275

اُجڑے باغوں کے گالڑ (گلہری) پٹواری….(میان رضوان انور، چیچہ وطنی)

تحریر میاں رضوان

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پشتون تحفظ موومنٹ(پی ٹی ایم) کا نام لیے بغیر جمعرات کی صبح دو ٹوئیٹس میں کہا کہ حکومت افغان کو خیبرپختون خواہ میں پرامن مظاہرین اور سماجی کارکنوں کے خلاف ہونے والے تشدد پر سخت تشویش ہے۔

سب سے پہلے تو یہ کہ یہ بیان داغنے والا کون ہے کہنے کو افغانستان کا صدر
لیکن کس افغانستان کا؟
افغانستان کے 70 فیصد علاقے پہ طالبان کا قبضہ بقیہ 30 فیصد پہ اتحادی افواج رقصاں ہیں
اس سو کالڈ صدر جس کا اپنا ملک کھنڈر بن چکا
جس کے ملک میں پشتون چادر اور چاردیواری کے تقدس سے محروم ہیں
جس کے ملک میں آئے دن امریکی افواج کارپٹ بمباری سے پشتونوں کی نسل کشی کرتی ہیں
لیکن اسے فکر ہے تو پاکستان میں ایک چھوٹی سی دہشتگرد تنظیم پی ٹی ایم کی جو کہ گراؤنڈ پہ 10 فیصد اور سوشل میڈیا پہ نوے فیصد ہے کیونکہ سوشل میڈیا پر اس کو را، این ڈی ایس چلاتے ہیں جبکہ سی ای اے VOA اور بی بی سی کے زریعے لیڈ کرتی ہے
اشرف غنی کو چھوٹی سی پی ٹی ایم سے اظہار یکجہتی کی ضرورت کیوں پیش آئی وجہ وہی ہے جو ہماری اداکارہ میرا کو لاحق ہے جب وہ میڈیا اور لوگوں کی سردمہری سے عاجز آتی ہے تب یا تو رنگین و سنگین وڈیو اپ لوڈ کر دیتی ہے یا پھر کسی سے شادی کا اعلان یوں چند روز کے لیے لائم لائٹ میں جگہ بنا جاتی ہے
اشرف غنی نے بھی لائم لائٹ میں جگہ بنانے کے لیے یہ اسٹنٹ کھیلا کیونکہ امریکہ طالبان مذاکرات میں انہیں جگہ نہیں ملی اور پھر بدھ کو ختم ہونے والی ماسکو کانفرنس میں انہیں نہیں بلایا گیا۔ ماسکو کانفرنس میں افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندے اور طالبان کے درمیان افغان امن عمل پر بات چیت ہوئی ہے۔ اس کانفرنس میں پاکستان کے لیے سابق افغان سفیر عمر ذخیوال تک شریک تھے اور مشترکہ اعلامیہ بھی انہوں نے ہی تیار کیا جس میں غیرملکی انخلا اور طالبان رہنمائوں پر پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

تاہم اشرف غنی کی حکومت تمام تر کوششوں کے باوجود نہ تو یہ کانفرنس رکوا سکی اور نہ ہی اس میں شرکت کر پائی۔
اشرف غنی اور پی ٹی ایم کو چلانے والی قوت ایک ہی ہے جس طرح پی ٹی ایم کے عہدے داران مغربی تہذیب کے دلدادہ لادین طبقے کے ہم خیال اور ہم جنس پرستوں کا ٹولا ہیں اسی طرح اشرف غنی کی سرپرستی میں کابل میں این جی اوز کی طرف سے افغانستان کے مختلف شہروں میں مغربی تہذیب کے فروغ کے سلسلے میں بے پناہ کام کیا گیا جس کے بعد 29 دسمبر 2017 ء کو کابل میں افغانستان کے شمالی صوبوں سے تعلق رکھنے والے بہت سے علماء نے افغان صدر اشرف غنی کی سرپرستی میں افغان عوام کو اسلام اور افغان روایت سے سیکولرازم کے نام پر مغربی اقدار کی طرف دھکیلنے جیسی کوششوں پر احتجاج کرتے ہوئے اشرف غنی کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا
خاتون اول بیگم اشرف غنی محترمہ رولا غنی کٹر کیتھولک باعمل مسیحی خاتون ہیں جو کہ افغانستان میں عیسائیت کے فروغ میں سرگرم ہیں جس میں انہیں اپنے امریکی شہریت رکھنے والے بیٹے طارق غنی اور دختر مریم غنی کی مکمل معاونت حاصل ہے۔
مریم من ہٹن سکول آف آرٹس اور نیویارک یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد صحافت کے علاوہ ’’نائن الیون‘‘ کے بعد امریکہ میں غیر ملکی مسلمان آباد کاروں پر پڑنے والے اثرات کے حوالے سے مختصر دورانیے کی دستاویزی اور آرٹ فلموں کی تیاریوں میں 2004 سے مصروف رہیں جس میں مریم کو بھارتی نژاد برہمن چترا گھنیش کا تعاون حاصل تھا۔
اسی طرح صدر اشرف غنی کا بیٹا جو واشنگٹن کی ایک یونیورسٹی میں بطور پروفیسر تدریس کے فرائض سرانجام دے رہا ہے اب ٹائی اور سوٹ چھوڑ کر سر پر پگڑی باندھے روایتی افغان لباس شلوار قمیض پہنے سیاسی محفلوں میں شرکت کرتا دکھائی دیتا ہے ۔لیکن اس کا حلیہ بھی ان کی لادین سرگرمیوں پر پردہ ڈالنے میں ناکام رہا

غیرت مند، بہادر پشتون جانتے ہیں کہ نا تو لادین اشرف غنی ان کا خیر خواہ ہے اور نا ہم جنس پرست ٹولہ پی ٹی ایم ان کا نمائندہ ہے یہ مغرب کا وہ چورن ہے جو پشتینوں کے نام پر بیچنے کی کوشش کی جا رہی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں