245

ساہیوال: اراضی ریکارڈ سینٹر میں مبینہ ٹمپرنگ اور بدعنوانی کا کمشنرعارف انور بلوچ نے سخت نوٹس لے کرفرانذک آڈٹ کا حکم دے دیا.

ساہیوال (خصوصی رپورٹ) کمشنر ساہیوال ڈویژن عارف انور بلوچ کا اراضی ریکار ڈ سنٹر ساہیوال میں ہونے والی شدید بد عنوانیوں اور ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے سنٹر کے فرانزک آڈٹ کا حکم، غائب کئے جانے والے رجسٹرز کی بازیابی کے لئے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن میں مقدمات درج کرائے جائیں، کمشنر کی ہدایت۔تفصیلات کے مطابق کمشنر عارف انور بلوچ نے اراضی ریکارڈ سنٹر ساہیوال میں شدید بے ضابطگیوں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے فرانزک آڈٹ کرانے اور ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج کرنے کی ہدایت کی اور کہا ہے کہ اراضی ریکارڈ میں ٹمپرنگ کرنے والوں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔اپنے دفتر میں ہونے والے ایک اجلاس میں انہوں نے سنٹر کی سابقہ انتظامیہ کی طرف سے کی گئی مبینہ بد عنوانیوں کے خلاف سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو بھی خط لکھنے کی ہدایت کی ۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر ساہیوال محمد زمان وٹو ،اسسٹنٹ کمشنر ساہیوال محمد سیف ،اسسٹنٹ کمشنر چیچہ وطنی محمد عابد ،اسسٹنٹ کمشنر ریونیو علی باجوہ اور سنٹر انچارج محمد عمیر نے بھی شرکت کی ۔کمشنر عارف انور بلوچ نے کہا کہ سنٹر میں آنے والے سائلین کے ساتھ بد تمیزی اور نارروا سلوک کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اور عملے کو اپنا رویہ فوری بہتر بنانا ہو گا ۔انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ کسی کرپٹ اہلکار کی حمایت نہ کرے گی اور نہ ہی کسی اور کو اس کی اجازت دی جائے گی اور حکومت کی رٹ ہر حالت میں بحال کی جائے گی ۔انہوں نے سنٹر انتظامیہ کو سختی سے ہدایت کی کہ سنٹرمیں ٹاؤٹ مافیا کا داخلہ مکمل بند کیا جائے اور صرف حقیقی سائلین کو ہی ٹوکن جاری کئے جائیں ۔ڈپٹی کمشنر محمد زمان وٹو نے بتایا کہ اراضی ریکارڈ سنٹر ساہیوال میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور عام آدمی کو اپنے معاملات کے حل کیلئے ٹوکن سسٹم پر بھی عمل شروع کر دیا گیاہے اور سنٹر کی سروس ڈیلوری میں بتدریج بہتری آ رہی ہے جس کے لئے مانیٹرنگ کا عمل بھی مسلسل جاری رکھا جائے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں