323

مطلب نکل گیا ہے تو پوچھتے نہیں؟۔…(پیر شاہد علی چشتی، ایڈووکیٹ)

تحریر: پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ.

کل کنٹینر پر کھڑے ہو کر کپتان فرماتے تھے کہ سوشل میڈیا کے خلاف نوازشریف یا کسی حکومت کو نوجوان نسل کے اظہار سے روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور میں یہ نہیں ہونے دوں گا کہ عام لوگوں کو اس ذریعہ اظہار سے روکا جائے، سوشل میڈیا ایک پاور اور عوامی جذبات کے اظہار کا مؤثر ذریعہ اور انداز ہے ۔
آج ان کی اپنی حکومت کے وزیر اطلاعات سوشل میڈیا پر کریک ڈاؤن کا اعلان فرما رہے ہیں، نوازشریف حکومت نے تو اپنے خلاف سوشل میڈیا پر ہونے والی ہر قسم کی احمقانہ ویڈیوز اور غلیظ پروپیگنڈہ پر چپ سادھے رکھی اور آج کپتان کی حکومت جو نوجوان نسل کی نمائندہ حکومت ہے اور پی ٹی آئی پاکستان کی سب سے بڑی سوشل میڈیا جماعت ہے اور پی ٹی آئی نے ہی سب سے پہلے سوشل میڈیا پر سیاسی پارٹی کو متعارف کروایا اور سوشل میڈیا کی پاور سے ابھر کر پاکستان کی تیسری پارٹی بنی اور نوجوانوں کا ووٹ لیکر اقتدار میں آئی۔ آج سوشل میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کی دھمکیاں اور تڑیاں دے رہی ہے؟ کیا تبدیلی اسی بات کا نام ہے کہ دوسروں کے خلاف جو مرضی کہا جائے اور اپنے خلاف بولنے والی ہر زبان کو خاموش کردیا جائے؟
مسٹر وزیر اطلاعات صاحب، پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ فرمائیں، پہلے بھی پاکستان کے ایک عوامی وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے پرنٹ میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن کیا تھا تو کیا وہ تاریخ میں نیک نامی کما گۓ؟ آپ کو بھی پرنٹ اور سوشل میڈیا کے بارے میں اخلاقیات پر مبنی قوانین بنانے چاہئیں اور عوام کو اس طرف راغب کرنے کی تلقین کرنا چاہیے نہ کہ اپنے ہی لوگوں اور طرف دار طبقہ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا چاہیے۔ زبانیں بند کرنے سے تبدیلی نہیں آتی؟ جس طرح کل پی ٹی آئی اور کپتان نے لوگوں کو اپوزیشن جماعتوں کے لیڈروں کی کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا کر ان کو بے نقاب کیا، آج بھی اپنی حکومت کے ذریعہ اور کارگردگی کے ذریعہ تبدیلی کو حقیقت میں تبدیل کریں۔سوشل میڈیا اور میڈیا کے خلاف کریک ڈاؤن آپ کی ہی بدحواسی اور ناکامی کا موجب بنے گی۔ براہ کرم کپتان کی حکومت کو خراب کرنے کی بجائے انکے ہاتھ مضبوط کریں اور نوجوان نسل کو ان کا مخالف مت کریں۔ کہ خاموشی ہمیشہ کسی طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں