252

پاکپتن: ذہنی دباو،والدین کی طرف سے بے جا سختی اور وقت نہ دینا نوجوانوں کو نشہ کی طرف راغب کرتا ہے. محمد ذوالفقار.

پاکپتن(ولی محمد شاکر سے ) ذہنی دباؤ اور والدین کی طرف سے بے جاسختی اور نوجوان بچوں کی ڈانٹ ڈپٹ اور ان کو وقت نہ دینا نوجوان نسل کو نشہ اور دیگر بری عادات کی طرف راغب کرتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پرنسپل آکسفورڈ کالج محمد ذوالفقار نے انجمن فلاح مریضاں وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام نشہ وجنسی تشدد کے خلاف آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرکے اور والدین کی طرف سے توجہ دلا کر ان برائیوں سے دور رکھ سکتے ہیں۔ نشہ کی پہلی سیڑھی تمباکونوشی ہے جو تیرہ سے سولہ اقسام کے کینسر پیدا ہونے کا باعث ہیں، ہمیں اپنے نوجوانوں کو نشہ کی دلدل میں اترنے سے محفوظ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں نے کہا کہ تمباکونوشی ہمارے قیمتی نوجوانوں کی جانیں لینے کا سبب بن رہی ہے اور اس کی وجہ سے سالانہ ساٹھ سے ستر لاکھ اموات ہورہی ہیں جس پر ہم خاموش تماشائی نہیں رہ سکتے ہمیں اپنا بھر پور کردار ادا کرنا ہوگا۔ صدر پریس کلب وقار فرید جگنو نے کہا کہ جنسی بے راہ روی ہمارے ہمارے معاشرے میں پھیلتی جارہی ہے ، معصوم بچوں پر بلاناغہ جنسی تشدد کی خبریں موصول ہورہی ہیں اور اکثر واقعات میں قریبی عزیزو اقارب ملوث ہوتے ہیں۔ہم اپنے بچوں کو ان حملوں سے بچاؤ کی تربیت دے کر ان کو محفوظ بناسکتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ اس پر بات کرنا بھی گناہ سمجھتے ہیں ہمیں نام نہاد شرم وحیاء کا لبادہ اتار کر اس موضوع پر اپنے بچوں سے بات کرنا ۔نشہ فروخت کرنے والے عناصرکی نشاندہی کرنا سماج کی ذمہ داری ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں