334

عمران خان کی سیاست ایک جائزہ…..(لیاقت علی ایڈووکیٹ)

تحریر: لیاقت علی ایڈووکیٹ.

پی ٹی آئی کے طرفدار، کپتان کے پرستار اور میرے کئی دوست احباب و عزیز اکثر مجھ سے گلہ کرتے رھتے ہیں کہ میں عمران خان کے خلاف بولتا اور لکھتا رہتا ھوں اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ میں غیر جانبداری سے تجزیہ نہیں کرتا بلکہ بغض عمران خان میں مبتلا ھوں لہذا میں نے سوچا کہ اپنے خیالات پر نظرثانی کرنا چاہیے، ھو سکتا ھے میں کہیں غلطی پر ھوں اور دوبارہ غور و فکر کے ذریعے حقیقت سے آشنائی ھو جائے…
لہذا کل رات سے میں شدید کوشش کررھا ھوں کہ کپتان کی بیس سالہ سیاسی زندگی میں کوئی مثبت اور قابل ذکر اچھائی تلاش کر سکوں، تو میں اپنے پی ٹی آئی کے دوستوں سے معذرت کر لوں اور کپتان کی سیاسی مخالفت ترک کر دوں…
لیکن افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ھے کہ میں انتہائی کوشش کے باوجود بھی عمران خان کی سیاست میں کوئی ایک اچھائی بھی تلاش نہیں کرسکا… بلکہ عمران خان کی سیاست تضادات، ابہامات اور بو نگیوں کا مجموعہ نظر آتی ھے.. اپوزیشن لیڈر کے طور پر وہ ضرورت سے زیادہ تلخ، غیر منطقی اور ناقابل عمل گفتگو کیا کرتے تھے… اور اب وزیر اعظم بن کربھی وہ اب تک کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں دکھا سکے..
اکثر احباب شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی کو عمران خان کے کارنامے کے طور پر پیش کرتے ہیں جبکہ یہ سیاسی نہیں بلکہ سماجی کارنامے ہیں اور عمران خان کے عملی سیاست میں مقبول ھونے سے پہلے شروع کئے گئے تھے . اور ان پروجیکٹس کو سیاست زدہ کرنا بھی درست نہیں ھوگا اور نہ ھی ان کو سیاسی سپورٹ کیلئے استعمال کیا جانا چاہیے.. بلکہ سیاست میں آنے اور وزیراعظم بن جانے کے بعد تو کپتان کو شوکت خانم ہسپتال کے تمام معاملات سے خود کو الگ کر لینا چاہیے تھا..
کپتان کے پرستاروں کی نظر میں نواز شریف کو سزا دلوانے اور عملی سیاست سے ہٹانے کا کارنامہ بھی عمران خان نے سرانجام دیا ھے… تو ان کی خدمت میں عرض ھےکہ اس سلسلے میں خان صاحب نے فرنٹ مین کا کردار ضرور ادا کیا تھا مگر اصل کارفرما قوتیں کوئی اور تھیں..
عمران خان نے سیاست میں آکر دوریوں، تلخیوں اور نفرتوں کو پروان چڑھایا اور اخلاقی طور پر بھی کوئی اچھی مثال قائم نہیں کی… سیاست میں رواداری، برداشت اور رکھ رکھاؤ کا بھی قتل کر دیا… اس کا اندازہ اس بات سے لگائیں کہ بیگم کلثوم نواز کی وفات پر تعزیت کیلئے بھی خان صاحب نہیں گئے.. جبکہ دنیا جانتی ھے کہ یہ پنجابی اور پاکستانی کلچر ھے کہ ھم لوگ اپنی ذاتی دشمنی اور مخالفت کے باوجود بھی ایسے موقع پر اظہار افسوس اور دعائے مغفرت کیلئے دشمن کے گھر جاتے ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں