318

مقبوضہ وادی کشمیر….. (میاں رضوان انور، چیچہ وطنی)

تحریر: میاں رضوان انور.چیچہ وطنی.

مقبوضہ وادی کشمیر پر آج 70 سال سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے بھارت اپنا غاصبانہ قبضہ جمائے ہوئے ہے.بھارت نے اپنی سات لاکھ فوج کشمیر کے محاذ پر بھیج دی.ادھر سے بانی پاکستان محمد علی جناح نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ بھارت کے خلاف میدان میں اتریں لیکن کمانڈر جنرل گریسی نے قائد کے اس حکم کو ماننے سے انکار کردیا.لیکن کچھ عرصہ بعد پاکستان کی فوج اور قبائلی مجاہدین نے میدان میں قدم رکھا اور بھارتی افواج کو روندتے ہوئے علاقوں کے علاقے فتح کرتے سرینگر پہنچ گئے لیکن بھارت سرکار کو جان کے لالے پڑگئے ان کو اپنا غاصبانہ قبضہ خطرے میں نظر آنے لگا.انہوں نے اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل سے جان کی امان کی بھیک مانگنے کا ارادہ کیا.اقوام متحدہ مسلمانوں کا سگا ہوا ہی نہیں کبھی اور نا ہی ہوگا.اقوام متحدہ نے بھارت کی آہ و بکا پر لبیک کہا اور دونوں ملکوں سے جنگ بندی کا کہا اور یہ کہا کہ ہم استصواب رائے کا انتظام کریں گے.سلامتی کونسل کے مطابق جنگ بھی بند ہوگئی لیکن بھارت سرکار کو کھلی چھٹی مل گئی وجہ بھارت رائے شماری کے معاملے کو ٹالتا رہا اور اقوام متحدہ جس کے بارے میں میں نے پیچھے ذکر کیا اگر مسلمانوں کا مسئلہ تو خاموش رہتا ہے اگر اپنے پیٹی بھائیوں کا مسئلہ ہو تو کھل کر پیش قدمی کرتا ہے یہاں بھی اقوام متحدہ نے خاموشی سے کام لیا اور بات یہاں تک پہنچ گئی بھارت رائے شماری کے فیصلہ سے مکر گیا اور دوسری طرف کشمیر میں قتل عام کا سلسلہ تیز کردیا جو آج تک جاری ہے.کشمیریوں نے ہمیشہ سے پاکستان کے ساتھ رہنے کا اعلان کیا اور وہ اس پاکستان کے پرچم اور پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کی وجہ سے اپنی جانیں پیش کرچکے ہیں.کشمیری قیادت صرف اس وجہ سے نظر بند ہے,جیلوں میں پابندسلاسل ہے اور زندانوں میں اپنے زندگی کے ایام گزارنے پر مجبور ہیں کہ ان کا جرم یہ ہے وہ اپنی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے ہیں.کشمیری حریت پسند رہنماءآپا جی آسیہ اندرابی جنہوں نے قسم اٹھا رکھی ہے کہ جب تک جسم میں جان ہے خون کے آخری قطرے تک پاکستان کے ساتھ رہیں گے ہمارا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے.یقیناً ہم 6ستمبر,23 مارچ اور اپنے دیگر قومی دنوں سے نا آشنا تھے ہم بھول چکے تھے لیکن ہماری یہ بہادر ماں پاکستانی پرچم لہرا کر ترانے پڑھ کر اظہار یکجہتی کرتی ہے.وہ بہادر ماں جس کے خاوند ڈاکٹر قاسم فکتو کو پاکستان کی حمایت پر کتاب لکھنے کے جرم میں پابند سلاسل کیا جاتا ہے.سید علی گیلانی کی طرف دیکھ لیجئے 80ءسال کی عمر ہے یہ دن بستر پر آرام سے زندگی گزارنے کے ہوتے ہیں لیکن یہ مرد مجاہد دن رات آزادی کے لیے میدان میں برسر بیکار ہے اور اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ اسلام کی نسبت سے قرآن کی نسبت سے ہم پاکستانی ہیں پاکستان ہمارا ہے۔اگر شبیر احمد شاہ کو دیکھیں تو حج عمرہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ انڈین پاسپورٹ پر سفر نہیں کرسکتے کیونکہ وہ کشمیر کو انڈیا کا حصہ تسلیم نہیں کرتے۔یہ تو کشمیری بزرگ تھے جنہوں نے اس تحریک کو روح پھونکی۔شہادتوں کے سفر بڑھتے چلے جاتے ہیں بھارتی فورسز حزب المجاہدین کے مجاہد خالد وانی کو شہید کردیتی ہیں ۔خالد کا بھائی اپنے بڑے بھائی کا انتقام لینے کے لئے قلم کو پھینک کر ہتھیار تھام کر میدان کارزار میں قدم رکھتا ہے اور سوشل میڈیا پر نوجوانوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ کشمیر کی آزای تم پر قرض ہے اس کو تم نے نبھانا ہے ۔بھارتی فوج اس کو ڈھونڈنتی ہے لیکن وہ ان کی نظروں میں نہیں آپا تا لیکن خالد وانی کے چھوٹے بھائی کی سر کی قیمت لگادیتی ہے ۔خالد کا بھائی کشمیر کے نوجوانوں کا ہیرو بن چکا تھا کشمیری نوجوان سینکڑوں کی تعدادمیں روز تحریک آزادی میں شامل ہورہے تھے لیکن خالد شہید کے بھائی کی خالد سے ملاقات کا وقت آچکا تھا ۔وہ بھارتی فوج کے نرغے میں آگیا اور شہادت کے رتبہ پر فائز ہوگیا۔خالد وانی کا بھائی جسے آج سب برہان وانی شہید کے نام سے جانتی ہے ۔برہان کی شہادت نے کشمیر کی جنگ کا پانسہ پلٹ کہ رکھ دیا ۔برہان کے جنازے پرلاکھوں کی تعداد میں لوگ شریک ہوئے اور برہان کی شہادت کی بعد ہزاروں کی تعداد میں نوجوان مجاہدین کی صف میں شامل ہوئے۔کشمیر میں حالات اتنے کشیدہ ہوگئے بھارتی حکومت بوکھلاگئی اور پیلٹ گن کا استعمال کیا جس پر عالمی دنیا میں پابندی ہے۔ہزاروں کی تعداد میں اس پیلٹ سے بچوں ،عورتوں ،نوجوانوں اور بوڑھوں کو زخمی کیا گیا ۔کشمیر میں انٹرنیٹ پر پابندی لگادی گئی۔کشمیر کی آزادی کی تحریک کا رخ بدل چکا ہے آج بھارتی فوج اس قد ر خوفزدہ ہے کہ کیمیائی ہتھیار استعمال کررہی ہے اور ننھی ھبہ جیسی معصوم بچیوں کو پیلٹ کا نشانہ بنا رہی ہے۔روزانہ ہزاروں کے حساب سے لاشیںگرتی ہیں جن میں اعلی تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل ہیں ۔ان کا جرم یہی ہے وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور پاکستان کے حق می نعرے بلند کرتے ہیں روزانہ پاکستانی پرچم کی حفاظت کے لئے لاشیں گرتی ہیں ہمیں اس پرچم کی قدرکا اندازہ نہیں اس کا اندازہ ان کشمیریوں کو ہی ہے جنہوں نے اس کے لئے جان دی۔قربانیوں کا یہ سلسلہ ستر سال سے جارہی ہے اور ہم اس ظلم کی یاد میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک دن مناتے ہیں وہ آج کا دن یعنی پانچ فروری ہے ۔میرا سوال ہے کیا ایک دن منانے سے کشمیریوں پر اس ظلم کا مداوا ہوجائے گا ۔صرف چند تنیظمیں جماعة الدعوة ،تحریک آزادی کشمیراور جماعت اسلامی وغیرہ سارا سال کشمیر کے مسئلہ کو اجاگر کرتے ہیں ۔تحریک آزادی جموں و کشمیر نے بھی فروری کے آغاز میں جاگ اٹھا کشمیر کے نام سے مہم کا آغاز کیا جو اس وقت ٹویٹر میں مین کردار ادا کررہی ہے ۔اس کے علاوہ مختلف اضلاع میں ساہیوال بہاولنگر،قصور ،ملتان ،فیصل آباد اورراولپنڈی اور چیچہ وطنی میں آل پارٹیز کانفرنسز کا آغاز بھی کیا گیا۔ذرا سوچئے جہاں روزانہ پاکستان کی خاطر لاشیں گرتی ہیں ان کی اظہار یکجہتی کے لئے ایک دن منالینا کافی ہے کیا یہ کشمیری تنظیموں کا کام ہے۔۔آخر کب تک یہ ظلم چلتا رہے گا ۔۔آخر کب تک کشمیر مٰیں خون کی ندیاں بہتی رہیں ۔ضرور سوچئے گا کیا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ایک دن کافی ہے۔۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں