398

سوشل میڈیا کنٹرول یا…اداریہ….(شاہد مرتضیٰ چشتی)

تحریر: شاہد مرتضیٰ چشتی.

پاکستان تحریک اینصاف کی حکومت نے ایک بار پھر سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی ہے۔ ویسے موجودہ حکومت کے کنٹرول کا معاملہ یہ ہے کہ پورے الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو مالی دباؤ میں رکھ کرکنٹرول کیا جا رہا ہے ۔ پچھلی حکومتیں خرچ کر کے نوازتی تھیں جب کہ نئے پاکستان میں خرچ روک کر نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔ روزگار دلوانے کا پرزورنعرہ اور منشور رکھنے والی حکومت نے جس تیزی سے بے روز گاری میں اضافہ کیا ہے وہ نہایت تشویش ناک ہے۔ اس بے روزگاری کے دائرے میں ایسے ایسے افراد بھی آئےجنہوں نے اپنی جوانیاں اور تمام ترتوانائیان اور صلاحیتیں اُن اداروں کی ترقی و بہتری وقف کردیں۔ اب وہ عمر کے ایک ایسے حصہ میں خالی ہاتھ کھڑے حکومت اور اس کے ایک کروڑ نوکریوں کے اعلان کا منہ تک رہے ہیں کہ جب ان کے پاس کوئی متبادل کام بھی نہیں ہے. مالی بحران یا میڈیا اداروں کے مالکان کے نفع میں کمی کی وجہ سے اُنہوں نے ہاتھ روکے ہوئے ہیں۔ اورسختی کے اس ماحول میں اپنے منافع کو پورا کرنے کی کوششوں میں اُن ملازمین کو نشانہ بنارہے ہیں کہ جن کی عمر بھر کی محنتوں اور قربانیوں کے طفیل وہ ادارے وجود میں آئے اور مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے.

۔صحافی حضرات کا کہنا ہے کہ مالکان نے ہمیں کبھی اپنے منافع یا منافع میں اضافہ میں شریک نہیں کیا لیکن منافع میں کمی میں زبردستی کا حصہ دار بنایا جا رہا ہے. تنخواہیں بڑھانے میں تو سالہا سال لگادیئے جاتے ہیں جب کہ کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ اسی بنا پرملک کے طول و ارض میں احتجاج کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ ملک بھر میں اس وقت تمام صحافی و غیر صحافی نمائندہ تنظیمیں، مقامی پریس کلب کے ذمہ داران سراپا احتجاج ہیں۔ تمام پڑے پریس کلب اس حوالے سے مستقل سر گرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں حکومتی و اپوزیشن رہنماؤں کو بلا کر اس مسئلہ کی شدت سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے۔ بڑے بڑے اداروں کے قومی وصوبائی اسمبلیوں کے باہر بھی صحافی حضرات احتجاجی دھرنا دے چکے ہیں۔ یہاں تک کہ سرکاری و دیگر اپوزیشن کے ارکان کی کئی پریس کانفرنس و میڈیا بریفنگ کے آغاز پر احتجاج نوٹ کراتے ہوئے مائیک اٹھا لیے گئے۔ اس ضمن میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی بریفنگ کے دوران صحافیوں نے بھرپور احتجاج ریکارڈ کروایا، کراچی میں بھی وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی پریس کانفرنس کے درمیان وہاں کے صحافی حضرات نے ان کو فواد چوہدری کے بیانات اور حکومتی پالیسی پر خوب سنائیں۔ یہ ویڈیوزسوشل میڈیا پر خوب وائرل ئیں جس کا فائدہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی اٹھایا۔ صحافی حضرات کا بنیادی مطالبہ ہے کہ میڈیا مالکان کواشتہارات کی مد میں حکومت جو ادائیگی بھی کرے اس کو صحافیوں کی تنخواہوں سے مشروط کیا جائے۔

حالات اس نہج پر آچکے ہیں کہ بڑے بڑے موقر اداروں میں بھی صحافی حضرات اچانک تنخواہ کے کم ہو جانے پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاج کرتے نظر آئے۔ کئی اداروں میں دھڑا دھڑ ڈاؤن سائزنگ ہوئی۔ ایک بڑے میڈیا گروپ کے بارے میں اطلاع ہے کہ کم وبیش 700ملازمین فارغ کردیے گئے ہیں۔ کئی اداروں نے از خود اپنے ملازمین کی تنخواہیں کم کردیں۔ حال تو یہ ہے کہ اخبارات میں ملازمین ہی کی نہیں بلکہ خود اخباری صفحات میں بھی کمی کر دی گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ ان سب کے کھلے اشارے وزیر اطلاعات و نشریات جناب فواد چوہدری کی جانب سے پہلے ہی آنا شروع ہو چکے تھے. جس سے اندرون خانہ کچھ ’اشتراک‘ کی بو معلوم ہوتی ہے۔ اب اسی صوت حالات کے دوران حکومت نے سوشل میڈیا پر کنٹرول کا ذکر چھیڑ کر ’حکومت کے ظالمانہ اقدامات کے خلاف کسی قسم کی تحریر‘ پر سخت ایکشن لینے کا آغاز بھی کردیا ہے اور اطلاعات ہیں کہ اس ضمن میں کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی جا چکی ہیں۔ پہلے تو ’نامعلوم افراد ‘، معروف صحافی حضرات کو جب چاہتے اٹھا کر لے جاتے تھے۔ تشدد، دھونس، دھمکی یا طویل عرصہ غائب رکھ کر، اپنے طریقہ سے سمجھا بجھا کر یا احتجاجی ری ایکشن دیکھ کر چھوڑ دیا جاتا تھا۔ اس بار لاہور سے سینئر صحافی رضوان رضی کی گرفتاری خود ایک سوال بن گئی۔ رضوان رضی پر سماجی میڈیا (ٹوئیٹر) پر کچھ اظہار خیال کرنے کا الزام لگایا گیا تھا جو کہ حکومت کو پسند نہیں آئیں۔ رضوان رضی نے اپنی ٹوئیٹر وال پر پاکستان میں پھیلتے قادیانی نیٹ ورک کی نشاندہی کی تھی۔ یہ بنیادی طور پر ایک پیغام تھاکہ باقی لوگوں کے لیے.

کسی صاحب قلم نے لکھا ہے کہ اگر ’سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن میرٹ پر ہو تو سارے یوتھیے اور ’محب وطن‘ سلاخوں کے پیچھے ہوںگے۔ لیکن یہ تو اصل میں زبان بندی کا حربہ ہے۔ جیسا کہ مین اسٹریم میڈیا پر طلعت حسین، مطیع اللہ جان کو منظر سے غائب کردیا گیا جب کہ صابر شاکر اور عارف حمید بھٹی کو کسی نے پوچھا تک نہیں۔ اسی طرح سوشل میڈیا پر ’چھوٹی چڑیا‘ اور ’بابا کوڈا‘ کو دندنانے کی اجازت ہوگی۔ جبکہ حقیقت بیان کرنے والوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ اگر اظہار رائے پر قدغن اور زبان بندی سے حالات کو بہتر کیا جاسکتا، تویقینی طور پر نازی جرمنی، سویت یونین، یوگوسلاویا، چیکو سلواکیا، کیوبا جیسے ممالک تاریخ کے کچرہ دان میں نہ پائے جاتے۔ اگر حکومتِ وقت یا ریاستی اداروں کی پالیسیوں پر تنقید سے ملک کمزور ہوتے تو امریکہ، برطانیہ، فرانس وغیرہ کا وجود باقی نہ رہتا۔ ہمارے تمام اصل و “آف شور” حکمرانوں کو سوچنا ہو گا کہ ہم جس طرح کی ریاستوں کی پیروی کر رہے ہیں، کیا ویسے انجام کے لیے بھی تیار ہیں؟

جبری برطرفی، چھانٹی ، تنخواہوں کی کٹوتی ، مالکان کی دھمکیاں، گرفتاریاں اور اب میڈیا کنٹرو ل کی باتیں یہ سب کیا ہے؟
میڈیا کنٹرول کی ایک اور شکل جس کا شور اس وقت پورے ملک کے طول و ارض اور سماجی میڈیا پر وائرل ہے۔ لیکن پہلے ایک اہم بات سمجھ لینا ضروری ہے کہ ’صحافت ‘ اپنے کردار، مقصد اور اثرات کی وجہ سے ریاست کا چوتھا ستون کہلاتی ہے۔ اکثروبیشتر میڈیا کو بھی ریاستی ستون کے طور پرلکھ دیا جاتا ہے جوکہ فی الحقیقت غلط ہے۔ میڈیا کی یہ اصطلاح ابلاغیات اور ذرائع ابلاغ سے جڑی ہے ،جس کا ایک کلیدی حصہ صحافت بھی ہے۔ ڈرامہ، فلم، گیت، غزل، شاعری کا اصل تعلق ادب سے ہے، مگر ان کے ابلاغ کے لیے ٹی وی، فلم، ریڈیو، اخبار، انٹرنیٹ بطور میڈیم مستعمل ہیں۔ لیکن عام طور پر لفظ میڈیا استعمال کر کے سب کو ایک ہی بند میں باندھ دیا جاتا ہے۔ بہر حال اپنے اثرات کے اعتبار سے یہ بہت اہم موضوع ہے، جوکہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ہماری روحانی، ثقافتی، اخلاقی، سماجی، معاشی، معاشرتی زندگی سے بھی جڑا ہے۔خبروں کا اپنا ایک سیاسی، ثقافتی، معاشی، معاشرتی اثر ہوتا ہے لیکن فی زمانہ معاشرے کی ترتیب وتربیت میں ان ذرائع ابلاغ سے جو ڈرامے، فلمیں، گانے، اشتہارات نشر ہورہے ہیں اُن کو زیر بحث لانا چاہیئے۔ اس وقت ضرورت اس مر کی ہے کہ ایک منظم انداز سے اصلاح معاشرہ کی خاطر میڈیاکی اصلاح کی ملک گیر مہم چلا ئی جائے۔ ملک کے تمام بڑے شہروں میں بینرز آوایزاں کیے جا ئیں، فورمز کا انعقاد کیا جائے، اہل علم و دانش کو جمع کر کے کانفرنسز و سیمینارا کیے جا ئیں۔ اور پیمرا میں باقاعدہ شکایتیں بھجوائی جائیں۔ جس طرح کہ شہرفرید (پاکپتن شریف) میں سماجی تنظیمیں انجمن فلاح مریضاں اور ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے نشہ ، جنسی بے راہ روی اور دیگر سماجی برائیوں کے حوالہ سے عوام سے رابطہ کر کے شعور وآگاہی کے سلسلہ کا آغاذ کررکھا ہے اسی طرح عوام کے اندر یہ شعور بیدار کروایا جا ئے کہ ٹی وی اور سماجی میڈیا پر آنے والا حدود و قیود سے آزاد مواد کس طرح آنے والی نسلوں کو ہماری شاندار مذہبی، دینی، خاندانی روایات سے دور کر رہا ہے۔

میڈیا کی طاقت سے معاشرے کو سنوارا جا سکتاہے مگر ہم نادانی میں اس طاقت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر ہم جائزہ لیں تو اس وقت میڈیا بے مقصد اور بے سمت استعمال ہورہا ہے اس سے نوجوان نسل کے اخلاق اور کردار تباہ و برباد ہو رہے ہیں۔ ایک وہ وقت تھا جب ڈرامے بلکہ یہاں تک کے نغمے ہمارے معاشرے کے عکاس ہوا کرتے تھے۔ خاندان مل کر بیٹھتا تھا اور ڈرامے تفریح طبع اور کچھ نہ کچھ معاشرتی اصلاح یا تربیت کا باعث ہوتے تھے۔ خدا کی بستی، افشاں، شمع، اندھیرا اجالا، نشان حیدر، آخری چٹان، آنگن ٹیڑھا، وارث، الف نون، شاہین، دائرے، سونا چاندی، جنجال پورہ جیسے نام آج بھی منفرد اور نمایاں مقام کے حامل ہیں۔ اور پھر تیز ترین کمرشل ازم کا دور آگیا۔ ڈش انٹینا، کیبل نیٹ ورک کے زریعے سے اسٹار پلس اور زی چینل نے عورتوں اور بچوں کو ٹی وی کے آگے بٹھا دیا۔ اور پھربات کمرشل ازم سے بڑھ کروطن فروشی اور دین بیزاری تک جا پہنچی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے این جی اوز اور بیرونی امداد کی صورت یہ تباہی کا ایجنڈا بن گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں