گیا کہ کیا ہوا نہیں اسے معلوم نہیں ہونا چاہیے تھا۔۔۔
تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں کہ وہ میرے رشتے کے لئے آ رہے ہیں تب ہی مجھ سے اتنا کچھ بنوا رہی تھی کھانے میں۔۔۔
سرپرائز دینا چاہتی تھی ناں تم مجھے۔۔۔
ناہید نے چونک کر اسے دیکھا۔۔۔
اوہ تو یہ اپنے رشتے کی بات کر رہی ہے میں سمجھی کہ۔۔۔۔
ویسے میں کس لئے خوش ہوتی رہی اور فری میری اس خوشی کو کیا سمجھے جا رہی ہے کب سے۔۔۔۔
مگر سچ تو یہ تھا کہ اب اسے فری کہ سامنے اسی چیز کا اعتراف کرنا تھا جیسا وہ سمجھ رہی تھی۔
ہاں فری میں چاہتی تھی تم کو سرپرائز دوں اور ساتھ امی اور بابا کو بھی۔بہت خوش ہونگے نا وہ۔۔۔؟
ہاں میری گڑیا بہت خوش ہیں وہ اتنا کہ میں بتا نہیں سکتی یہ تمہیں خود ہی دیکھنا پرے گا۔
اور تم۔۔؟؟ نجانے کیوں ناہید نے پوچھ ڈالا حالانکہ خوشی تو فریحہ کہ چہرے سے صاف وضع ہو رہی تھی۔
خوش کیوں نہیں ہونگی میں نا خوش ہونے والی کوئی بات ہی نہیں۔اور میری بہن نے مجھے اتنا اچھا سرپرائز جو دیا ہے خوش ہونا تو بنتا ہے ناں۔
ناہید نے اس کے پھول کی طرح کھلے چہرے کی طرف دیکھا اور پھر دیکھے گئی۔۔۔
( آخر ایسا کیا ہے تم میں فری جو مجھ میں نہیں ہے حالانکہ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ مجھ جیسی خوبصورت لڑکی کو تم سے اپنا موازنہ کرنا پر جاۓ گا مگر میں مانو یا نا مانو حقیقت تو یہی ہے کہ تم مجھ سے کہیں زیادہ خوبصورت ہو۔۔۔
(اے کاش میں بھی تم جیسی بن جاؤں )
ناہید کیا سوچنے لگی۔۔۔
کچھ نہیں۔۔
ناہید نے سوچوں سے نکلتے ہوئے کہا۔
میں خوش تو ہوں ناہید مگر اداس بھی کیوں کہ میں جانتی ہوں کہ امی اور بابا اب میری شادی میں دیر نہیں کریں گے مگر مجھے اتنی جلدی تم سب کو اور اس گھر کو چھوڑ کر نہیں جانا۔
لیکن اگر یہی بات میں ان کے سامنے کروں گی تو وہ کہیں گے کہ یہ جلدی نہیں ہے کیوں کہ ماں باپ تو چاہتے ہیں کہ انکی بیٹیاں جلد از جلد بیاہ کر اگلے گھر چلی جائیں اور۔
مگر میں تو اگلے جہاں چلی جاؤں گی مگر اگلے گھر نہیں جاؤں گی۔۔۔ناہید نے فری کو بیچ میں ٹوکتے ہوئے لقمہ دیا۔۔۔
مار کھاؤ گی تم مجھ سے جو اگر آیندہ ایسی بات کہی تو۔۔۔
فری نے کچھ اور ایموشنل ہوتے ہوئے ناہید کو گلے سے لگا لیا۔۔۔
ناہید اب اور رونا نہیں چاہتی تھی مگر رو پڑی لیکن اب کی بار آنسو بے آواز نکلے تھے۔
ناہید فری سے الگ ہوئی اور بولی۔پہلے کبھی مار کھائی ہے جو اب کھاؤں گی اور وہ بھی تم سے۔فری ہنس دی۔
نیچے سے معیز کی آوازیں آ رہی تھی۔۔۔۔۔
او چڑیل حسینہ نیچے آؤ کرکٹ کھیلیں۔۔۔
معیز بیڈ بال لئے آواز پر آواز دیے جا رہا تھا۔
تم آرام کرو میں ذرا اسے بتاؤں کہ چڑیل حسینہ کے پیر پر چوٹ آئی ہے تا کہ اس کی آوازیں بند ہوں۔
ناہید نے فری کے چڑیل حسینہ بولنے پر اسے ایک گھوری ڈالی جس پر وہ ہنستی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔
۔*************************
ناہید ابھی لیٹی ہی تھی کہ معیز چلا آیا۔
ڈیر کزن میں نے سنا ہے کہ تمہارے منہ پے۔۔۔
میرا مطلب ہے کہ تمہارے پیر پر چوٹ لگی ہے۔
ویسے کیسے لگی چوٹ۔۔۔
کہیں تم نے خودکشی کرنے کی کوشش تو نہیں کی تھی۔
ارے پاگل تمہیں پتا بھی ہے کہ خودکش حملہ پیر پر نہیں بلکہ اپنی دائیں یا پھر بائیں کلائی کو کاٹ کر کرتے ہیں۔
ویسے ہو تم کم عقل ہی۔۔
سنا ہے یہ کام کانچ سے ہوا ہے لاؤ دو وہ کانچ اب میں تمہاری نازک و ملائم کلائی پر اتاروں کہاں ہے وہ۔۔۔۔ارے کیا ہوا۔۔۔؟؟
معیز اپنی ہی جون میں بولے جا رہا تھا جب ناہید بے آواز رونے لگی اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسوؤں کو دیکھ کر معیز کی چلتی زبان کو بریک لگی اور وہ فوراً اس کے برابر آ بیٹھا۔
ناہید کیا ہوا تم یوں اچانک رونے کیوں لگی۔۔۔
(خاموشی)
ناہید ادھر دیکھو میری طرف۔
معیز نے اسکی تھوڑی کو چھوٹے ہوئے اسکا چہرہ اپنی طرف کیا تو اس کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا۔
تم روتی رہی ہو کیا۔۔؟؟
ہاں وہ۔۔۔وہ بس درد برداشت نہیں ہو رہا نا۔۔۔
ناہید نے بہانہ بنایا۔
معیز نے ایک گہری سانس کھینچی اور بولا۔
ناہید میں جانتا ہوں تم بہت نازک ہو ذرا سی چوٹ بھی تم سے برداشت نہیں لیکن اگر ایسا ہی رہا تو تم بڑی تکلیف کیسے برداشت کرو گی خود کو مظبوط بناؤ۔
یہ دنیا کمزوروں بزدلوں کے لئے نہیں ہے اور تمہیں
یعنی ناہید امان کو تو پوری دنیا فتح کرنی ہے ناں۔
آخر میں اس نے کچھ شرارت سے کہا تو ناہید دھیرے سے ہنس دی۔حالانکہ معیز کی پہلی ساری باتیں ٹھیک تھی سواۓ دنیا فتح کرنے کے۔
ویسے میں تمہارے پیر کو چھو کر دیکھ لوں۔
معیز نے انوکھی فرمائش کی۔
ناہید سمجھ گئی جب تک وہ اسکی تکلیف میں تھوڑا سا اضافہ نہیں کر دے گا اسے سکون نہیں آئے گا۔
سکون سے بیٹھی ناہید امان کو جب تک وہ بے سکون نا کر دے اسے چین نہیں آتا تھا اور اب تو ویسے بھی وہ پیر پر لگی چوٹ کی وجہ سے بیڈ ریسٹ پر تھی اب تو اسے اور بھی موقع مل گیا تھا اسے تنگ کرنے کا۔
معیز نے اس کی اجازت ملے بغیر ہی اس کے پاؤں کو دھیرے سے چھوا تو ناہید کے منہ سے سی کی آواز نکلی۔۔۔
ناہید نے معیز کی طرف دیکھا اور معیز نے ناہید کی طرف اور پھر دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگے۔
(اور اس کھلکھلاہٹ میں کس کی ہنسی خالص تھی اور کس کی بے نام یہ تو آپ کو معلوم ہی ہوگا)
۔*************************
شعیب اور شمسہ دونوں اپنے کمرے میں بیٹھے فریحہ کے بارے میں ہی بات کر رہے تھے کہ ریان چلا آیا۔
مجھے آپ دونوں سے کچھ بات کرنی ہے۔ریان نے آتے ہی کہا۔ہاں ریان بیٹھو۔
شعیب نے کہا۔
پاپا میں نہیں جانتا کہ آپ دونوں نے ناہید کی بہن۔۔۔۔
فریحہ نام ہے اسکا۔
شمسہ نے ٹوکا۔۔۔
جو بھی ہے ماما مگر میں نہیں جانتا کہ آپ نے اس میں کیا دیکھا کہ آپ کو اپنے بیٹے کی ہر خوشی بھول گئی بس یاد رہا تو اتنا کہ وہ بہت اچھی ہے مگر پاپا کیا میں برا ہوں جو آپ نے میرے ساتھ اتنا برا کیا۔
اس دنیا میں بہت سی اچھی لڑکیاں ہے تو کیا آپ جس جس کو بھی اچھا پائیں گے اسکی میرے ساتھ شادی کر دیں گے۔
ماما پاپا میں فریحہ سے شادی نہیں کرنا چاہتا اگر آپ کو ناہید پسند نہیں ہے تو ٹھیک ہے مگر میں اسکی بہن سے بھی شادی نہیں کروں گا۔۔۔
میں نے تمہاری پوری بات سن لی اب تم میری بات سنو۔
شعیب بولے۔
تمہاری ساری باتیں ٹھیک ہیں مگر یہ نہیں کہ تم برے ہو یا ہمیں تمہاری خوشیوں کا احساس نہیں بیٹا یاد ہے ناں تم نے کہا تھا کہ تمہارے لئے لڑکی ڈھونڈھنے کا اختیار تم ہمیں دینا چاہتے ہو کیوں کہ آپ جو بھی میرے لئے فیصلہ کرے گے وہ میرے لئے بہتر ہی ہوگا تو اب تمہیں یہ فیصلہ غلط کیوں لگنے لگا اب تم ہمیں اس حق سے محروم کیوں رکھنا چاہتے ہو۔
میں جانتا ہوں کہیں نا کہیں ہم شائد تمہارے ساتھ واقعی میں زیادتی کر رہے ہیں۔
مگر ہم تمہارا برا نہیں چاہتے ناہید اس بات سے انجان ہے کہ بچپن سے اس کی نسبت اس کے کزن سے طے ہے۔
اسکی خالا اور خالو نے بہت محبت اور مان سے یہ رشتہ مانگا تھا اور ناہید کے والدین بھی اس رشتے سے بہت خوش ہیں انکا کہنا ہے کہ معیز میں انکی جان ہیں وہ اتنا اچھا ہے کہ اگر اسکا کوئی اور بھائی بھی ہوتا تو وہ اسکا رشتہ خود فری کے لئے مانگ لیتے۔
وہ دل ہی دل میں ناہید کے لئے معیز کو چن کر بہت خوش ہیں۔
معیز بھی ناہید کو بہت چاہتا ہے آج سے نہیں بلکہ بچپن سے اور یہ بات فریحہ نے تمہاری ماں کو بتائی۔
اب بتاؤ تم معیز سے زیادہ کیا کوئی ناہید کو خوش رکھ سکتا ہے۔کیا ہم ناہید کا رشتہ معیز سے تڑوا کر تمہاری بات شروع کر دیتے بلفرض اگر ہم ایسا کرتے بھی تو وہ لوگ مانتے نہیں۔
فریحہ نے بتایا کہ ناہید کے سوا سب کو معلوم ہے کہ اسکی نسبت بچپن سے معیز سے طے ہے اس لئے تمہاری ماں نے تمہیں بتایا نہیں کہ کہیں تم ناہید کو بتا نا دو۔
ویسے بتا بھی دیتے تو کوئی بڑی بات نہیں تھی کیوں کہ اب وہ لوگ ناہید کو جلد یہ بتانے کا ارادہ رکھتے ہیں اسکی خالہ فریحہ کی شادی کے بعد باقاعدہ رشتہ لے کر آئیں گیں اور انگوٹھی پہنا کر جائیں گیں۔
تم ہی بتاؤ ریان بیٹا ان حالات میں ہم کیا کرتے۔
ہم نے اس لئے فریحہ کو اپنی بہو بنانے کا فیصلہ کیا ہاں یہ بھی سچ ہے کہ فریحہ کو دیکھتے ہی ہمیں وہ بہت اچھی لگی اور ہم ناہید کی طرف دیکھ ہی نا سکے لیکن میرا یقین کرو بیٹا اگر ناہید کی نسبت کسی اور سے طے نا ہوتی تو ہمیں فریحہ چاہے لاکھ بھی اچھی لگتی ہوں ناہید کو ہی اپناتے۔
ہمارے لئے تمہاری خوشی ابھی بھی سب سے پہلے ہے۔اور اب تو ہم زبان بھی دے چکے ہیں مجھے یقین ہے کہ تم میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرو گے اور مجھے مایوس نہیں کرو گے۔
شعیب جیسے بولتے بولتے تھک سے گئے۔
اور ریان۔۔۔۔اس پر تو جیسے حیرت انگیز انکشاف ہوا تھا یعنی ناہید بچپن سے ہی کسی اور کے نصیب میں لکھ دی گئی تھی اور میں اسے اپنا سمجھ بیٹھا۔
ریان ٹھنڈی آہ بھرتا ہوا اٹھا اور تھکے تھکے قدم اٹھاتا کمرے سے نکل گیا۔
۔**************************
شادی کی تاریخ رکھ دی گئی تھی کیوں کہ ریان نے اپنی رضا مندی ظاہر کر دی تھی۔
اس کے والدین تو بہت ہی خوش تھے۔ریان اگلے دن یشل کے کمرے میں گیا اور بولا۔۔۔
یشل میری ایک بات مانو گی۔۔۔
جی بھائی بولیں۔۔۔
تم مجھے معیز دکھا سکتی ہو۔۔۔۔
کون معیز کس کی بات کر رہے ہیں آپ۔۔۔
یشل کی تو سمجھ میں ہی نا آیا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
میں ناہید کے کزن کی بات کر رہا ہوں یشل کیا تم جانتی ہو اسے کیسا ہے وہ۔۔۔۔
اوہ اچھا بھائی آپ اس کے کزن معیز کی بات کر رہے ہیں اچھا ہے مگر آپ کیوں پوچھ رہے ہیں اسکا۔۔۔
کیا تم جانتی ہو یشل کہ ناہید بچپن سے اپنے کزن معیز کے ساتھ انگیجڈ ہے۔۔۔۔
کیا۔۔۔۔
یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھائی مجھے تو کبھی ناہید نے یہ نہیں بتایا۔۔۔یشل بے حد حیران ہوئی۔
اسے یہ بات خود بھی نہیں معلوم یشل ورنہ وہ میرے اسکی طرف بڑھتے قدموں کو ضرور روک لیتی اور پھر آج کے دن کی نوبت نا آتی۔تم بس مجھے یہ بتاؤ کہ میں معیز سے کیسے ملوں اسے کیسے دیکھوں۔
میں بس یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ وہ کیسا ہے کیا وہ واقعی میں ناہید کو مجھ سے بڑھ کر چاہتا ہے۔
بھائی یہ تو میں نہیں جانتی ہاں لیکن میرے پاس معیز کی تصویر ضرور ہے۔
دیکھنے کی حد تک تو وہ تصویر ہی بہت ہے لیکن اسے جاننے کے لئے وہ تصویر نا کافی ہے۔
اچھا تم مجھے تصویر ہی دکھا دو۔
ریان کے کہنے پر یشل نے اپنے موبائل میں موجود معیز کی تصویر اسے دکھا دی جسے دیکھ کر ریان کو حیرت کا جھٹکا لگا۔
کیوں کہ یہ وہ معیز تھا جسے ریان بہت اچھی طرح نا سہی مگر جانتا ضرور تھا۔
معیز حیدر کا دوست تھا اور حیدر ریان کا دوست تھا اس لئے بعض دفعہ اس کی حیدر کے ساتھ موجود معیز سے ملاقات ہو جاتی تھی۔حیدر کی شادی ہو چکی تھی اور اس کی لو میرج تھی۔
اور وہ اکثر معیز اور ریان کو چھیڑنے کی خاطر کہتا یار میری تم لوگ ایک نصیحت یاد رکھنا یا تو ساری زندگی شادی نا کرنا اور اگر کی بھی تو لو میرج نا کرنا اور اس بات پر وہ دونوں ہنس دیتے کیوں کہ حیدر اپنی ازواجی زندگی میں بہت خوش تھا۔
ویسے معیز یار مجھے کیا لگتا ہے کہ تیری قسمت میں لو میرج ہے ہی نہیں کیوں کہ نا تو تجھے کوئی لڑکی پسند آتی ہے اور نا ہی کسی لڑکی کو تو پسند آتا ہے۔
آخری جملہ حیدر نے آنکھ دباتے ہوئے شوخ لہجے میں کہا۔
آخر ایک دن معیز نے بتا ہی دیا کہ وہ چاہتا بھی نہیں کہ کوئی اسے اب پسند آئے یا کسی کو وہ۔۔۔
کیوں کہ بچپن سے اسکی نسبت اپنی کزن سے طے ہے اور وہ اسے بہت عزیز ہے۔
اور میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ میرے نام کے ساتھ اس کے علاوہ کسی کا نام جڑے اس لئے تم مجھے تنگ کرنا بند کرو کہ کوئی مجھے پسند نہیں آتا یا کسی کو میں۔۔۔۔
معیز نے کبھی اپنی کزن کا نام نا لیا اور نا ہی خود سے کبھی کوئی ذکر کیا مگر جب بھی حیدر کی باتوں کے ذریعے اسکا ذکر نکلتا تو معیز کا لہجہ بہت دھیما اور میٹھا ہو جاتا اور اسکی آنکھوں میں اپنی کزن کے لئے بے حد محبت دکھائی دیتی جس سے اسکی آنکھیں چمک اٹھتیں۔
اور جب کبھی بھی بیٹھے بیٹھے اسکی کزن کا فون آجاتا کہ مجھے یونیورسٹی سے لینے آجاؤ تو وہ فوراً بھاگتا ہوا ایسے جاتا جیسے کب سے اسی انتظار میں بیٹھا ہو کہ کب وہ بلاۓ۔۔۔۔۔
معیز کے بارے میں سوچتے ہوئے ریان نے ایک ٹھنڈی مگر پرسکون سانس بھری۔
وہ مطمئن تھا کہ ناہید کے لئے معیز جیسا انسان ہے ایک ایسا انسان جس میں اس نے ابھی تک خوبیاں ہی خوبیاں ہی دیکھی تھیں۔
وہ سنجیدہ مزاج تو تھا مگر جب مذاق کرنے پر آتا تو سب کو ہنسا ہنسا کہ رکھ دیتا۔
بولتا بہت ہی پیارا تھا ریان کا اپنے بارے میں یہ خیال تھا کہ وہی شائد سب سے اچھی آواز و لہجہ رکھتا ہے کیوں کہ سب ہی اسکی آواز کی تعریف کرتے تھے۔
مگر معیز جب بولتا تھا تو ریان کا دل کرتا تھا کہ اسے بلکل نا ٹوکا جاۓ۔
بات بات پے بحث کرنے کی اسے عادت نہیں تھی جب کبھی حیدر بحث شروع کرتا اور معیز کے کہنے پر بھی چپ نا کرتے تو وہ ان کے پاس سے اٹھ کے ہی چلا جاتا۔
معیز کی ہر وقت مذاق کرنے کی عادت صرف ناہید کے ساتھ ہی تھی کیوں کہ اسے تنگ کرنے میں معیز کو بہت ہی مزہ آتا تھا۔
ناہید اکثر بتاتی تھی کہ اسکا کزن معیز اسے بات بے بات چڑاتا رہتا ہے اسے تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا میں بہت تنگ ہوں اس معیز سے۔۔۔۔۔
بھائی کدھر گم ہو گئے آپ کیا یہ اتنا پیارا ہے کہ آپ اسے اب سارا دن ایسے ہی دیکھتے جائیں گے۔۔۔
یشل نے تصویر میں کھوۓ اپنے بھائی کا کندھا ہلاتے ہوئے کہا۔
آہاں۔۔۔۔ہاں یہ بہت ہی اچھا ہے اور پیارا بھی ویسے مجھ سے تین سال چھوٹا ہے یہ۔۔۔۔
اچھا ویسے یہ تصویر کہاں سے آئی تمہارے پاس۔۔۔۔
آ وہ بھائی۔۔۔وہ ناہید سے کچھ تصویریں منگوائی تھیں نا تو ساتھ یہ بھی سینڈ ہو گئی اس سے۔
یشل نے اپنا موبائل اس سے لیتے ہوئے ہکلا کر کہا۔۔۔۔
ریان سر ہلاتا ہوا اس کے کمرے سے نکل گیا کیوں کہ اب اسے اپنے والدین کو اپنے فیصلے سے آگاہ کرنا تھا۔۔۔۔۔
ویسے آپ سوچ رہے ہونگے کہ کیا واقعی میں معیز کی پک ناہید سے غلطی سے سینڈ ہو گئی تھی۔۔۔۔۔
سوچئے سوچئے۔۔۔
۔*********************
ناہید کی آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی۔
وہ چاہ کر بھی آنکھیں بند نہیں کر پا رہی تھی کیوں کہ آنکھیں بند کرتی تو ریان کا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے ٹھہر جاتا۔
وہ خود کو لاکھ روکنے کے باوجود بھی ریان کے بارے میں سوچنے لگی۔۔۔
اہم اہم کیسی ہیں محترمہ۔۔۔
ریان نے ناہید کے پاس آتے ہوئے کہا۔
یشل میم کے آفس میں تھی تو ناہید باہر گیٹ پر کھڑی ہو کر اس کا انتظار کرنے لگی۔
تب ہی ریان جو یشل کو لینے آیا تھا اس کے پاس چلا آیا۔
میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں۔۔۔
میں تو بہت اچھا ہوں محترمہ۔۔۔
میرا نام ناہید ہے ریان۔۔۔
ناہید نے ذرا تیز لہجے میں کہا تو ریان فوراً بولا۔۔۔۔
اوہ معافی چاہتا ہوں ناہید جی۔۔۔
ناہید ریان کے اس انداز پر ہنس دی۔
ویسے ہنستی ہوئی اور بھی خوبصورت لگتی ہو۔۔۔۔ہنستی رہا کرو۔۔۔ویسے آپس کی بات بتاؤں ہنستی ہوئی تم جتنی اچھی لگتی ہو اس سے بھی کہیں زیادہ اچھی تو تم غصے میں لگتی ہو۔۔۔۔
اس بات پر ناہید ہنسنے لگی تو ریان بھی اس کی یہ ہنسی دیکھ کر مسکرا دیا۔
کیا بات ہے اکیلے ہی اکیلے مسکرایا جا رہا ہے۔
فریحہ ناہید کے کمرے میں آئی تو اسے مسکراتے پایا۔
ناہید فریحہ کی موجودگی سے چونکی اور اس سے بھی کہیں زیادہ وہ اسکی بات پر چونکی۔
کیا میں مسکرا رہی تھی اف ریان کیا کر دیا ہے تم نے مجھے۔۔۔۔
تمہیں کوئی کام تھا فری۔
ناہید کو نجانے کیوں فریحہ کی موجودگی سے الجھن ہونے لگی۔
شائد اس لئے کہ آج اگر فریحہ کی جگہ ناہید ہوتی تو اسے ریان کو اس طرح تکلیف کے ساتھ یاد نا کرنا پڑتا اور وہ دل ہی دل میں آنسو بہانے کی بجاۓ آج ریان سے بات کرتی ہوئی خوشی سے جھوم رہی ہوتی۔
ناہید اپنی کیفیت سمجھ نہیں پا رہی تھی کبھی اسے فریحہ کی خوشی اچھی لگنے لگ جاتی تو کبھی اس کی خوشی سے جلن سی ہونے لگ جاتی۔۔۔
نہیں کام تو کوئی نہیں تھا بس تمہارے کمرے میں پانی رکھنے آئی تھی۔
ناہید نے دیکھا کہ فریحہ کے ہاتھ میں پانی کی بوتل تھی جسے وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر اسے جلدی سونے کی تلقین کر کے دروازہ بند کرتی ہوئی نیچے چلی گئی۔
پانی کو دیکھتے ہی ناہید کو محسوس ہوا کہ اس کا گلا بے حد خشک ہو رہا ہے اس نے جلدی سے بوتل پکڑی اور پانی پینے لگی اور پھر ایک ہی سانس میں آدھی بوتل پی گئی۔
مگر پھر بھی ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے گلے میں کانٹے لگ گئے ہوں جو کہ مسلسل چبھے جا رہے تھے۔
اس سے پہلے کہ وہ دوبارہ ریان کے خیالوں کو ذہن میں لا کر تکلیف زدہ ہوتی اس کا موبائل بج اٹھا۔معیز کی کال آ رہی تھی۔
مگر اس نے رسیو نا کی۔
معیز کی کال پھر سے آنا شروع ہو گئی۔
بار بار کاٹنے کے بعد بھی جب معیز باز نا آیا تو ناہید کو کال اٹھانی ہی پڑی۔
اس نے کال اٹھائی اور کچھ نا بولی۔
ڈیر کزن کیسی ہو کیا کر رہی ہو میں نے یہ پوچھنے کے لئے فون کیا تھا کہ پاؤں کا درد اب کیسا ہے اگر کم ہوگیا ہے تو مجھے بتاؤ میں دوبارہ تمہارے پاؤں کو اسی حالت میں لا سکتا جیسا وہ تازی تازی چوٹ لگنے کے بعد تھا اور۔۔۔۔اوہ سوری اسلام و علیکم۔۔۔۔
معیز کو بات کرتے کرتے اچانک ہوش آئی کہ سلامتی تو اس نے ناہید پر بھیجی ہی نہیں۔
ہوگیا تمہارا اب میں فون رکھوں۔
سلام کا جواب دینے کے بعد ناہید بولی۔۔
بہت جلدی ہے تمہیں مجھ سے جان چھڑانے کی لیکن یہ بات تم ہمیشہ یاد رکھنا کہ تم جتنا مجھ سے دور بھاگو گی میں اتنا ہی تمہارے پیچھے آؤں گا کیوں کہ معیز سے جان چھڑوانا ممکن ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہے۔
معیز نے شرارت سے کہتے ہوئے فون رکھ دیا۔
ناہید اس کے اور اپنے رشتے سے واقف نا تھی اگر واقف ہوتی تو معیز کی اس بات کا مطلب بخوبی سمجھ جاتی اور اسکا سر پھاڑ دیتی۔
۔**********************
جاری ہے۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

راہ محبت…قسط چہارم…..(افسانہ از ایشاء گل)” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں