291

پاکپتن: محکمہ معدنیات کی ٹیم کا ریت رائلٹی اور ٹرالی کی پیمائش کے لیے کھڈا بنگلہ شمس پر چھاپہ محض دکھاوا تھا. ٹرالی مالکان.

پاکپتن(محمد رمضان بھٹی سے) محکمہ معدنیات کی ٹیم انسپکٹر مائنز غلام مرتضےٰ اور اسسٹنٹ اولاد شاہ کا ریت رائلٹی کے کھڈا چک بنگلہ شمس پر چھاپہ مبینہ مک مکا کے تحت اور پری پلان منصوبہ کے تحت تھا. ہمارے نمائندے کے مطابق محکمہ معدینات کی ٹیم نے ٹھیکیدار سے ساز باز ہوکر باہم مشورہ سے مبینہ طور پر بھاری رشوت کے عوض دیگر علاقوں سے مٹی لوڈ کرنے والی ٹرالیاں منگوا کر موقع پر ان کی پیمائش 200فٹ ثابت کرکے رپورٹ ڈی سی پاکپتن کو ارسال کردی. محکمہ معدنیات کی چھاپہ مارٹیم اورٹھیکیدار ریت رائلٹی کی مبینہ ملی بھگت کی وجہ سے ٹرالی مالکان اور ٹرالی لوڈنگ مزدور رل گئے. تفصیلات کے مطابق چند دن پہلے ڈی سی پاکپتن احمد کمال مان کے حکم پر محکمہ معدنیات نے رپورٹ پیش کرنا تھی کہ کہیں کسی ٹرالی مالک کو ٹرالی لوڈ کرنے سے روکا تو نہیں جارہا اور رائلٹی شیڈول کے مطابق وصول کی جارہی ہے یا اوورچارجنگ کی جا رہی ہے، جس پر محکمہ معدنیات کی ٹیم ٹھیکیداروں سے مبینہ طور پرباہم مشورہ ہوکر آئی اور سب اچھا کی رپورٹ بناکر ارسال کردی گئی. اس موقع پر نہ ہی درخواست دہند گان کا کوئی نمائندہ موجود تھا اور نہ ہی عوام الناس میں سے کسی کو علم ہونے دیا گیا. پاکپتن کے معروف سیاسی ،سماجی رہنما چوھدری اعجاز احمد گجر اور شاہد جٹ نے مالکان چوھدری لیاقت، انعام بھٹی، رفیق بھٹی، یونس گجر، خالد جٹ، ا للہ دتہ وٹو مانیکا اور دیگر نے میڈیا نمائندگان کو بتایاکہ ٹھیکیداروں نے ہمارا جینا حرام کر رکھا ہے، ٹھیکیداروں اوراُس کے حواریوں نے ٹرالیاں نہ لوڈ کرنے کی رٹ لگا کر ہمارے بچوں کی روزی بند کی ہوئی ہے، بے لگام ٹھیکیدار یہ سب کچھ محکمہ معدنیات کی پشت پناہی کی وجہ سے کر رہے ہیں ٹرالی مالکان سمیت سیاسی سماجی اور شہری حلقوں نے وزیرِ اعظم پاکستان، وزیرِاعلیٰ پنجاب، چیف جسٹس آف پاکستان سمیت ڈی سی پاکپتن احمد کمال مان سے دست بستہ اپیل کی ہے کہ ہم سےہماری روزی نہ چھینی جائے انتظامیہ محکمہ معدنیات سمیت اپنے نمائندگان کو بھیج کر ٹرالی مالکان کو ٹرالی لوڈ کرنے کی اجازت دلوائے اور ٹھیکیداروں کو شیڈول کے مطابق رائلٹی فیس وصول کرنے کا پابند کیا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں