346

پاک فوج کے جواب نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا……(حیدر علی شہزاد)

تحریر: حیدر علی شہزاد

قیام پاکستان سے لے کر اب تک پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر چلا آرہا ہے۔ آج تک بھارت پاکستان کی آزادی اور اسے ایک الگ ریاست ماننے پر تیار نہیں. بلکہ آزادی کے وقت بھارت کی طرف سے بہت ساری نا انصافیاں کر کے پاکستان کو ایک کمزور ریاست بنانے کی ہر ممکن کوشش کی گئی. بھارت ہمیشہ ہی پاکستان کا دشمن ملک رہا ہے اور آج تک پاکستان سے اس کی نہ بن سکی۔ پاکستان کی بہادر عوام اور فوجی جوانوں کا مقابلہ نہ کرنے کی سکت رکھنے والے بھارت نے ہمیشہ رات کی تاریکی میں ہی حملہ کیا مگر ہمیشہ پاک فوج کی طرف سے منہ توڑ جواب ملا۔ 1965 میں بھی بھارت ناپاک عزائم اور سہانے خواب لے کر پاکستان کی طرف آیا تو پاک فوج کی طرف سے ملنے والے منہ توڑ جواب نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا۔ اسی طرح اس دفعہ بھی بھارتی فضائیہ نے رات کی تاریکی میں فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے در اندازی کی کوشش کی۔ فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اطلاع ملتے ہی پاکستان کے بہادر فوجی جوان حرکت میں آ گئے اور بروقت کاروائیوں نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور کر دیا جس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار بھارتی جہاز اپنا بارودی مواد اور اسلحہ بھی پاکستان میں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ بوکھلاہٹ اور خوف کا شکار بھارت اس واقعہ کے بعد کئی سال پرانی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر بیٹھا جس سے دنیا بھر میں بھارت کی خوب حگ ہنسائی ہوئی۔ پاکستان کی طرف سے عالمی برادری میں ہمیشہ امن کا پیغام گیا اور شاید بھارت پاکستان کی اسی امن پسندی کو کمزوری سمجھ بیٹھا ہے۔بھارتی جارحیت کے بعد شاہینوں کی بروقت کاروائی نے دشمن کو بھاگنے پر مجبور بنایا۔

ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ پاک فوج کی طرف سے تمام تر تیاریاں مکمل ہیں۔ اب ہماری باری ہے۔ انشاء اللہ سرپرائز دیں گے۔ بھارت نے بلا جواز جارحیت کا ارتکاب کیا ہے، پاکستان اپنی مرضی کی جگہ اور وقت کا انتخاب خود کرکے اس کا جواب دے گا. قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بھی وزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں خارجہ امور، دفاع و خزانہ کے وزراء، مسلح افواج کے سربراہان اور اعلیٰ سطح کے سول و فوجی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں بالاکوٹ کے قریب مبینہ دہشت گرد کیمپ کو ہدف بنانے اور بھاری جانی نقصان کا بھارتی دعوی یکسر مسترد کردیا گیا۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بھارتی حکومت نے ایک بار پھر خود ساختہ بے بنیاد اور من گھڑت دعویٰ کیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ زمینی حقائق جاننے کے لئے حملے کی جگہ دنیا کے سامنے ہے اور اس مقصد کیلئے مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو حملے کی جگہ لے جایا جارہا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا ہے کہ بھارت میں انتخابی ماحول ہے ملک میں انتخابی ماحول کی وجہ سے یہ کارروائی کی گئی ہے جس نے علاقائی امن و استحکام کو خطرے سے دوچار کردیا ہے۔ جس جگہ حملہ کیا گیا وہ سب کے لئے کھلا علاقہ ہے جہاں جا کر بھارتی دعووں کا جھوٹ بے نقاب ہو جاتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس کا خلاصہ یہ ہے کہ بھارت کا عمل پاکستان کے خلاف جارحیت ہے اور پاکستان اس کا جواب دے گا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا کو موقع پر لے جایا جائے، موسم کی صورتحال بہتر ہونے پر انہیں ہیلی کاپٹروں میں لے جایا جائے گا تاکہ وہ خود جائے وقوعہ کو دیکھیں اور بھارتی پروپیگنڈے کو بے نقاب کریں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارتی پروپیگنڈا کو بے نقاب کرنے کے حوالے سے اندرونی آوازیں آنا شروع ہوگئی ہیں، محبوبہ مفتی کا بیان سامنے ہے کہ جو کہانی پیش کی جارہی ہے وہ حقائق کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں پاکستان اور بھارت کے لیے اقوام متحدہ کا فوجی مبصر گروپ جن کی یہاں نمائندگی موجود ہے انہیں بھی جائے وقوع پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ وہ پاکستان کے خلاف جارحیت اور اس کی سالمیت کی خلاف ورزی سے متعلق اقوام متحدہ کو اور اپنے متعلقہ ادارے کو آگاہ کریں اور ان کے سامنے حقائق رکھیں۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ کمیٹی کے اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ وزیراعظم اور دفتر خارجہ 191 عالمی رہنماوں سے رابطہ کریں اور اس حوالے سے آگاہ کریں گے۔ پریس کانفرنس کے دوران وزیر دفاع پرویز خٹک سے پوچھے گئے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارتی طیارے 4 سے 5 کلو میٹر اندر آئے اور انہوں نے بم گرائے لیکن ہماری فورسز تیار تھیں، تاہم رات کے وقت کی وجہ سے نقصان کا معلوم نہیں ہوا. ۔ساتھ ہی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لقمہ دیا کہ پاک فضائیہ پہلے سے ہی تیار تھی اور ان کی مداخلت سے ہی بھارتی طیارے پسپا ہوئے، 2 بجکر 55 منٹ پر وہ داخل ہوتے ہیں اور ہمارے ردعمل پر 2 بجکر 58 منٹ پر وہ واپس چلے جاتے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ یہ وقت ایئرفورس کی صلاحیت پر سوال اٹھانے کا نہیں، بھارتی عزائم کو پڑھنا اور اس پر کب، کیسے کرنا ہے اور کس نوعیت کا جواب دینا پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا امتحان ہے، کشیدگی ہمارا مقصد تھا نہ ہے، ہم ہمیشہ کشیدگی کے خاتمے کی بات کرتے رہے ہیں لیکن جارحیت کا جواب دینا ہمارا حق ہے اور قوم مایوس نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال بہت نازک ہے، پاکستان ایک ذمہ دار اور پر امن ملک ہے اور ہم پاکستان کی سرحدوں کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ بھارت ہوش کے ناخن لے ورنہ منہ کی کھانی پڑے گی۔ کرتارپور راہداری سے متعلق سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کرتارپور ایک دیرینہ خواہش تھی، جسے پاکستان نے پورا کیا، اس میں ایک خیرسگالی، امن کا پیغام تھا جو پاکستان نے دیا، ہم نے کبھی امن کے پیغام سے آنکھ چرائی نہیں اور کبھی جارحیت سے گھبرائے نہیں۔ او آئی سی اجلاس سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ میں نے گزشتہ روز امارات کے وزیر خارجہ سے بات کی تھی لیکن تب یہ واقعہ نہیں ہوا تھا لیکن اب ان سے دوبارہ بات کی جائے گی۔ بھارتی جارحیت پر پاکستانی جواب سے متعلق وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان وہ کرے گا جو اسے کرنا چاہیے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ گزشتہ روز بھارت کی طرف سے پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے کی سہ رخی کوشش کو ناکام بنایا گیا تاہم ایک مقام پر بھارتی طیاروں نے کنٹرول لائن عبور کی اور پاک فضائیہ کے تعاقب پر گھبراہٹ اور بدحواسی میں اپنے بم پھینک کر بھاگ گئے۔ اب بھارت پاکستان کے سرپرائز کا انتظار کرے۔ پاکستان کا جواب آئے گا اور مختلف انداز کا ہو گا اور تمام محاذوں پر ہو گا۔ انہوں نے اس کارروائی کے بارے میں بھارتی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے چیلنج کیا کہ آئیں 21 منٹ تک ہماری فضا میں رہ کر دکھائیں پھر پتہ چلے گا کہ آپ رہ سکتے ہیں یا نہیں۔

منگل کی شام آئی ایس پی آر کے آڈیٹوریم میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بالاکوٹ کے قریب بھارت کی بزدلانہ کارروائی، پاکستان کے ممکنہ جواب اور بعض تکنیکی امور پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستانی راڈارز نے تین مقامات پر بھارتی طیاروں کی موجودگی کا سراغ لگایا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے طیارے نگرانی کیلئے فضا میں موجود تھے سب سے پہلے سیالکوٹ اور لاہور کے علاقے میں بھارتی طیارے ریڈار پر نظر آئے۔ ہماری ایک کیپ ٹیم فضا سے ہی وہاں پہنچی اور انہیں چیلنج کیا۔ بھارتی طیاروں نے سرحد پار نہیں کی اور سات تا آٹھ نوٹیکل میل کے فاصلہ پر اپنے علاقے میں رہے۔ ایک فضائی ٹیم کی مصروفیت کی وجہ سے پاکستان کی متبادل کیپ ٹیم فضا میں آ گئی۔ اسی دوران ٹیم اوکاڑہ، بہاولپور کے سیکٹر میں ہمارے ریڈاروں پر بھارتی طیاروں کی ایک اور ٹکڑی نظر آئی۔ دوسری پٹرول ٹیم جنوب میں گئی اور اسے چیلنج کیا۔ تیسری ائیر پٹرول ٹیم بھی موجود تھی تب ہمارے ریڈارز نے دیکھا کہ بھارتی طیاروں کی ایک بھاری فارمیشن ٹیم مظفر آباد سیکٹر میں کرن ویلی کی طرف سے آرہی ہے۔ جب ہماری تیسری کیپ ٹیم نے اس علاقے میں جا کر انہیں چیلنج کیا تو انہوں نے لائن آف کنٹرول کو عبور کیا لیکن سٹرائک تو ہوئی نہیں۔ بھارتی طیاروں نے حملہ نہیں کیا۔ اس کارروائی کے بھارتی مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر ان طیاروں نے کسی مورچے پر حملہ کرنا ہوتا فوجی تو تیار ہیں اور ائیر فورس بھی تیار ہے اور یونیفارم میں افراد کا جانی نقصان نظر آتا لیکن بھارت کو مرنے والے سویلین لباس میں درکار تھے جن کے بارے میں وہ پروپیگنڈا کر سکتا کہ ہم نے دہشت گرد مار دیئے ہیں۔ بھارتی طیارے چار سے پانچ ناٹیکل میل تک اندر آئے اور پاکستانی ائیر فورس نے انہیں بروقت چیلنج کیا۔ بھاگتے ہوئے انہوں نے جبہ کے مقام پر چار بم گرائے۔ انہوں نے وضاحت کی چیلنجنگ ائیر کرافٹ ہوتا ہے نظر نہیں آتا۔ یہ زمینی فوج کا کام ہوتا ہے کہ وہ جائزہ لیں کہ کوئی چیز گری ہے یا نہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن بہتر ہوتا ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارا ہمسایہ بھارت دشمنی میں بھی جھوٹ اور بے وقوفی کا سہارا لیتا ہے۔ انڈیا کے دعوے ہیں کہ اس کے طیارے 21 منٹ تک پاکستان میں رہے اور 350 دہشت گردوں کو مارا گیا۔ انہوں نے انڈیا کے میڈیا پر دی گئی خبریں سلائیڈ پر دکھا کر بتایا کہ ان خبروں کے مطابق پہلا حملہ بالاکوٹ میں تین 45 سے تین 53 تک کیا گیا۔ دوسرا حملہ مظفر آباد 3.48 سے تین بجکر 55 منٹ تک ہوا۔ تیسرا حملہ چکوٹھی میں تین بجکر 58 منٹ سے چار بج کر چار منٹ تک ہوا۔ اس موقع پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے بھارت کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ آئیں 21 منٹ تک رہ کر دکھائیں پاکستان کی فضائی حدود میں، ’زمین پر وہ آتے تو انہیں وہی جواب ملتا جو ہم نے پلان کیا تھا۔ ہم تیار تھے ہم نے جواب دیا۔ ’میں نے کہا تھا کہ ہم آپ کو سرپرائز دیں گے، بھارت ہمارے اس سرپرائز کا انتظار کرے۔ جواب آئے گا اور مختلف ہو گا۔ ہم جمہوریت ہیں۔ بھارت نے جنگ کا راستہ چنا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ جارحیت کے مرتکب بھارتی جہاز کیوں نہیں مار گرائے گئے؟ جواب میں انہوں نے کہا کہ کہ بھارت فوجی مقامات پر حملہ کرنا چاہتا تو وہ ایل او سی کو عبور کیے بغیر بھی کر سکتا تھا لیکن اس نے صرف ’ڈرائے رن کرنا تھا۔ پہلی سٹرائیک کا ردعمل فوری طور پر ہوتا ہے۔ یا تو ہم بھی سرحد عبور کرتے۔ لیکن میں نے آپ کو کہا تھا ناں کہ ہم مختلف انداز میں ردعمل دیں گے اور آپ کو سرپرائز دیں گے۔ اور میں آپ سے کہہ رہا ہوں پلیز ویٹ کریں۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ بھارت حملہ کرے گا تو ہم سوچیں گے نہیں جواب دیں گے، گزشتہ رات ہمارا جواب آیا تو آپ کے طیارے بھاگ گئے۔ پچھلے چند دنوں سے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالات کشیدہ ہیں، انہیں لائن آف کنٹرول کی طرف آتے ہوئے اور واپس جاتے ہوئے 4 منٹ لگے، ترجمان پاک فوج نے کہاکہ بھارت نے 350 سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا لیکن میں کہتا ہوں کہ کوئی ایک اینٹ بھی نہیں ٹوٹی، اگر وہاں کوئی عمارت ہوتی یا 10 لوگ بھی مرے ہوتے تو وہاں ملبہ ہوتا، لاشیں ہوتی، خون ہوتا لیکن جھوٹ کے کوئی پاوں نہیں ہوتے۔ ہم نے پہلے بھی بھارت کے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور آئندہ بھی کریں گے، ہم بھارت کے جھوٹ کا جواب سچ سے دیں گے، پوری قوم اور سیاسی جماعتیں یکجا ہیں۔ بھارت نے حملہ نہیں در اندازی کی اور اب ہماری باری ہے، ہمارا جواب مختلف ہو گا، وقت اور جگہ کا تعین ہم خود کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جائے وقوعہ سب کیلئے کھلی ہے، تمام سفیر، فوجی اتاشی، اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین گروپ وہاں جاسکتے ہیں، میں دعوت دیتا ہوں کہ بھارتی سویلین اور فوجی مبصرین کو وہ بھی آئیں اور آکر دیکھیں اور اپنے وزیراعظم کو آگاہ کریں۔ بریفنگ کے بعد غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارتی طیاروں کا ہدف کوئی اور تھا جو وہ پاک فضائیہ کی وجہ سے حاصل نہ کر سکے۔ بھارت کو اس حرکت پر پہلے گندا کرینگے، پھر ذمہ دارانہ رسپانس دینگے۔ پاک فوج کا رسپانس کسی بھی صورت میں اور کسی بھی وقت ہو سکتا ہے۔ قوموں اور ملکوں پر مشکل وقت آتے ہیں، مگر ہم نے اپنا فوکس تبدیل نہیں کرنا، نریندر مودی الیکشن میں کامیابی کے لیے خون چاہتا ہے۔ جہاں چار بم گرائے گئے وہاں جیش محمد کا کوئی مدرسہ نہیں ہے۔ جنگ کے لیے جذبات سے زیادہ جذبہ ضروری ہے، ہم جذبات میں آکر ان کے ہاتھ نہیں کھیلیں گے۔ ہم نے خود بھارتی دراندازی کا بتایا، بھارتی میڈیا کو پہلے پتا چل جاتا تو انہوں نے آسمان سر پر اٹھا لینا تھا۔ بھارتی دراندازی کے وقت وزیراعظم، آرمی چیف اور سب سروسز چیفس جاگ رہے تھے، سب میں روابط تھے، ہر جگہ سے اوکے کی رپورٹ ملی کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ موجودہ صورتحال کے پیش نظر پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور انشاء اللہ پاک فوج بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں