312

نجات دہندہ کے منتظر اہل قلم …. اے. ڈی . شاہد.

تحریر: اے. ڈی. شاہد.

صحافت عوام کی ترجمانی کرتی ہے، اہل اقتدار اپنے اقتدار کے نشے میں دُھت اور غرق رہتے ہیں، غریبوں کی فریادیں ان کے ایوانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ جاتی ہیں، عوام کی آواز حکمرانوں تک پہنچانے کے لیے میڈیا کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں جو کہ قابل تعریف ہے، معاشرتی نا ہمواریوں اور جرائم کے خاتمے کیلئے مختلف اداروں میں ہونیوالی کرپشن کے خلاف صحافی ہی تو ہے، جو اپنی جان و مال کی پرواہ کیے بغیر سینہ تان کر کھڑا ہو جاتا ہے، اور حکومتی کمیوں کوتاہیوں اور کرپشن کو عوام کے سامنے بے نقاب کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کرپٹ مافیا اور حکومتی جبر اور غضب کا شکار بھی ہو جاتا ہے مگر پھر بھی جذبہ حب الوطنی سے سر شار قلم کا مزدور اگلے دن نئے جوش و جذبے سے رپورٹنگ کے فرائض سر انجام دیتا ہے، معاشرے میں عدم بر داشت کا رویہ بڑی تیزی سے فروغ پا رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ حکمران اور بیوروکریٹس اپنا قبلہ درست کرنے کی بجائے مسائل کی نشاندہی پر صحافیوں کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں جس کی وجہ سے یہ کرپٹ مافیا سرکاری مشینری، سرکاری وسائل اور اپنی طاقت کا استعمال کرتے ہوئے حق اور سچ کی آواز کو دبانے کیلئے صحافیوں پر ظلم و تشدد پر اُتر آتے ہیں مگر قلم کے مزدور محب وطن پھر بھی اپنے دیس واسیوں کی چنتا کرتے ہوئے ان ظالموں کے خلاف ڈٹ جاتے ہیں، اسی وجہ سے صحافت خطر ناک ترین شعبہ اور کانٹوں کی سیج بن کر رہ گیا ہے، 1995ء سے دنیا بھر میں صحافیوں کے خلاف تشدد، قتل اور سفا کانہ سلوک جیسے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، 2018ء صحافیوں کے لیے بد ترین ثابت ہوا ہے، رپورٹرز ود آؤٹ آف بارڈرز کے ایک سروے کے مطابق 180ممالک میں سے اس سال 80صحافی ہلاک ہوئے 348جیلوں میں بند ہیں جبکہ 60کے لگ بھگ یر غمال بنائے گئے ہیں، دنیا بھر میں اہل صحافت کو ایک ایسی سطح کے مخالفانہ رویوں کا سامنا ہے جس کی اس سے پہلے کوئی مثال موجود نہیں، اس سال کے دوران قتل ہونیوالے صحافیوں کی تعداد 8فیصد اضافے سے 80ہو گئی، جو کہ اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیے گئے صحافیوں کی شرح 2017ء کے مقابلے میں 15فیصد بڑھی، 2018ء میں ویسے تو کئی صحافی قتل ہوئے لیکن ایک ایسا صحافی قتل ہوا جس نے جارح مزاج سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو بیک فٹ پر جانے پر مجبور کر دیا، سعودی نثراد صحافی جمال خشوگی 2اکتوبرکو استنبول میں امریکی قونصل خانے میں داخل ہوئے پھر کبھی لوٹ کر واپس نہ آ سکے، پہلے تو سعودی حکام نے لا علمی کا اظہار کیا لیکن جب ترک صدر نے ثبوتوں کے ساتھ دعویٰ کیا کہ خشوگی کو قتل کیا گیا ہے تو سعودی حکام نے قتل کی تصدیق کر دی اور واقعے کو حادثہ قرار دیدیا، اس حادثے کے مکروہ سائے سے سعودی ولی عہد ابھی تک پیچھا نہیں چھڑا پائے، سال 2018ء میں نصف سے زائد صحافیوں کو ہلاک کرنے سے پہلے سفا کانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا، سن2018میں افغانستان صحافیوں کیلئے سب سے زیادہ ہلاکت خیز ملک ثابت ہوا، جہاں 16صحافیوں کو اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے، اس فہرست میں دوسرے نمبر پر شام ہے جہاں 11اور تیسرے نمبر پر میکسیکو ہے جہاں 7پروفیشنل صحافی اور 2سیٹیزن جرنلسٹس قتل ہوئے، میکسیکو جنگ کے زون سے باہر ایک ایسا ملک ہے جہاں صحافیوں کی ہلاکتوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، اس سال قید کیے گئے دنیا بھر میں صحافیوں کی تعداد348رہی جو پچھلے سال کے مقابلے میں 22زیادہ ہے، 2017میں زیر حراست صحافیوں کی تعداد 326تھی، جیلوں میں بند نصف سے زیادہ صحافیوں کا تعلق دنیا کے محض پانچ ملکوں سے ہے جن میں چین، ایران، سعودی عرب، مصر اور ترکی شامل ہیں، سب سے زیادہ قیدی چین کی جیلوں میں بند ہیں جن کی تعداد 60ہے، یہ تعداد پچھلے سال 54کے مقابلے میں 11فیصد زیادہ ہے، ایک صحافی کے سو ا باقی تمام صحافیوں کو مشرق وُسطیٰ کے تین ملکوں شام، عراق اور یمن میں یر غمال بنا کر رکھا گیا ہے، یر غمال بنائے گئے صحافیوں میں 6غیر ملکی جرنلسٹ بھی شامل ہیں اگرچہ عراق اور شام میں داعش کو شکست ہو چکی ہے لیکن اس کے با وجود ماسوائے جاپان کے صحافی جوم پی یا سودا کے جسے تین سال کے بعد شام سے رہا کر دیا گیا تھا، باقی لا پتہ صحافیوں کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ وہ کس حال میں ہیں اور آیا کہ وہ زندہ بھی ہیں کہ نہیں، سال2018کی درجہ بندی کے لحاظ سے صحافیوں کیلئے سب سے محفوط ملک ناروے ہے جبکہ دوسرا نمبر سویڈن اور تیسرا نمبر نیدر لینڈ کا ہے، آخری نمبر پر شمالی کوریا ہے جبکہ اس سے ایک درجہ اوپر 179پر ارٹیریا اور 178پر ترکمانستان ہے، نام نہاد جمہوریت کے علمبر دار بھارت میں بھی صحافیوں کیلئے زمین تنگ ہو رہی ہے، اس سال بھارت میں 6صحافی قتل ہوئے اور ان کیلئے فرائض کی ادائیگی کے حالات میں مزید ابتری آئی ہے جس کے بعد بھارت کی رینکنگ 138ہو گئی ہے، اگرچہ افغانستان میں اس سال مجموعی طور پر 16صحافی قتل ہوئے لیکن صحافیوں کیلئے خطر ناک تین صحافیوں کی درجہ بندی میں اس کا قیام پاکستان اور بھارت سے بہتر ہے اس کی رینکنگ 118ہے کیونکہ وہاں صحافیوں کے دیگر حالات ان کے مقابلے میں بہتر ہیں، چین اس فہرست میں 176ویں نمبر پر ہے، 2018ء میں وہاں کسی صحافی کا قتل نہیں ہوا لیکن وہاں کے حالات صحافیوں کے آزادانہ کام کیلئے ساز گار نہیں ہیں، پاکستان کا شمار بھی صحافیوں کیلئے خطر ناک ترین ملکوں میں ہوتا ہے جو 139ویں نمبر پر ہے، وطن عزیز میں اس سال 3صحافی قتل ہوئے اس کے علاوہ صحافیوں کو حکومتی اداروں اور مختلف گروہوں کی جانب سے بھی جبر اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ سے ان کیلئے اپنی پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی آسان نہیں رہی، گزشتہ 5سالوں کے دوران 26صحافیوں کو اپنی پیشہ وارانہ سر گرمیوں کے دوران قتل کیا گیا، ایسے حالات میں صحافیوں کی فلاح و بہود اور حقوق کی علمبردار کئی صحافتی تنظیمیں رجسٹرڈ ہوئیں مگر اپنے ذاتی مفادات تک محدود ہو کر رہ گیئں، صرف پاکستان میڈیا کونسل ہی ایک ایسی جماعت زیر صدارت مہر حمید انور دُلو، چیئرمین رائے اعجاز نصیر، کوارڈینیٹر اکرم عامر، جنرل سیکرٹری سعید شاہ، ڈپٹی سیکرٹری مقصود احمد، چیئرمین پنجاب مہر محمد عباس، سینئر نائب صدر پنجاب افتخار احمد بھٹی، جنرل سیکرٹری خواتین ونگ پنجاب محترمہ عائشہ حسن، نگہت بانو، عابد چوہدری و دیگر اینکر پرسن و انٹرنیشنل جرنلسٹ اور سینئر ز صحافیوں پر مشتمل معرض وجود میں آئی جس نے نہ صرف اہل قلم کے حقوق کی جنگ لڑی بلکہ دیگر مسلم ممالک میں بھی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے خلاف کلمہ حق بلند کیا، دیکھتے ہی دیکھتے قلیل اور مختصر عرصے میں یہ پاکستان میڈیا کونسل کا خوبصورت گلدستہ ایک وسیع و عریض چمن کی شکل اختیار کر گیا اور اہل صحافت کے خلاف ہر حکومتی جبر کے سامنے سیسہ پلائی کی دیوار ثابت ہوا، جس سے ملک کے کونے کونے سے جوق در جوق صحافی اس میں شامل ہوئے کیونکہ قلم کے مزدوروں کے حقوق کی سر بلندی کیلئے اس جماعت نے جو مسیحائی کردار ادا کیا اس کی مثال نہیں ملتی، اسی لیے ذاتی مفادات سے بالا تر غرض و غایت سے پاک مہر حمید انور کی قیادت پہ قلمکار لوگ نہ صرف اعتماد کرنے لگے بلکہ اہل صحافت جس کا صدیوں سے انتظار کر رہے تھے اسے اپنا مسیحا، اپنا نجات دہندہ تصور کرنے لگے اور اِن کے ایک اشارے پر غلط حکومتی جبراور کرپٹ مافیا کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے، کیونکہ صحافی اہل علم طبقہ ہے اور خوب سمجھتا ہے کہ عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے، مادرِ گیتی انہیں روز روز جنم نہیں دیتی، حیات کو ممات کے لاکھوں نشیب و فراز کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حیات کو مر مر کے جیئے جانے کا راگ الاپنا پڑتا ہے، تب جا کر خاک کے پردہ ہائے نہانی سے کوئی ایسا شخص وجود میں آتا ہے جو نہ صرف عظمت کے معیار پر پورا اُترتا ہے بلکہ ایسے عظیم انسان پوری قوم کو حیات دوام عطا کرتے ہیں اور قائد پاکستان میڈیا کونسل مہر حمید انور بھی ایسی ہی چند روزنابغۂ روز گار شخصیات میں سے ایک ہی ہیں جنہوں نے صحافت اور صحافیوں کی بقا کیلئے بلا خوف و خطر اپنے ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر اہل صحافت کی ڈگمگاتی ناؤ کو سنبھالا جس کی وجہ سے صحافیوں میں بڑھتا ہوا مافیاتی خوف اور احساس محرومی کم ہوا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں