270

اسلام آباد: العزیزیہ ریفرنس. نواز شریف کی طبی بنیادوں پر درخواست ضمانت مسترد، ہسپتال سے واپس جیل منتقل.

اسلام آباد (حکیم طارق شادسے) اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم محمد نواز شریف کی طبی بنیاد پر سزا معطلی اور ضمانت کی درخواست مسترد کردی ہے۔ پیر کو عدالت عالیہ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل2 رکنی بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔ عدالت نے ابتدا میں انتہائی مختصر فیصلہ سنایا اور سابق وزیراعظم کی درخواست کو مسترد کردیا تاہم بعدازاں 9 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ نوازشریف کو علاج معالجے کی سہولیات دستیاب ہیں، یہ کیس غیر معمولی حالات کا نہیں بنتا، نوازشریف کے معاملے میں مخصوص حالات ثابت نہیں ہوئے،عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلوں کے نتیجے میں ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ سپرنٹنڈنٹ جیل کے پاس بیمار قیدی کو اسپتال منتقل کرنے کا اختیار ہے، نوازشریف کے کیس میں قانون کے تحت جب ضرورت پڑی اسپتال منتقل کیاگیا، قیدی کا جیل یا اسپتال میں علاج ہو رہا ہو تو ضمانت کا حق دار نہیں ہوتا، نواز شریف نے جب بھی خرابی صحت کی شکایت کی انہیں اسپتال منتقل کیا گیا۔ عدالتی فیصلے میں پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل انعام میمن سمیت مختلف عدالتی فیصلوں کے حوالے بھی پیش کیے گئے ہیں۔ نواز شریف کی درخواست ضمانت مسترد ہونے پر کمرہ عدالت میں موجود ن لیگی سینیٹر پرویز رشید، مریم اورنگزیب، زہرہ ودود، نزہت صادق، طلال چودھری، لیگی خواتین و کارکنان آبدیدہ ہوگئے۔ ہائی کورٹ کے باہر (ن) لیگ کے کارکنان موجود تھے جو وزیراعظم نواز شریف کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔ دریں اثنا مسلم لیگ (ن) نے طبی بنیاد پر نوازشریف کی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے راہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے مایوسی ہوئی، 5 طبی بورڈز نے نوازشریف کی بیماری کی تشخیص کی اور فوری علاج کی سفارش کی، پوری امید تھی کہ ہائی کورٹ علاج کے لیے ضمانت کی درخواست قبول کرلے گی، ہم ہمیشہ سے عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے آرہے ہیں، اس کا بھی کرتے ہیں، جو بھی مزید قانونی راستے ہیں ان کو اپنایا جائے گا، نوازشریف کو جو علاج چاہیے وہ جیل میں میسر نہیں ہے۔ اس موقع پر سابق وزیر خارجہ و دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ جتنے قانونی راستے دستیاب ہیں وہ اپنائیں گے کیونکہ یہ ہمارا حق ہے، ہم اپیل میں بھی جائیں گے، قوی امید ہے انصاف ملے گا۔ علاوہ ازیں سابق وزیراعظم نواز شریف11 روز علاج کے بعد جناح اسپتال سے واپس کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیے گئے۔ نواز شریف کی اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہوئی تو انہوں نے جناح اسپتال سے واپس جیل منتقل ہونے کی خواہش ظاہر کی جس پر نواز شریف کو خصوصی سیکورٹی میں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا۔ اس موقع پر لیگی کارکنوں نے شدید نعرہ بازی کی۔ اس سے قبل جناح اسپتال میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے اپنے بھائی نواز شریف کی عیادت کی۔ ضمانت مسترد ہونے کی خبر پر ان کا کہنا تھا کہ ہم آئندہ لائحہ عمل کے لیے بات چیت کر رہے ہیں جو بھی ممکن ہوا قانونی راستہ اپنائیں گے۔ اس موقع پر مریم نواز بھی موجود تھیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں