424

پاکپتن: نوعمر بچے، دیہی خواتین اور شہری اشرافیہ کی نوجوان لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کی جانب راغب ہورہی ہیں۔ محمد ارشد ہیڈ ماسٹر.

پاکپتن(حیدر علی شہزاد سے)تمباکونوشی ذیابیطس کے علاوہ تیرہ سے زائد قسم کے کینسر کاباعث بن رہی ہے ۔ پاکستان میں نوعمر بچے، دیہی خواتین اور شہری اشرافیہ کی نوجوان لڑکیاں بھی تمباکو نوشی کی جانب راغب ہورہی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی اسکول پیر غنی محمد ارشد نے انجمن فلاح مریضاں وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام نشہ وجنسی تشدد کے خاتمہ کی مہم کے سلسلہ میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل PSAحکیم لطف اللہ نے کہا کہ افسوس ناک امر یہ ہے کہ تمباکونوشی کے نقصانات سے آگاہی کے باوجود اس لت میں مبتلا افراد کی بڑی تعداد پڑھے لکھے طبقے مثلا وکلاء، ڈاکٹرز، صحافی، پولیس افسران، انجینئرز وتعلیم سے وابستہ افراد ہیں۔ ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں نے کہا کہ تمباکونوشی کا دھواں دل کی شریانوں کی دیوایوں کو سخت کردیتا ہے جس سے دل کے دورہ کے امکانات زیادہ ہوجاتے ہیں اس کے ساتھ ہیمبرج سٹروک،پھیپھڑوں کے امراض، اندھاپن اور بہت سے نقصانات ہیں۔ صدر پریس کلب وقار فرید جگنو نے کہا کہ ہمیں اپنے معصوم بچوں کو نشہ اور جنسی تشدد سے بچانے کے لیے میدان عمل میں آنا ہوگا اور بچوں کو بھی اس بات سے آگاہ کرنا ہوگا کہ وہ خود کو ان حملوں سے کیسے محفوظ بنا سکتے ہیں تاکہ کوئی ہمارے ان پھولوں کومسل نہ سکے۔ حکیم عبدالمجید شامی ضلعی صدر پاکستان طبی کانفرنس نے کہا کہ سگریٹ کادھواں ہماری آنکھون، پھیپھڑوں اور دل کو متاثر کرکے ہمیں موت کی طرف لے جارہا ہے پھر کیا وجہ ہے کہ ہم اس کے نقصانات جاننے کے باوجود اس سے بچ نہیں پارہے۔ اس موقع پر طلباء اور اساتذہ نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا عہد کیا کہ ہم اس عفریت سے اپنے معاشرہ کو محفوظ بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ضرور پوری کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں