266

کراچی: سپیکر سندھ اسمبلی کرپشن کیس میں گرفتار ۔زرداری کا حکومت کو مذید وقت دینے سے انکار.

کراچی (حکیم محمد یوسف سے) نیب نے اسپیکرسندھ اسمبلی اور راہنما پاکستان پیپلز پارٹی آغا سراج درانی کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا ۔ سابق صدر مملکت و شریک چیئر مین پاکستان پیپلزپارٹی آصف علی زرداری نے سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو جتنا وقت دینا تھا دے دیا اور اب مزید وقت نہیں دیں گے، مولانا فضل الرحمن قدم بڑھائیں ہم ساتھ ہیں پارٹی سربراہ بلاول بھٹو زرداری نے اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ سے آغاسراج درانی کی گرفتاری کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق اسپیکر سندھ اسمبلی کواسلام آباد کے ایک فائیو اسٹار ہوٹل سے گرفتار کیا گی ۔ نیب حکام کے مطابق ملزم کی گرفتاری انٹیلی جنس معلومات پرنیب کراچی کی ٹیم نے راولپنڈی اور اسلام آباد کی ٹیم کی معاونت سے کی۔ ان کو احتساب عدالت میں پیش کر کے 3روز کا راہداری ریمانڈ لے لیا گیا، اب ان کو کراچی منتقل کیا جائے گا۔ نیب حکام کے مطابق آغاسراج درانی کو اثاثہ جات ریفرنس میں نیب کراچی کی ٹیم نے متعدد بار طلب کیا تھا لیکن وہ نہ خود پیش ہوئے اور نہ ہی کوئی وضاحتی بیان دیا، فی الوقت ملزم کی گرفتاری آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس میں ہوئی ہے. جب کہ غیر قانونی بھرتیوں اور قومی خزانے میں مبینہ طور پر گھپلوں سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ علاوہ ازیں نیب کی ٹیم نے رینجرز کی مدد سے کراچی میں آغا سراج درانی کے گھر پر چھاپہ مارا اور 3گھنٹے سے زائد وقت تلاشی لی گئی۔ اس دوران نیب افسران نے اہم فائلیں بھی قبضے میں لے لیں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی کے محافظوں نے نیب کی ٹیم کو گھر میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی اس موقع پر نیب کی ٹیم سے تلخ کلامی بھی کی تاہم نیب حکام دستاویزات دکھاکراندر داخل ہوگئے۔ چھاپے کے وقت سراج درانی کے اہل خانہ گھر میں ہی موجود تھے۔ سابق ڈپٹی اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کو نیب نے تلاشی کے دوران آغا سراج درانی کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جس انہوں نے باہر ہی دھرنا دے دیا۔ ادھر اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ سراج درانی کو گرفتار کرکے جمہوریت کو چیلنج کیا گیا، پیپلز پارٹی کارکنان سڑکوں پر آئیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر ٹائر چوری اور اس طرح کے مقدمات بنا نے کے بجائے ایسا کیس بنایا جائے کہ غدار قرار دیا جائے، اگر جیل جانا پڑا توجیل میرا دوسرا گھر ہے، ڈیل کبھی نہ کی اور نہ کریں گے، پیپلزپارٹی تمام مقدمات کا سامنا کرے گی، نیب کا مقابلہ کریں گے۔ سابق صدر مملکت کا کہنا تھاکہ بلاول میرا اور بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہے، اسے کہاں ڈراتے ہو؟ ڈرا ؤانہیں جنہوں نے کبھی جیل نہیں دیکھی، اب ہمارے مقدمات راولپنڈی میں چلائے جائیں گے، عوام کو راولپنڈی بلا نے کا پیغام دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، مقبوضہ کشمیر میں صورتحال کشیدہ ہے، ان ہنگامی حالات میں کشمیر کی صورتحال اہم ہے، نابالغ حکومت کوسمجھ نہیں آرہی،بھارت نے کچھ بھی جارحانہ قدم اٹھایا تو پیپلزپارٹی پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہو گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کو ضمانت ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں۔ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی بطور چیئرمین نیب تعیناتی پر پشیمانی ہے۔ دوسری جانب بلاول بھٹو زرداری نے ٹویٹر پر بیان اور پھر لندن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر پر یہ ’حملہ‘ ناقابل قبول ہے اورسندھ حکومت کو گرانے کی غیرجمہوری کوشش پہلے بھی ناکام ہوئی اور اب بھی ہو گی۔ ان کا کہناتھا کہ ہم بے نامی وزیراعظم کو بے وردی آمریت قائم نہیں کرنے دیں گے،غیرجانبدار اداروں کو سیاسی انجینئرنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ بلاول نے کہا کہ حکومت کوانتخابی دھاندلی کے معاملے سے بھاگنے نہیں دیں گے، حکومت کے خلاف وائٹ پیپرز تیار کر رہے ہیں، پاکستان واپس جاکر یہ وائٹ پیپرعوام کے سامنے رکھوں گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بے نامی اکاونٹس پراچانک سوموٹو لینا بھی سمجھ سے باہر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں