250

ساہیوال: درخت کسی بھی ملک کا ایک قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں. محمد زمان وٹو، ڈپٹی کمشنر.

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے کہا ہے کہ درخت کسی بھی ملک کا ایک قابل قدر اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں جو معاشی ، معاشرتی اور ماحولیاتی حالت کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ درختوں کی بدولت ہی ہمیں صاف ہوا ،غذا اور پانی کے ساتھ ساتھ عمارتی لکڑی ، فرنیچر ،ایندھن ،پھل سبزیاں اور میوہ جات دستریاب ہوتے ہیں ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ ماحولیات کے زیراہتمام شجرکاری مہم کے سلسلے میں پودا لگانے کے بعد بات چیت کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات علی اعجاز اور کسان اتحاد کے نمائندوں خلیل سعید ذیلداراور چوہدری سعید رندھاوا کے علاوہ سول سوسائٹی اور شہریوں کی کثیر تعداد بھی موجود تھی ۔ انہوں نے کہا کہ قدرتی ماحول کو صاف رکھنے کیلئے کم از کم 25 فیصد زمین پر درخت ہونے چاہیں لیکن ملک عزیز کو درختوں کی کمی کی وجہ سے سنجیدہ نوعیت کے کئی مسائل کا سامنا ہے جس کا واحد حل شجر کاری ہے جو عوامی سطح پر ایک تحریک کی صورت میں ہی ممکن ہے ۔اگر حکومت کے ساتھ ساتھ شہری بھی اس کار خیر میں اپنا اہم کردار ادا کریں تو چند سالوں کے اندر اس کمی پر قابو پا کر کئی مسائل سے بچا جا سکتا ہے کیونکہ ملک میں موجودہ آبی بحران اور گرمی کی شدت پر قابو پانے کا پائیدار حل صرف اور صرف شجر کاری سے ہی ممکن ہے ۔ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ ماہ فروری کی اس شجر کاری مہم میں حضور اکرمﷺ کے نام پر ، پاکستان کے نام پر یا اپنے اور اپنی اولاد کے نام پر کم از کم ایک پودا ضرور لگائیں تاکہ آبی قلت اور ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے میں ان کا بھی کردار ادا ہو ۔انہوں نے کہا کہ صرف رسمی کارروائی کرنے کی بجائے پودے لگانے کے بعد بھی ان کا خاص خیال رکھا جائے تا کہ وہ پروان چڑھ سکیں اور ہماری آنیوالی نسل ان کے ثمرات سے مستفید ہو سکے ۔اس موقع پر موجود دیگر شرکاء نے بھی پودے لگائے ۔ دریں اثنا ء ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ ماحولیات علی اعجاز کے ہمراہ شہر کے داخلی اور خارجی راستوں کا بھی تفصیلی دورہ کیا اور صفائی و خوبصورت کیلئے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کیں تا کہ ساہیوال آنیوالوں کو ایک خوشگوار تاثر اور صحت مند ماحول دیا جا سکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں