259

حج اور سبسڈی…….(راوکامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

(بشکریہ: https://www.facebook.com/tezcolumn)

حج پر سبسڈی کا مسئلہ اتنا آسان نہیں کہ اسے کسی ایک پیرائے میں بیان یا جواز پیش کیا جاسکے۔ اس بارے میں ایسے ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں گویا کچھ لوگ آج ہی پیدا ہوئے ہیں یا حال ہی میں مریخ سے ہجرت کی ہے؟

اسلام کے بنیادی اراکین میں سے حج وہ واحد رکن ہے جس کی بنیاد مجسم ہے اور جس کا تعلق، شوق، تجسسس اور عشق سے ہے۔ نماز کی ادائیگی کچھ لوگ عشق کی طرح، بہت سے عبادتاً اور ہم جیسے گناہ گار عادتاً کرتے ہیں۔ روزہ ایک فرض ہے لیکن ایک مشکل ہے ایک تکلیف ہے جو الّلہ کی رضا کے لئے اٹھائی جاتی ہے گو کہ شائد کچھ لوگ اسے انجوائے بھی کرتے ہوں۔ زکات کی ادائیگی بھی فرض ہے، اپنا مال دیتے کس کا دل نہیں دکھتا لیکن الّلہ کی خوشنودی اور مستحقین کی مدد کا جزبہ اس میں سکون اور چین بھر دیتا ہے۔ جہاد کے بارے میں خود ہی الّلہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ یہ گراں ہے انسانی نفس پر، مگر الّلہ کے لئے یہ گراں کام بھی فرض ہے۔ حج ان سب سے عبادات سے الگ ہے۔

جہاں تک حج بطور فرض ہے، یہ ٹھیک ہے کہ استطاعت ہو تو حج کریں، لیکن صدیوں سے کیا محض استطاعت والے کررہے ہیں؟ کیا ہمیشہ سے امرا محتاجوں کو حج نہیں کرواتے رہے؟ کیا ہر لاٹری، ہر اجتماع میں بزرگوں کو “کھینچنے” کے لئے حج “قسمت پڑی” میں نہیں نکالا جاتا؟ عامر لیاقت سے لیکر فہد مصطفے تک رمضان المبارک میں حسرت اور عشق میں ڈوبے بوڑھوں کو شو میں کھینچ لاتے ہیں جن کے دل اور ہونٹوں پر حج کی خواہش مچل رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف تو آخرت کمانے کا لالچ کہ جو حج کرکے آئے وہ ایسا ہو جائے کہ جیسے جنا ہوا بچہ ہوتا ہے، گویا سب گناہ معاف ہوجائیں دوسرا یہ کہ روضہ رسول کی زیارت.

ملے سینے سے سینہ جان جاناں یا رسول الّلہ

اب یہ معاملہ فرض سے اوپر ہوکر عشق تک پہنچ جاتا ہے جو کہ اندھا ہوتا ہے۔ پوری دنیا میں ساٹھ سال کے بعد لوگ ریٹائرڈ ہوکر سیروسیاحت کرتے ہیں۔ ہمارے والدین جو بچے پالنے سے لیکر ہم نکموں کی شادیاں کرنے میں کنگال ہوجائیں. روزی روٹی کے لالوں میں لاہور اور کراچی سے سو سو میل دور رہنے والوں نے بھی لاہور، کراچی تک نہ دیکھا ہو بیرون ملک تو کیا جانا اور آخر میں کوئی “تبدیلی حکومت” انھیں بتا دے کہ تمھاری تو “استطاعت” ہی نہیں؟ زندگی کی مشقتیں، ہمارے بزرگوں کی سیاحت اور دنیا دیکھنے کا شوق ویسے ہی چھین لیتی ہیں۔ دولت آنے کے بعد بھی سوائے حج کے، شازونادر ہی سیاحت کرتے ہیں. تو یہ تو زندگی میں حق بنتا ہے کہ “الّلہ کے گھر” کو دیکھ سکیں، حجر اسود کو چوم سکیں اور سنہری جالیوں کا دیدار کرسکیں۔

اب آتے ہیں حکومتی نقطہ نظر پر. یہ ٹھیک ہے کہ صحت کارڈ اور سات لاکھ روپے بہت بڑی نعمت اور خدمت ہے جو کہ عوام کو دی گئی ہے اور یہ بھی ٹھیک ہے کہ حج پر سبسڈی سود کی رقم سے دی جاتی تھی۔ اس کے دو طریقے ہوسکتے ہیں۔ حج کی فیس میں اضافہ نہ کیا جائے بلکہ دو سال پہلے درخواستیں لے لی جائیں. مثلاً اس سال 2020 کی درخواستیں لے لی جائیں بشمول رقم، اسے حلال انویسٹمنٹ میں لگا کر دو سال کے منافع سے ساٹھ سال سے اوپر کے حجاج کو سبسڈی دے دی جائے جب کہ ساٹھ سال سے کم عمر کے لوگوں کو نسبتا کم رعایت دی جائے یا نہ دی جائے۔ حکومت جسموں پر نہیں، دماغوں پر اور اس سے بڑھ کر دلوں پر کی جاتی ہے. اس نو ارب کی بچت سے انمول دل ٹوٹ سکتے ہیں۔ ایسا نہیں ہونا چاہئیے، ایک خواہش تو پھانسی کے پھندے پر بھی پوری ہوجاتی ہے، تو پھر دو دو جوڑوں میں روکھی سوکھی کھاتے، بچے پالتے، “عمر قید با مشقت” گزارنے والوں کی “آخری خواہش” پوری ہونی بنتی ہے۔ رہے نام الّلہ کا!!!!

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں