365

پلوامہ حملہ…. کیا یہ را کا ڈرامہ تھا؟

مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں بھارتی فوج کے قافلے پر خودکش فدائی حملہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے بھارتی قیادت، ہندو شدت پسندوں اور خاص طور پر بھارتی میڈیا کو بُری طرح بدحواس کردیا ہے اور یہ سب مل کر پاکستان پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ پاکستان کو اس حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جارہا ہے۔ بھارت نے نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے باضابطہ طور پر احتجاج کیا ہے اور اسلام آباد میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو مشاورت کے لیے نئی دہلی واپس بلالیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستان نے بھی بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ میں طلب کرکے بھارت کی بے بنیاد الزام تراشی پر شدید احتجاج کیا ہے اور بھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کسی ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزام لگانے کا سلسلہ بند کرے۔ دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کا ردعمل ہے جس کا پاکستان سے کیا تعلق؟ جس مبینہ جہادی تنظیم جیش محمد نے حملے کی ذمے داری قبول کی ہے پاکستان میں اس پر اور اس کے علاوہ دوسری تمام جہادی تنظیموں پر پابندی ہے۔ البتہ یہ ساری تنظیمیں مقبوضہ کشمیر میں زیر زمین کام کررہی ہیں اور کشمیری نوجوان ان میں شامل ہو کر قابض بھارتی فوج کو ناکوں چنے چبوارہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ نوجوان عادل ڈار بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ آکر 2 سال پہلے جیش محمد میں شامل ہوا تھا اور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے دشمن سے انتقام لینے میں کامیاب رہا۔ اس کے والد کا کہنا ہے کہ وہ کبھی پاکستان نہیں گیا اور نہ کسی پاکستانی سے اس کا رابطہ تھا۔ مقبوضہ کشمیر میں زیر زمین موجود تمام جہادی تنظیمیں اپنے وسائل سے بھارتی فوج کا مقابلہ کررہی ہیں، اس حملے میں جو بارود استعمال ہوا وہ بھی بھارت کا تھا، اس کا اعتراف خود ایک بھارتی کمانڈر نے کیا ہے۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ کئی سال پہلے ممبئی میں دہشت گردوں کا حملہ ہوا تھا جس میں یہودیوں سمیت متعدد سویلین مارے گئے تھے۔ اس واردات نے پورے بھارت کو ہلا کر رکھ دیا تھا، بھارت نے فوراً اس کا الزام پاکستان میں حافظ محمد سعید کی جماعت پر لگادیا۔ حملہ آوروں میں سے اجمل قصاب نامی جو نوجوان زندہ پکڑا گیا اس کے بارے میں دعویٰ کیا گیا کہ وہ پاکستانی باشندہ ہے، ایک پاکستانی ٹی وی چینل تو اس کے ’’گاؤں تک جا پہنچا تھا‘‘ لیکن اسے پھانسی دیے جانے کے بعد خود بھارتی میڈیا نے یہ انکشاف کیا کہ اجمل قصاب بھارتی باشندہ تھا اور ثبوت کے طور پر اس کے بھارتی ڈومیسائل کا عکس بھی میڈیا میں شائع کیا گیا تھا۔ یہ بات بھی میڈیا میں آچکی ہے کہ اجمل قصاب کو نیپال سے پکڑا گیا تھا اور وہ 2 سال سے ’’را‘‘ کی تحویل میں تھا کہ اس دوران ممبئی میں حملہ ہوگیا اور اجمل قصاب کو اس حملے کے ایک زندہ کردار کے طور پر منظر عام پر لے آیا گیا۔ ممبئی حملے کے بارے میں خود بھارت نے ایک دیانتدار ہندو پولیس افسر ہیمنت کُرکُرے نے اصل حقائق سے پردہ اُٹھایا تو اسے پُراسرار طریقے سے قتل کردیا گیا۔ اس طرح تمام تر پردہ پوشی کے باوجود یہ بات چھپ نہ سکی کہ ممبئی حملہ خود بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کا خونیں ڈراما تھا جس کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کو دہشت گرد ثابت کرنا اور اس کی اقتصادی ناکہ بندی کرنا تھا۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو پلوامہ حملے کے اردگرد بھی شکوک و شبہات کے سایے منڈلارہے ہیں۔ عادل ڈار جو اس حملے کا مرکزی کردار ہے اس کے بارے میں سری نگر کے روزنامہ ’’کشمیر ٹائمز‘‘ نے انکشاف کیا ہے کہ وہ 2 سال سے سیکورٹی فورسز کی تحویل میں تھا، اس کی جو ویڈیو وائرل ہوئی ہے تجزیہ کار اس پر بھی شک کا اظہار کررہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بیان اس سے دلوایا گیا ہے اور اس کے ذریعے ’’جیش محمد‘‘ سے اس کا تعلق جوڑا گیا ہے۔ آزاد ذرائع کسی جہادی تنظیم سے عادل ڈار کے تعلق کی تصدیق نہیں کرتے۔ البتہ یہ بات طے ہے کہ وہ بھارتی فوج کے مظالم سے تنگ تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ’’را‘‘ نے اسے اپنی تحویل میں لے کر کچھ اس طرح اس کی برین واشنگ کی کہ وہ یہ واردات کرنے پر دل و جان سے آمادہ ہوگیا۔ مقبوضہ کشمیر بھارتی فوج کے ذریعے ریڈ زون کا درجہ رکھتا ہے اس کے کارواں راستے کی مکمل کلیئرنس اور ریکی کے بغیر حرکت نہیں کرتے۔ پھر یہ کیسے ممکن تھا کہ بارود سے بھری گاڑی اچانک نمودار ہو کر فوجی کارواں سے ٹکرا جائے اور اس میں تباہی پھیلادے۔ یہ کام کسی طے شدہ منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہ تھا اور یہ منصوبہ بندی کسی بیرونی عنصر کے بس میں نہ تھی۔ بہرکیف اس حملے کا سیاسی فائدہ بھارت نے اُٹھایا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا طوفان کھڑا کردیا، جب کہ شدت پسند ہندوؤں کو بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے جموں میں مسلمانوں کو زندہ جلایا اور ان کی املاک کو نذرِ آتش کیا، جب کہ نئی دہلی اور دیگر شہروں میں بھی مسلمانوں پر حملے کیے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بھارت میں نئے انتخابات کی آمد آمد ہے اور مودی حکومت پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف جنگی جنون پیدا کرکے انتخابات جیتنا چاہتی ہے۔ پلوامہ حملہ اس مقصد میں بہت معاون ثابت ہوا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ شیطانی قوتیں اپنے مکروہ مقاصد کے حصول میں انسانی جانوں کے ضیاع کو اہمیت نہیں دیتیں۔ اس کا اندازہ امریکا میں نائن الیون کے واقعے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ نیویارک میں ٹوئن ٹاورز کی تباہی کا ملبہ اسامہ بن لادن کی تنظیم القاعدہ پر ڈالا گیا لیکن درحقیقت یہ امریکیوں کا اپنا منصوبہ تھا جس کی آڑ میں انہوں نے مسلمانوں کو تباہ کرنے کا کھلا لائسنس حاصل کرلیا۔ امریکا نے نائن الیون کے سانحے کی کبھی شفاف تحقیقات نہیں ہونے دی اور آج تک اصل حقائق پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ حاصل کلام یہ کہ پلوامہ حملہ بھی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے سفاک منصوبوں میں سے ایک ہے جس کا مقصد پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنا اور اسے پوری دنیا میں بدنام کرنا ہے لیکن جس طرح اس کے پہلے منصوبے ناکام ہوتے رہے ہیں اسی طرح یہ منصوبہ بھی اپنے ہی فوجیوں کے لہو میں ڈوب کر ناکام ہوجائے گا اور بھارت پاکستان کا بال بھی بیکا نہ کرسکے گا۔ اِن شا اللہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں