381

سعودی ولی عہد کا حالیہ دورہ پاکستان……(اداریہ)

تحریر: شاہد مرتضیٰ چشتی
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان پہنچے تو وزیرِ اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ان کا نورخان ائر بیس پران کا شاندار استقبال کیا۔ سعودی پرنس کو نہ صرف 21توپوں کی سلامی دی گئی بلکہ وزیر اعظم عمران خان انہیں خود گاڑی ڈرائیو کرکے پی ایم ہاؤس تک لائے. جہاں ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا۔ شہزادہ محمد بن سلمان جنہیں دنیا ایم بی ایس کے نام سے بھی جانتی ہے کے دو روزہ دورہ اسلام آباد میں سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تقریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی مفاہمت کی یاد داشتوں پر دستخط ہوئے گوادر میں آٹھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے ایک آئل ریفائنری کا قیام جس کے نتیجے میں سعودی عرب براہ راست سی پیک کے اقتصادی منصوبے سے جڑ جائے گا۔

پاکستان کی خواہش ہے کہ سعودی ولی عہد کے اس دورے کا بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، اسی لیے پاکستان اس دورے کو ہر سطح پر بہت اہمیت دے رہا ہے۔ دوسری جانب محمد بن سلمان بھی سعودی عرب کی معیشت میں انقلابی تبدیلیاں لانے کے خواہاں ہیں جس کے لیے انہوں نے تیزی سے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں۔ محمد بن سلمان نے وژن 2030 کے نام سے ملک میں ایک منصوبہ متعارف کروایا ہے جس کے تحت 2030 تک سعودی معیشت کا تیل پر انحصار کم جب کہ متبادل ذرائع سے سعودی معیشت کو بہتر طور پرچلانے کی کوشش کی جائے گی۔ محمد بن سلمان نے اس منصوبے کا اعلان اپریل 2016 میں کونسل آف اکنامک اینڈ ڈیویلپمنٹ افیئرز کے صدر کی حیثیت سے کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق وہ کسی حد تک قوم پرستانہ خیالات کے حامل ہیں، اپنے عوام میں مقبول، اور سیاست کے متعلق قدامت پسندانہ رویہ رکھتے ہیں. جبکہ اقتصادی اور سماجی مسائل کے متعلق وہ بہت لبرل خیالات کے حامل ہیں۔ دوسری طرف ان کے ناقدین کے مطابق ان کا طریقہ حکومت بہت سفاک اور آمرانہ ہے. اس ضمن میں وہ سعودی صحافی جمال خاشق جی کی استبول میں سعودی سفارتخانے میں ہونے والے قتل کے واقعے کو بطور مثال پیش کرتے ہیں. سعودی عرب کے اقتصادی اور منصوبہ بندی کے وزیر محمد التویجری کے مطابق اس سال ملک میں عالمی سرمایہ کاری دو گنا بڑھی ہے جو شہزادے کی اقتصادی پالیسیوں پر اعتماد کا مظہر ہے۔ یہ بات توجہ طلب ہے کہ ولی عہد محمد بن سلمان کے منظرِ عام پر آنے سے ہی سعودی عرب میں ایک ہلچل مچی ہوئی ہے۔ شاید ہی کوئی سعودی شہزادہ عالمی سطح پر اتنی تیزی سے ابھرا ہو جس طرح کہ محمد بن سلمان کو عروج حاصل ہوا ہے۔

برطانیہ کے معروف براڈکاسٹنگ ادارے کے نامہ نگار کے مطابق جب وہ 2013 میں جدہ میں محمد بن سلمان سے ملے تھے تو انہوں نے اپنا تعارف محض ایک وکیل کی حیثیت سے کروایا تھا لیکن آج وہ محض وکیل نہیں بلکہ عرب دنیا کے سب سے طاقتور شخص کے طور پر سامنے آرہے ہیں۔ محمد بن سلمان 31 اگست 1985 کو پیدا ہوئے اور ریاض کی کنگ سعود یونیورسٹی کے بیچلرز ہیں اور کئی سرکاری اداروں میں کام کرچکےہیں۔ انہیں 2009 میں جب ان کے والد ریاض کے گورنر تھے تو ان کو اپنے والد کا مشیرِ خصوصی مقرر کیا گیا تھا۔ شہزادہ محمد کے سیاسی سفر میں ایک اہم موڑتب آیا جب ان کو (اپریل 2015 میں) شاہ سلمان نے اپنی جانشینی کی قطار میں نئی نسل کو شامل کرتے ہوئے اپنے سوتیلے بھائی مقرن بن عبدالعزیز کو ہٹا کر اپنے بھتیجے محمد بن نائف کو ولی عہد جب کہ اپنے بیٹے محمد بن سلمان کو نائب ولی عہد مقرر کیا۔ محمد بن سلمان اس وقت نائب وزیرِ اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کے عہدہ کے بھی حامل ہیں۔ وہ جب 29 برس کے تھے تو انہوں نے دنیا کے سب سے نو عمر وزیر دفاع بنے۔ ان کے وزارتِ دفاع کا قلمدان سنبھالتے ہی سعودی عرب نے ہمسایہ ملک یمن میں جنگی کارروائیوں کا آغاز کیا جو تاحال جاری ہے۔ ولی عہد مقرر ہونے کے بعد انہوں نے دوسرا دھماکا (مئی 2017 میں) تب کیا تھا جب ان کے حکم پر درجنوں شہزادوں، امراء اور سابق وزراء کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ ایک بہت بڑا جوا تھا جس سے شاہی خاندان کے رشتوں میں دراڑ پڑ سکتی تھی، لیکن محمد بن سلمان نہ صرف اس دراڑ پر قابوپایا انہوں نے گرفتار شہزادوں سے اربوں ڈالر نکلوا کرملکی معیشت کو بھی کافی حد تک مستحکم کیا.جس سے ان کی اپنی پوزیشن بھی کافی مضبوط ہو گئی اور اب تقریباً سبھی حریف ان کے راستے سے ہٹ چکے ہیں۔

محمد بن سلمان نے ملک میں عورتوں کے حقوق کے حوالے سے بھی کئی اہم اقدامات اٹھائے جنہیں سعودی قدامت پسند معاشرے میں بہت بڑی تبدیلی ہیں۔ انہوں نے عورتوں کو نہ صرف گاڑی چلانے کی اجازت دی بلکہ بغیر خود مختار کاروبار شروع کرنے کا موقع بھی ملا۔ ان ہی کے دور میں پہلی دفعہ ایک خاتون سعودی عرب کی اسٹاک ایکسچینج کی سربراہ بھی بنی ہیں۔ اسی طرح (اپریل 2018 میں) 35 برس بعد سعودی عرب کے کسی سنیما میں فلم کی نمائش ہوئی اور سعوی عرب میں پہلے انٹرٹینمنٹ سٹی کے منصوبے کا آغاز ہواجس سے یہ بات واضع ہوگئی کہ محمد بن سلمان سعودی معاشرے اور امور مملکت کو پرانے روایتی طریقہ کے بجائے جدید مغربی طرز پر چلانے کے خواہش مند ہیں. اسی لیے اکثر ماہرین ان کے دورہ پاکستان کو اسس تناظر میں دیکھ رہے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں