542

بند دریچوں کے قیدی….(قیوم خالد)

تحریر: قیوم خالد (شکاگو)

وہ موقع کی تاک میں تھا۔ دروازہ کُھلا پاکر وہ اندر گُھس آیا۔ اندر آتے ہی اُسے پتہ چل گیا کہ جو کُچھ اُس نے سوچ رکھا تھا غلط تھا۔ جو کُچھ اُسے باور کرایا گیا تھا وہ غلط تھا۔ اُس کے مُصاحبوں نے اُسے بتایا تھا کہ یہ عِمارت کِسی بھی لمحہ زمین بوس ہوسکتی ہے۔ دیواروں میں دراڑیں پڑگئیں ہیں اور چھت بھی شِکستہ ہے۔ اُس نے اُن لوگوں کی بات کا یقین کرلیاتھا۔ اُن دِنوں وہ ایک ایسی عمارت میں رہتا تھا جہاں صِرف اُس کی اپنی آواز کی بازگشت سنائی دیتی تھی یاپھر مُصاحبوں کی تعریف و توصیف۔ مُصاحب باربار اُس کی قدآوری کا یقین دِلاتے تھے اور دوسرے لوگوں کو بوناظاہر کرنے میں مصروف رہتے تھے۔

اُس نے نظریں گُھما کر کمرے کا جائزہ لیا۔ کمرے میں خُوبصورت قالین بِچھا ہُوا تھا۔ کھڑکیوں پر قیمتی پردے لگے ہوئے تھے۔ فرنِیچر بھی قیمتی تھا۔ بیچ کی میز پر ایک کانچ کا گُلدان رکّھا ہوا تھا جو بالکل خالی تھا۔ خالی گُلدان دیکھ کر وہ مُسکرا پڑا، ہونے والی کامیابی کے تصّورنے اُسے سرشار کردیا۔ مُجھے ضرور کامیابی ہوگی۔ اُس نے اپنے آپ سے کہا۔ وہ آجکل اپنے آپ سے بات کرنے کا عادی سا ہوگیا تھا۔ ایک زمانہ وہ تھا جب وہ آدھا جُملہ بھی نہیں کہہ پاتا تھا کہ مُصاحب اُس کے جُملے اُچک لیتے تھے۔ ’’جی ہاں جی ہاں سرکار آپ نے بالکل صحیح فرمایا۔ لیکن وقت بدل چکا تھا۔ اب وہ تنہا تھا۔ مُصاحبوں کو نئے آقا مِل گئے تھے۔ وہ جاچُکے تھے۔

’’ آپ کی تعریف‘‘۔ ایک آواز نے اُس کے خیالات کا تسلسُل توڑ دیا جِس سے وہ مِلنے آیا تھا۔ وہ سامنے کھڑا تھا لیکن یہ آپ کی تعریف؟ اُس کی مُسکراہٹ ادھوری رہ گئی اور وہ بے یقینی سے اُس کا چہرہ پڑھنے لگا۔

آپ نے مُجھے نہیں پہچانا ۔۔۔ میں ۔۔۔میں اُسنے اٹکتے اٹکتے جُملہ پورا کرنے کی کوشش کی۔ کہیں میرا چہرہ تو نہیں بدل گیا۔ اُس کے شکّی ذہن نے سوچا۔ اُس نے جلدی سے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور مُطمئن ہوکر کِھسیانی سِی ہنسی ہنسنے لگا۔
یہ کیسا عجیب آدمی ہے۔ وقت نے اُسے دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلا کرڈالا ہے اور یہ صرف چہرہ پر ہاتھ پھیر کر مُطمئن ہُوا جارہا ہے۔دُوسرے آدمی نے سوچا۔

دُوسرے آدمی نے اُسے پہچان لِیاتھا۔ نہ پہچاننے کا کوئی سوال ہی نہ تھا۔ ایک وقت وہ تھا جب وہ خُود اِس آدمی کے سامنے کھڑا تھا‘ سوالی بنکر۔ وقت نے اُسے ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کِیاتھا جہاں پر راہیں دُھند لی تھیں اور پگڈنڈیاں خاردار۔ زندگی اُلجھی اُلجھی ہوئی تھی، بے معنویت کی حد تک۔ پھر ایک دِن اُس کے دل کے بے رنگ و بُو نہاں خانوں میں ایک کلی رنگ بِکھیر گئی۔ اُس کی بے ربط سانسوں میں مہک سی بس گئی۔ جب حالات اُس کے بس سے باہر ہوگئے اور اُسے یقین ہوگیا کہ اگر اُس نے کچھ نہیں کیا تو بِالکُل بِکھرجائے گا‘ وہ آنے والے آدمی کی حویلی میں پہنچ گیا تھا۔ وہ آدمی اُس کلی کا نِگہباں تھا۔ بڑی عجیب سی حویلی تھی۔ دِیوان خانہ میں بیس برس پُرانا ایک کلینڈر لٹکا ہوا تھا اور دِیوان خانہ میں وہ تنہا نہیں تھا۔ اُس کے بہت سے مُصاحب تھے جو اُسے تجسس بھری نظروں سے گُھورنے لگے تھے۔

’’میرے خوابوں کی شبنمی تعبیریں آپ کے پاس مُقّید ہیں‘‘۔ اُس نے کہا تھا۔
لیکن اُس آدمی نے کوئی جواب نہیں دیا۔ بس اُسے ایسی بے حِس نظروں سے دیکھنے لگا جیسے اُس کا کوئی وجُود ہی نہ ہو یا پھر کانچ کا بنا ہُوا ہو۔ جِس کے آر پار دیکھاجاسکتا ہو۔ پھر اُس نے اپنی جیب سے ایک کاغذ نکالا تھا۔ یہ میری تقدیر کی تحریر ہے جسے میں خُود اپنے ہاتھ سے لِکھنے کی کوشش کررہا ہُوں۔ یہ بے معنی ہوتی جارہی ہے۔
اِس میں مفہُوم پیدا کرنے کے لئے بس ایک لفظ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ وہ لفظ عنایت فرمائیں تو ممنُون ہُونگا‘‘۔ اِس بار بھی اُس آدمی نے کوئی جواب نہیں دِیاتھا۔ خامُوشی سے اُس نے کاغذ لے لیا اور تحریر کو کاٹ دیا اور اُسے تیکھی نظرو ں سے دیکھنے لگا جیسے کہہ رہا ہو ابھی اور کچھ کہناہے۔

’’ میرے گھر کا آنگن سُونا سُونا ہوتا جارہا ہے‘‘۔ اُس کی ویرانی آپ دُور کرسکتے ہیں۔ آپ کے باغ میں ایک کلی ہے۔ اگر آپ وہ کلی مُجھے دیدیں تو میں اپنا گُلزار بنالوں گا۔ یہ سوال سُن کر گُلدان میں سجے ہوئے کاغذ کے پھول کھنک اُٹھے تھے۔ اُن کے قہقہوں کی کاٹ اُسے آج بھی یاد ہے۔ وہ آدمی بدستور خامُوش رہا بس حِقارت بھری نظروں سے اُسے دیکھتا رہا۔ اُس کے ایک موقع شناس مُصاحب نے آگے بڑھ کر اُس سے کہا۔ برخُوردار اپنے خوابوں کی تعبیر تک کے لئے آپ دُوسروں کے محتاج ہیں۔ آپ کس مُنہ سے کلی مانگنے چلے آئے۔ کبھی آئنہ دیکھا ہے۔ ایک اور مُصاحب نے ایک آئنہ لے کر اُس کے چہرے کے آگے کردیا۔ وہ آئنہ بھی عجیب تھا۔ اچھا خاصہ چہرہ کر یہہ لگ رہا تھا۔ قُصور چہرے کا نہ تھا آئینہ کا تھا پھر بھی وہ سمجھ گیا کہ اب اس آدمی سے کُچھ کہنا فُضول ہے۔ وہ اِس آئنہ میں اپنا چہرہ دیکھنے کا عادی ہے۔ اپنا بگڑا ہوا عکس دیکھنے کے بعد اُس سے ایک مِنٹ بھی وہاں ٹھہرا نہیں جاسکا۔ اُس کے باوجُود اُن لوگوں نے اُس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔ اُس کے پیچھے طنز کے کُتے دوڑائے گئے جو قہقہہ لگاتے ہوئے بے تحاشہ اُس کا پیچھا کررہے تھے۔ وہ اپنی خُودداری کو بچانے کے لئے بھاگنے پر مجبور ہوگیا تھا۔ جب وہ باہر نکلا تو پَت جھڑکا موسم تھا کہیں کوئی سایہ نہ تھا۔ اور وہ تنہا تھا۔

اُس کے بعد اُس نے اپنی تقدیر نئے سِرے سے لکھی۔ بڑی تدبیر سے اُسے ایسے لفظوں سے سجایا کہ مانگنے کے لفظوں کی حاجت نہ رہے۔ لیکن اُس کلی کی یاد کانٹے کی طرح دِل میں کھٹکتی رہی۔ اُس نے تپتی ہوئی ریت پر چل کر اپنی شخصیت کی تکمیل کی۔ پاؤں کے آبلوں کا کرب اُس کی پہچان کا اک جُز بن گیا۔ پھر بھی وہ کبھی کبھی اپنے آپ کو ادھُورا ادھُورا سا لگتا۔ زخموں کی تشنگی ہونٹوں کے مرہم کو ترستی اور آج اُسے اپنی تکمیل کا موقع ملا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ وہ آدمی اب کس لئے آیا ہے۔ لیکن اب وہ ادھُورے پن کی کربناک لِذّت کا عادی ہوچکا تھا۔ تکمیل کی خواہش میں اب و ہ شِدّت باقی نہیں رہی تھی۔ ویسے بھی ہر زندگی اپنی جگہ مُکمّل بھی ہے اور ادھُوری بھی اور یہ اِس بات پر مُنحصر ہے کہ اُسے کس زوایہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہ زِندگی ہے کیا؟ چند زاویوں کا کھیل ہی تو ہے۔ جینے کے لئے تشنگی کا احساس بہت ضروری ہے۔ تشنگی مِٹانے کی تگ و دو ہی زندگی ہے اور سیرابی بے حِسی کی دُوسری شکل۔ وہ جان چُکا تھا کہ مُکمّل ہوجانے کا دوسرا نام موت ہے۔ جس دن وہ ہر طرح سے مُکمّل ہوجائے گا وہ زندگی کا آخری دِن ہوگا۔

’’کیسے آنا ہوا‘‘ اُس نے پُوچھا۔
’’مجھے ایک لفظ درکار ہے‘‘۔ آنے والے نے کہا
’’وہی لفظ‘‘ اُس نے سرد لہجے میں پُوچھا۔
’’ہاں!‘‘
’’ کِس لئے‘‘ ۔۔۔۔۔۔؟کیا گُلدان میں رکھے رکھے وہ کلی مُرجھانے لگی ہے۔ کلی کازمیں سے رِشتہ توڑ کر آپ نے یہ سمجھا تھا کہ آپ اُس کے لئے ایک نئی تقدیر لکھنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ آپ یہ بُھول گئے تھے کہ گُلدان میں سجی ہوئی کلیاں تو بہت جلد مُرجھا جاتی ہیں۔ اپنی آنکھوں سے اُس کے خواب دیکھنے چلے تھے۔ آپ کی آنکھیں تو زخمی ہُوئیں اُس کے خواب بھی چِکناچُور ہوگئے۔ آپنے کبھی کلی کے خوابوں کے بارے میں نہیں سوچا۔ آپ نے مری تحریر کاٹ دی تھی لیکن وہ ایک لفظ نہیں دیا تھا۔ میں نے ایک نئی تحریر لکھ لی ہے۔ اُس میں بہت کچھ ایسا ہے جیسا نہیں ہونا تھا لیکن اب کُچھ بھی نہیں ہوسکتا۔ اگر آپ وہ لفظ تب مُجھے دے دیتے تو بہت کُچھ مُختلف ہوتا۔ اب میں بھی وہ لفظ آپ کو نہیں دے سکتا۔ میں نے وہ لفظ کسی اور کو دے دیا ہے اور میں اپنے فیصلوں کا پابند ہوں۔ اُس نے گُلدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ گُلدان ویران ضرور ہے لیکن میرا آنگن سُونا نہیں ہے۔ پھر اُس نے ایک دریچہ کھولا جو آنگن میں کھلتا تھا۔ ’’ وہ دیکھئے نئی کونپلیں‘‘۔
اُس آدمی کا چہرہ لٹک گیا اُسے ایسے محسوس ہوا جیسے کسی نے اُس کے چہرے پر مکڑی کا جال بُن دیا ہے۔ وہ مرے ہوئے قدموں سے جانے واپس جانے لگا۔

’’ٹھیریئے‘‘ ۔ اُس نے آواز دی۔ پھر اپنے دِل کی قبا سے خاروں کا ایک دستہ نکالا اور اُسے دیتے ہوئے کہا۔ آپ بند دریچوں کے قیدی ہیں لیکن یہ لیتے جایئے تاکہ آپ کے کاغذ کے پُھولوں کو یہ معلوم ہوجائے کہ چُبھن کیا ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں