337

سانحہ کچھ یوں ہوا ہے کہ……چاند ، حیدر آباد.

تحریر: چاند ، حیدر آباد.

سانحہ کچھ یوں ہوا ہے کہ
آسماں بھی رودیا
روتا رہا،روتا رہا
جب میری طرف دیکھا
تو غصہ ہوا بہت
آواز دی مجھے
غضب ناک آواز
کہا کہ
اے پاگل لڑکی!!
میں رورہا ہوں تیرے غم میں
اور تو ہے کہ آنسو چھپائے پھر رہی ہے
تو رو، زار وقطار رو
اتنا رو کہ تیرے سارے دکھ
ساری اذیت باہر آجاۓ
آسمان نے کہا تھا وہ میرے ساتھ ہے
پر جب مجھے پتھر بنا پایا تو
تو خود کے آنسو بھی پونچھ ڈالے
اور کہا کہ
تیرا کچھ نہیں ہو سکتا اور
میں تیرے لئے اور نہیں روسکتا
پر اس کو کون سمجھائے
کوئی تو سمجھیں نہ
کہ سانحہ کچھ یوں ہوا ہے
کہ سارے آنسو
خون بن کر رگوں میں دوڑ رہے ہیں
یوں یہ میرا ساتھ دے رہے ہیں
کہ صرف میرے آنسو ہی
میرا ساتھ دے رہےہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں