329

ویلنٹائن ڈے کی حقیقت……(میاں رضوان انور)

تحریر: میاں رضوان انور

دوسری صدی عیسوی میں روم پر کلا ڈیس دوم کی حکومت تھی۔ بادشاہ کو لڑنے کا بہت شوق تھا۔ اس نے مضبوط فوج بنائی اور ہمسایہ ممالک پر فوج کشی کر دی۔ جنگیں طویل ہوگئیں، فوجی مارے گئے، بادشاہ نے نئی بھرتیاں شروع کر دیں۔ روم کے نوجوان ان دنوں عیش پرستی کا شکار ہو چکے تھے۔
وہ فوج میں بھرتی ہونے اور جنگوں پر جانے سے کتراتے تھے۔ بادشاہ نے ان جوانوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے لیے انوکھی ترکیب سوچی۔ اس نے کنوارے مردوں کے شادی کرنے پر پابندی لگا دی۔
بادشاہ کا کہنا تھا کنوارہ نوجوان زیادہ بہادری سے لڑتا ہے۔ ان دنوں فوج میں بھرتی ہونے، لڑنے اور لڑائی سے واپس آنے والوں کو شادی کی اجازت تھی۔ یہ رسم ظالمانہ تھی۔ ان دنوں روم کے کیتھولک چرچ میں ویلنٹائن نام کا ایک پادری تھا۔
اس نے بادشاہ کی اس پابندی کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ رات کی تنہائیوں میں روم کے نوجوان مردوں اور عورتوں کو جمع کرتا اور ان کی خفیہ شادیاں کرا دیتا۔ بادشاہ کو اس کے خفیہ ذرائع نے سینٹ ویلنٹائن کی حرکات کی اطلاع کر دی۔
ویلنٹائن رنگے ہاتھوں گرفتار ہو گیا، اسے گرفتار کرکے جیل میں بند کر دیا گیا۔ سینٹ ویلنٹائن جیل میں اتوار کے روز قیدیوں اور عملے کو عبادت کرانے لگا، اسی عبادت کے دوران ایک روز اس نے جیلر کی اندھی بیٹی دیکھی اور اس پر عاشق ہو گیا، وہ اسے خط لکھتا۔ یہ خط جیلر کی بیٹی کو اس کی ایک سہیلی پڑھ کر سناتی۔ ویلنٹائن پر مقدمہ چلا، اس نے اعتراف جرم کر لیا، جج نے اسے موت کی سزا سنا دی۔
موت سے چند روز پہلے ویلنٹائن نے دنیا کا پہلا ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منایا، اس نے کاغذ کے ٹکڑے پر فرام یور ویلنٹائن لکھا اور اپنی محبوبہ کو بھیج دیا۔ یہ فروری کے دوسرے ہفتے کا آخری دن تھا، اس رات ویلنٹائن کو موت کی سزا دے دی گئی۔ یہ 15 فروری 207ء تھا۔ اگلے سال روم کے نوجوانوں نے ویلنٹائن کی برسی پر ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ منایا۔
ویلنٹائن ڈے پندرہ فروری کو کیوں منایا جاتا ہے؟ مؤرخین اس کی دو وجوہ بیان کرتے ہیں: فروری کا وسط اہل روم کے لیے زمانہ قدیم سے متبرک سمجھا جاتا تھا۔
پندرہ فروری کو رومی موسم سرما اور گرما کا عین درمیان سمجھتے تھے۔ وہ کہتے تھے یہ دو موسموں کے ملاپ کا دن ہے، اس دن اہل روم گھروں کو خصوصی طور پر صاف کرتے تھے۔ پورے گھر میں نمک اور خاص قسم کی گندم جسے ’’سپلٹ‘‘ کہا جاتا تھا بکھیر دیتے تھے۔
گھروں میں خوشبو دار اگربتیوں کا بندوبست کیا جاتا تھا۔ اہل روم کا کہنا تھا یہ زراعت کے دیوتا ’’FAUNUS‘‘ کا دن ہے۔ اہل شہر اس دن ’’FAUNUS‘‘ کے مقدس غار کے گرد جمع ہو جاتے۔ پادری مقدس دعائیں پڑھتے اور اس کے بعد ایک بکری اور کتے کی قربانی کی جاتی۔ بکری کی قربانی اچھی فصلوں اور کتا روحانی درجات بلند کرنے کے لیے قربان کیا جاتا۔
اس رسم کے بعد جوان لڑکے بکری کا سر باریک باریک کاٹ دیتے، ان ٹکڑوں کو رسیوں سے باندھتے اور پھر انہیں بکری اور کتے کے خون میں ڈبوتے، اس خون کو وہ مقدس خون کہتے تھے، بعد ازاں وہ ان رسیوں کو لیکر شہر اور کھیتوں میں پھرتے تھے۔ روم کی خواتین ان رسیوں سے اپنے بدن مس کرتی تھیں۔
اہل روم کا خیال تھا یہ رسیاں شہر میں گھمانے سے شہر میں خوشحالی آئے گی، کھیتوں میں لے جانے سے فصلیں اچھی ہوں گی اور خواتین کو مس کرنے سے خواتین کے ہاں اچھی صحت مند اور پاک باز اولاد پیدا ہو گی۔
یہ روم کا قدیم تہوار تھا۔ مؤرخین کا کہنا ہے وقت کے ساتھ ساتھ یہ تہوار بدلتا رہا یہاں تک کہ ویلنٹائن کا واقعہ پیش آیا اور اس تہوار نے ’’ویلنٹائن ڈے‘‘ کی شکل اختیار کر لی۔ ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ایک اور دلچسپ حقیقت بھی بیان کی جاتی ہے۔ پندرہ فروری سے دنیا بھر میں پرندوں کے جنسی اختلاط کے دن شروع ہوتے ہیں۔ یہ وہ دن ہوتے ہیں جن میں نر اور مادہ پرندے ملاپ کرتے ہیں۔ انڈے دیتے ہیں اور پھر پرندوں کی مادہ ان انڈوں پر بیٹھ جاتی ہے۔ انگریزی میں اس موسم کو ’’میٹنگ سیزن‘‘ کہا جاتا ہے۔
ٹھیک اس موسم میں ویلنٹائن ڈے منانے کی ایک وجہ یہ حقیقت بھی ہے۔ مؤرخین یہ کہتے ہیں ویلنٹائن کہا کرتا تھا: ’’جس موسم میں پرندے آپس میں ملتے ہیں اس میں انسان ایک دوسرے سے دور کیوں رہیں ‘‘ لہٰذا اس نے روم کے نوجوانوں کی شادیاں اس میں شروع کرائیں۔
پہلا ویلنٹائن ڈے 207ء میں منایا گیا۔ یورپ میں یہ تہوار منایا جاتا رہا لیکن زیادہ شہرت نہ پاسکا۔ 1414ء میں ’’اینگ کوٹ‘‘ کے مقام پر جنگ ہوئی، اس جنگ میں ڈیوک آف آرینز کی بیوی گرفتار ہو گئی۔ ملکہ کو ٹاور آف لندن میں قید کر دیا گیا۔
فروری 1415ء کو ڈیوک نے اپنی بیوی کے نام ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ایک نظم لکھی، یہ نظم کارڈ پر لکھوائی اور یہ کارڈ ٹاور آف لندن بھجوادیا۔ یہ دنیا میں ویلنٹائن ڈے کا پہلا کارڈ تھا، بعد ازاں برطانیہ کے بادشاہ ایڈورڈ ہفتم نے اس نظم کی موسیقی تیار کرائی، یہ موسیقی برطانیہ کے موسیقار جان لیڈ گیٹ نے ترتیب دی تھی۔
یہ ویلنٹائن ڈے کا گیت تھا۔ ملکہ وکٹوریہ نے ویلنٹائن ڈے پر کارڈ تقسیم کرنے شروع کیے، ملکہ ہر سال فروری کے دوسرے ہفتے کے آخری دن سو قیمتی اور خوشبودار کارڈ اپنے عزیز و اقارب کو بھجواتی تھی۔ ملکہ کی پیروی میں دوسرے عمائدین نے بھی کارڈ بنوانے اور تقسیم کرنے شروع کر دئیے۔ یوں ویلنٹائن ڈے پر کارڈز بھجوانے کی رسم شروع ہوگئی۔
سرخ گلاب یورپ میں محبت کی علامت سمجھا جاتا ہے یورپ میں جب کوئی نوجوان کسی نوجوان لڑکی کو التفات کا پیغام دینا چاہتا ہے تو وہ اسے سرخ گلاب بھجوا دیتا ہے۔ اگر وہ لڑکی گلاب قبول کر لے تو ان کے درمیان ’’محبت‘‘ کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یورپ میں گلاب ایک ٹھیک ٹھاک کاروبار ہے۔ صرف برطانیہ میں پھولوں کی بارہ لاکھ دکانیں ہیں، ان دکانوں پر کینیا، ہالینڈ اور اسرائیل سے پھول منگوا کر رکھے جاتے ہیں۔ پھول برآمد کرنے والے ممالک میں ہالینڈ پہلے، اسرئیل دوسرے اور کینیا تیسرے نمبر پر ہے۔
ہالینڈ ہر سال 12 ارب ڈالر، اسرائیل 9 ارب اور کینیا 6 ارب ڈالر کے پھول برآمد کرتے ہیں۔ دنیا میں جب پھول تجارت بنے تو بڑی بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں اس کاروبار میں آگئیں۔ بیسویں صدی کے شروع میں ان ملٹی نیشنل کمپنیوں نے پھولوں کے لیے اشتہاری مہم شروع کر دی۔
یورپ میں اخبارات، ریڈیو، ذرائع ابلاغ، سائن بورڈز اور پوسٹروں کے ذریعے پھولوں کو کلچر کی شکل دی گئی۔ ویلنٹائن ڈے اس قسم کی تجارت کے لیے بڑا سنہرا دن تھا چنانچہ یورپ میں سرخ گلاب، کارڈ اور ویلنٹائن ڈے ایک تہوار کی شکل اختیار کر گیا۔
2002ء کے ویلنٹائن ڈے پر صرف برطانیہ میں 23 ملین پائونڈ کے کارڈز اور 22 ملین پائونڈ کے سرخ گلاب فروخت کیے گئے۔ آپ اس سے اندازہ کرسکتے ہیں یہ کس قدر منافع بخش کاروبار ہے۔
پاکستان میں 1995ء سے پہلے ویلنٹائن ڈے کا کوئی نام و نشان نہیں تھا، اگر کہیں منایا جاتا تھا تو وہ صرف کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل تھے لیکن پھر اچانک پورے ملک کے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اس بخار کا شکار ہو گئے۔
آج صرف 8 برس بعد صورتِ حال یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے باقاعدہ تہوار کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کی وجوہ دریافت کرنے کے لیے ہمیں 90ء کی دہائی کا جائزہ لینا ہو گا۔
نوے کی دہائی میں دنیا میں تین بڑے واقعات پیش آئے: اول سوویت یونین ٹوٹ گیا جس کے بعد امریکا کا سب سے بڑا حریف ختم ہو گیا اور وہ دنیا پر اپنا رعب جمانے کے لیے کسی دوسرے دشمن کی تلاش میں سرگرداں ہو گیا۔
دوم امریکا نے خلیج میں جنگ چھیڑ دی، اس جنگ میں مسلم دنیا کے تمام حکمران تو امریکا کے ساتھ تھے لیکن 61 اسلامی ممالک کے عوام امریکا کے خلاف جلوس نکال رہے تھے، اور سوم افغانستان میں طالبان کی شکل میں کئی سو سال بعد پہلی اسلامی حکومت ظہور پذیر ہوئی، طالبان نے مغرب کی مدد کے بغیر حکومت اور ملک چلا کر دنیا پر ثابت کر دیا ’’امریکا خدا نہیں۔‘‘
یہ تینوں واقعات امریکا کے پالیسی سازوں کے لیے بڑے اہم تھے۔ امریکا کو روسیوں کے بعد کوئی دشمن درکار تھا ایک ایسا دشمن جس کا ڈراوہ دے کر وہ اپنی ریاستوں کو متحد رکھ سکے، اسلحہ بیچ سکے اور اپنی معیشت برقرار رکھ سکے۔
سوویت یونین کے بعد اسے اسلامی دنیا میں اتنی سکت نظر آئی کہ وہ اسے اپنا دشمن قرار دے سکے۔ امریکا نے اسلام اور اسلام پسندوں کو اپنا دشمن قرار دے دیا۔ خلیج کی جنگ کے دوران امریکا کو محسوس ہوا کہ وہ مسلم ممالک کے حکمرانوں کو تو دبا لے گا لیکن مسلم عوام اس کے قابو نہیں آئیں گے لہٰذا اس نے سوچا مسلم عوام میں ایک ایسا طبقہ پیدا کرنا ضروری ہے جو مغرب کا دلدادہ ہو، جب یہ طبقہ پیدا ہوجائے تو آہستہ آہستہ اس کا دائرہ وسیع کر دیا جائے یہاں تک کہ اسلامی دنیا کی نوے فیصد آبادی اس ثقافتی دائرے میں سمٹ آئے اور امریکا نے محسوس کیا اگر طالبان کی حکومت کامیابی سے چلتی رہی تو دنیا کے 180 ممالک پر قائم امریکا کی ہوا اکھڑ جائے گی۔
امریکا کی جھوٹی خدائی خطرے کا شکار ہوجائے گی چنانچہ امریکا نے فوری طور پر تین بڑے اقدام کیے: اس نے بڑی آہستگی سے میڈیا کے ذریعے مسلمانوں اور اسلام کو دہشت گرد قرار دینا شروع کر دیا۔ اس نے طالبان حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کی توپوں کے دھانے کھول دئیے اور اس نے مسلم معاشروں میں ویلنٹائن ڈے جیسی خرافات پر مبنی رسومات کی ترویج شروع کر دی۔
ہم نے کبھی سوچا پاکستان میں مغربی موسیقی کیوں اچانک مشہور ہو گئی؟
پاکستان کی فلموں، ڈراموں اور ٹیلیویژن میں دیکھتے ہی دیکھتے پاپ میوزک اور عریانی کیوں آگئی؟
پاکستان کے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کا لباس کیوں فحش ہو گیا؟
پاکستان میں اچانک گندی اور غلیظ کتابیں کیوں عام ہو گئیں؟
نوجوانوں میں نشے کی لت کیوں بڑھ گئی؟
ہم بسنت اور ویلنٹائن ڈے کیوں منانے لگے؟
اچانک پاکستان میںبیوٹی پارلروں میں اضافہ کیوں ہو گیا؟
پاکستان میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بلیو فلمیں کیوں ملنے لگیں؟
اچانک سالگرہیں کیوں منائی جانے لگیں؟
پھولوں اور کارڈوں کی دکانیں کیوں کھلنے لگیں؟
اور ہماری شادیوں کا رنگ ہندی اور یورپی کیوں ہونے لگا؟
یہ سب کچھ اچانک کیوں ہوا؟
میرا خیال ہے ہم اس پر ہر گز نہیں سوچتے۔ آپ لمحہ موجود سے ان سوالوں پر غور شروع کریں پھر میں آپ سے ایک سوال پوچھوں گا؟
ہماری ثقافت، ہماری اسلامی رسومات اور تہواروں میں زہر گھولنے کا یہ کام کب شروع ہوا؟
آپ کو یہ معلوم کرکے حیرت ہوگی۔ یہ سلسلہ پچھلے آٹھ دس سالوں میں شروع ہوا اور ہر آنے والا دن اس ڈرامے کو اپنے سننی خیز موڑکی طرف لے کر بڑھ رہا ہے۔ یقین ہے آپ جوں جوں ان سوالوں پر غور کریں گے آپ کی ناک بھی اس خطرے کی بو کو سونگھ لے گی۔ اس خطرے کی ’’بو‘‘ جو 61 اسلامی ممالک کے نوجوانوں کی اخلاقیات کو موم کی طرح پگھلا تا جارہا ہے۔ آپ سوچیں! ہماے بچے ویلنٹائن ڈے کیوں منا رہے ہیں؟
آج پورا ملک پتنگیں اڑانے کے لیے لاہور میں کیوں جمع ہوچکا ہے؟
ہمارے بچے ایک دوسرے کو کیک، کارڈ اور پھول کیوں دے رہے ہیں؟
شہر شہر میں گھروں سے بھاگنے والی لڑکیوں کی حفاظت کے لیے این جی اوز کیوں کھل چکی ہیں؟
بد اخلاقی کے واقعات میں اچانک کیوں اضافہ ہو چکا ہے؟
آبروریزی کے حادثات کیوں بڑھ رہے ہیں؟
آپ سوچیں ہمارے ملک میں ڈشیں کب لگنا شروع ہوئیں؟
کیبل کب آئی؟
ہمارے ملک میں ٹیلیویژن، وی سی آر، ڈی وی ڈی، اور سی ڈیز پوری دنیا سے سستی کیوں ہیں؟
ہمارے ملک میں مخلوط تعلیم کے ادارے کیوں کھل رہے ہیں؟
ہمارے اسکولوں اور کالجوں کے نصاب سے اﷲ اور اس کے رسول کا نام کیوں ختم ہورہا ہے؟
ٹیلیویژن کی نئی نئی کمپنیاں اور چینل کیوں کھل رہے ہیں؟
پورے ملک میں موسیقی کے پروگرام کیوں ہوتے ہیں؟ آپ سوالوں کا جواب اپنے آپ سے پوچھیں۔
یقینا آپ کو محسوس ہوگا یورپ، امریکا اور ان کے بھائی بند جو کام تلوار اور بندوق سے نہیں لے سکے وہ اب کارڈ، گلاب اور پتنگ سے لے رہے ہیں، وہ اب بسنت اور ویلنٹائن ڈے سے لے رہے ہیں۔
جب کو ئی قوم دشمن کے کپڑے پہننے لگے، دشـمن کے گیت گانے لگے اور دشمن کے تہوار منانے لگے، وہ قوم جنگ سے پہلے ہی شکست تسلیم کر چکی ہوتی ہے۔ اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ بغیر لڑے شکست کھانی ہے یا لڑ کر جنگ جیتنی ہے۔
اگر ہم بسنت اور ویلنٹائن جیسی واہیات رسموں میں پڑے رہے تو میدان میں اترنے سے پہلے معرکہ ہار چکے ہوں گے اور اگر ان فضول رسومات اور گناہوں کو چھوڑ کر دین سے بے لوث وابستگی اختیار کی تو مستقبل قریب کے معرکہ سے جس میں ہمیں خواہی نخواہی ہی اترنا ہے، سرخرو ہو کر نکل سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں