293

امریکہ میں سیاست اور فلاح و بہبود…….(راوکامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی

(بشکریہ: https://www.facebook.com/tezcolumn)

امریکہ میں ہر شہری پر ٹیکس فرض ہے چاہے آمدن زیادہ سے زیادہ ہو یا کم سے کم؛ ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ جن کی آمدن کم ہو، حکومت لی گئی ٹیکس کی رقم سے بڑا حصہ اگلے سال مارچ میں انھیں واپس کردیتی ہے۔ 2005 سے لیکر 2011 تک، راقم دیگر ٹرینی ڈاکٹروں کی طرح معمولی تنخواہ پر کام کررہا تھا، جیسے جیسے فیملی بڑھتی گئی، ٹیکس ریٹرن بڑھتا رہا یہاں تک کہ ایک سال محض دس فیصد ٹیکس کٹا۔ مشکل دنوں میں اس سہولت اور مالی آسانی کے باعث، آمدن بڑھنے کے بعد اب خطیر ٹیکس ناگوار نہیں گزرتا; یہی نظام کی خوبصورتی ہے۔ گو کہ کارپوریٹس ٹیکنیکل طریقوں سے ٹیکس کی بچت کرلیتی ہیں لیکن لیکن فرد واحد اگر ٹیکس چوری کرے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کی تنظیم “اپنا” 501c3 اسٹیٹس رکھتی ہے۔امریکہ میں اگر کوئی تنظیم 501c3 اسٹیٹس حاصل کرلے تو اس تنظیم کو دی گئی خیرات یا ڈونیشن پر ٹیکس نہیں لگتا۔ مثلاً اگر آپ اپنی کمائی میں سے ایک سو ڈالر شوکت خانم کینسر ہسپتال کو دیں تو اس پر چالیس فیصد ٹیکس کی چھوٹ ہوگی، گویا کہ اس سو ڈالر میں سے چالیس ڈالر امریکہ کی حکومت دے رہی ہے اور ساٹھ ڈالر آپ دے رہے ہیں۔ یہی 501c3 اسٹیٹس اخوت اور ایدھی کا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو یہ امریکہ کا احسان ہے کہ ملک سے باہر رفاہی، فلاح و بہبود اور تعلیمی تنظیموں پر اپنا ٹیکس چھوڑ دیتا ہے۔ یہاں دو باتیں اہم ہیں؛ ایک تو یہ کہ جن تنظیموں کے پاس 501c3 اسٹیٹس نہیں ہے، ہم انھیں عطیات دینے سے کتراتے ہیں۔ مثلاً زاویہ اسکول کے پاس ابھی یہ اسٹیٹس نہیں؛ تو بالکل نہ دینے کی بجائے، آپ نے جہاں 501c3 کو سو ڈالر دے کر ، ساٹھ ڈالر اپنی طرف اور چالیس امریکہ کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے دینے تھے؛ آپ محض ساٹھ ڈالر ہی زاویہ اسکول کو دے دیں، بات تو ایک ہی ہے۔ دوسرا یہ کہ میں ایک بار ایک ایسے ہسپتال گیا جو امریکہ میں مقیم ہمارے دوست پاکستان میں چلاتے ہیں تو دیکھا کہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ اسکے بدلے ہسپتال مالک کو کروڑوں ڈالر امریکہ سے ملتے ہیں اور یہی تاثر پاکستان کے میڈیکل کالجز میں مالی امداد لینے والے کچھ طلبا کا بھی ہے؛ تو جناب ایسا ہرگز نہیں ہے؛ یہ رقم یہاں سے ایسے ڈاکٹر،اپنی حلال کی کمائی میں سے بھیجتے ہیں اور ان میں سے کئی کارڈیاجسٹ، سرجن کی کمریں، بھاری لیڈ پہن کر دن رات کام کرکے ٹوٹ چکی ہیں اور آپریشن ہوچکے ہیں۔ کوئی آپ سے اسکی جزا نہیں مانگتا اور نہ یہ احسان ہے لیکن اپنی سوچ کو مثبت کرنے سے مستقبل میں آپ میں بھی دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا ہوگا۔

دنیا میں کہیں بھی خیراتی یا رفاہی ادارے میں سیاست نہیں ہوتی لیکن اپنے پاکستانی ملک سے باہر بھی یہ کام کرلیتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد، میڈیکل ڈاکٹر بھی تھے اور اداکار بھی؛ دونوں شعبوں میں حال یہ تھا کہ اداکاری کرتے تھے تو لگتا تھا کہ مریض کا چیک اپ کررہے ہیں اور مریضوں کو دیکھتے ہوئے لگتا تھا کہ اداکاری کررہے ہیں۔ یہی حال پاکستانی امریکیوں کا ہے۔ بڑے بڑے فنکار 501c3 آرگنائزیشن میں سیاست کے نام پر انارکی پھیلاتے ہیں اور خیرات زکات پر سیاست کرتے ہیں جبکہ جہاں ملکی اور مین اسٹریم سیاست میں حصہ لینے کی بات آتی ہے تو آئیں بائیں شائیں شروع۔ اس کی وجہ صاف ہے، 501c3 میں رو ہانسی آواز میں “اموشنل اتیاچار” سے کام چل جاتا ہے؛ ایسے ایسے لوگ ڈرامہ بازی کرکے آگے آجاتے ہیں جنھوں نے کبھی کسی رفاہی پراجیکٹ میں عطیہ تک نہیں دیا لیکن سیاست میں یہ ڈرامے نہیں چلتے۔ کیپیٹل ہل، واشنگٹن ڈی سی میں سیاستدان منگل اور بدھ کو ہوتے ہیں۔ اسکا مطلب ہے کہ اگر ڈاکٹر ندیم طارق نے سیاست میں ملک و قوم کی خدمت کرنی ہے تو سوموار کو کلینک کرکے، رات کو چھ گھنٹے کی فلائٹ لیکر ڈی سی آئے گا، سارا دن منگل کو مال اور وقت کی قربانی دیکر رات کو اتنی لمبی فلائٹ لیکر واپس آئے گا اور بدھ کو پھر کام پر۔ یہ ہے مین اسٹریم پولیٹکس کا کارکن جبکہ 501c3 میں کچھ خرچ کئے بغیر، فیس بک پر ہر بنی نوع انسان کی شان میں قلابے ملا کر اور لمبی لمبی چھوڑ کرلیڈر بنا جاسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے جہاں فلاحی کام کرنے ہیں وہاں سیاست ہورہی ہے اور جہاں سیاست کرنی ہے وہاں حال ناگفتہ بہ ہے۔

ہم دور بیٹھ کر کہہ دیتے ہیں کہ نظام ٹھیک ہونے والا ہے لیکن یہ جذبہ اگلے دن جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے۔ احتساب کیا ہے؟ ہر فیلڈ کا اپنا احتساب ہے۔ عمران خان سے لیکر ڈاکٹر امجد ثاقب تک، ڈاکٹر ادیب رضوی سے لیکر ڈاکٹر سعید اختر تک سب نے پہلے اپنی جیب خالی کی اور پھر دوسروں سے مانگے۔ جب ہمارے ہاں 501c3 کا کوئی سربراہ بننا چاہتا ہے اور اس سے پوچھیں کہ بھائی/بہن آپ نے اپنی جیب سے آج تک کیا دیا اور پانچ ہزار ڈالر کا پرس اور بیس ہزار ڈالر کی گھڑی پہنے انسان مہنگائی کا رونا رونے لگ جائیں تو کیا حق ہے سربراہ بننے کا؟ اپنے حصے کا شئیر دینے کے اس سوال کو taboo بنا دیا گیا ہے اور آج یہ حال ہے کہ کروڑ پتیوں کی ایک تنظیم کے اکاؤنٹ میں اتنے پیسے نہیں کہ محتاجوں کو کھانا (food pantry) دینے کا پراجیکٹ جاری رکھ سکے جس پر چند ہزار لگتے ہیں۔عام بندے میں ایک خوف ہے کہ فلاں کرپٹ لوگ جتھے کی صورت میں ہے لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ نان کرپٹوں کا بھی تو جتھہ بنایا جاسکتا ہے۔ جب تک یہ جتھے نہیں بنیں گے، تبدیلی نہیں آئے گی؛ فلاح و بہبود کے نام پر سیاست، اداروں کو تباہ کردے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں