365

سنہرا جال….. (شاہ جہان سی)

تحریر: شاہ جہاں سی.
(بشکریہ: روزنامہ جسارت ، کراچی)

آصف بھائی… دیکھیں… میری دوست پہلی بار آپ کی دکان پر آئی ہے کچھ اچھے اچھے کارڈز دکھایے ۔
آصف نے صائمہ کو دیکھا تو پلک جھپکنا ہی بھول گیا شاید یہی وہ صورت تھی جو اس کے سپنوں میں بسی تھی اور صائمہ اس کے چہرے پر تو گھبراہٹ کے مارے پسینہ چھوٹنے لگا ۔
وہ ایک دبے دبائے ماحول کی معصوم سی لڑکی تھی اس کے لیے اس طرح کسی لڑکے کا سامنا کرنا بہت مشکل تھا بس وہ اپنی دوست فیروزہ کو ٹہوکے مارتی رہی کہ بس واپس چلیں کیونکہ اس کی تو کوئی ایسی دوست نہ تھی جسے وہ اس ویلنٹائن پر کارڈ دیتی مگر فیروزہ ایک گھاگ شکاری تھی جس نے جان بوجھ کر معصوم اور بھولی بھالی صائمہ کو دوست بنایا تھا بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ آلۂ کار بنایا تھا کیونکہ اس کا کام ہی یہی تھا کہ وہ معصوم لڑکیوں کی آڑ میں دکانوں پر سے مال بٹورتی تھی۔ اس نے کچھ بہت اچھے مہنگے کارڈ منتخب کیے اور یہ ظاہر کیا کہ یہ صائمہ کوپسند آئے ہیں اور آصف سے قیمت پوچھی اور آصف جو پہلی نظر میں ہی اسیر ہو چکا تھا اس نے پیسے لینے سے انکار کر دیا ۔ ارے نہیں آپ ہی کی دکان ہے جو چاہیں لے لیں ۔ صائمہ کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اس نے کارڈ فیروزہ کے ہاتھ سے لے کر واپس کائونٹر پر رکھ دیے لیکن آصف نے کارڈ زبر دستی فیروزہ کو تھما دیے اور اس نے اشارہ کیا کہ وہ باہر جا کر یہ صائمہ کو دے دے گی۔
لیکن ۔ اس کا طریقہ کار ہی یہ تھا کہ وہ سارے کارڈ خود لے کر چلی گئی ۔
کچھ دن بعد پھر وہ زبر دستی صائمہ کو لے کر آصف کی دکان پر گئی اور اس بار کچھ اچھے گفٹ دکھانے کی فرمائش کی اور اسی طرح بغیر قیمت ادا کیے کچھ بہت اچھے اور مہنگے گفٹ لے کر چلتی بنی ۔
اور پھر سلسلہ وقتاً فوقتاً چلتا رہا ۔
بات یہیں تک رہتی تب بھی اتنا برا نہ ہوتا ۔ مگر اب فیروزہ نے نیا پلان بنایا ۔ اپنی دوستوں کو اپنی سالگرہ پر مدعوکیا اور صائمہ کے انکار پر اس کے گھر پہنچ گئی اور اس کی امی کو اپنی سالگرہ کا بتا کر صائمہ کو شرکت کی اجازت دلوائی جو کہ وہ ایک ہوٹل میں ارینج کر رہی تھی ۔ ساتھ ہی پک اینڈ ڈراپ کا وعدہ بھی کیا ۔
صائمہ کی امی نے اس شرط پر اجازت دی کہ دعوت دوپہر میں کی جائے رات کو اسے کہیں جانے کی اجازت نہیں ہے ۔ بالآخر لنچ پر لے جانے کا انتظام ہوا ۔
اُدھر آصف کو یہ بتایا گیا کہ سالگرہ صائمہ کی ہے اور اسی آصف کو بھی مدعو کیا۔ آصف کے تو دل کی کلی کھل گئی اس کے توقدم ہی زمین پرنہ پڑتے تھے ۔ دعوت کے لیے وہ بڑے اہتمام سے تیار ہوا بہت خوبصورت گھڑی خریدی جس کی قیمت صائمہ کے تصور سے بھی زیادہ تھی مگر وہ گھڑی کونسا صائمہ تک پہنچنے والی تھی سالگرہ کی تقریب میں آصف بہت تیار ہو کر پہنچا اور جاتے ہی صائمہ کو مبارک باد دی اور گھڑی اس کی طرف بڑھائی صائمہ نے حیران ہو کر آصف کو دیکھا ایسے میں فیروزہ نے ہاتھ بڑھا کر تحفہ پکڑ لیا اور کہا آصف بھائی آپ بھی کمال کرتے ہیں آپ کے ہاتھ سے کہاں لیتی ہے صائمہ کوئی چیز مجھے دیجیے میں خود ہی پہنا دوں گی ۔
صائمہ کی حیرانی مزید بڑھ گئی اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ فیروزہ کی سالگرہ کی مبارک باد اسے کیوں دی جارہی ہے ۔ اسی حیرانی میں کھانا لگا اور فیروزہ نے کمال ہشیاری سے تصویریں بنانی شروع کر دیں صائمہ انکار کرتی رہی مگر اس کی سنتا کون؟
اللہ اللہ کر کے دعوت ختم ہوئی سب سے زیادہ حیرت تو اس وقت ہوئی جب آصف نے دعوت کا بل ادا کیا جو کہ ہزاروں پر مشتمل تھا ۔ اور یہ سب اس غلط فہمی میں ہواکہ سالگرہ صائمہ کی ہے ۔ کھانے کے بعد آئسکریم کا دور چلا اور اچانک فیروزہ نے سب کے سروں پر بم پھوڑا’’ ہپلی ویلنٹائن ڈے‘‘ ۔ کیسا رہا سر پرائز؟
کیا؟ فیروزہ کی ساری سہیلیاں ایک ساتھ چیخیں۔
تم کتنی چیٹر ہو فیروزہ تم نے سالگرہ کی آڑ میں ہم سے تحفے بٹورے اور اب…؟
بھئی دیکھو سیدھی سی بات ہے کہ اگر میں اپنی سالگرہ کی بات نہ کرتی تو صائمہ کی امی اسے آنے کی اجازت نہ دیتیں ۔ آصف بھائی کو صائمہ کی سالگرہ کا نہ بتاتی تو یہ بھی نہ آتے اور رہ گئیں تم سب تو مرو نہیں میں نے بھی تم سب کے لیے گفٹ رکھے ہیں اور اس طرح آصف کی دکان سے لیے ہوئے گفٹ اور کارڈز سب کو دیے اور بڑی ڈھٹائی کے ساتھ آصف کی د ی ہوئی گھڑی خود رکھ لی یہ کہہ کر کہ آصف بھائی اتنی چیٹنگ تو چلے گی نا؟
اور آصف اس وعدے کے ساتھ کہ وہ صائمہ کو بعد میں دوسری گھڑی لا دے گا بات ختم کی لیکن صائمہ کو یہ سب بالکل پسند نہ آیا اور اس کے بعد وہ محتاط ہو گئی اور پھر کبھی فیروزہ کے ساتھ آصف کی دکان پر نہ گئی ۔
اِدھر آصف مرغِ بسمل کی طرح تڑپنے لگا۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ صائمہ کے لیے آنے والا ایک بہت اچھا رشتہ اس کے والدین نے قبول کر لیا اور منگنی کی تاریخ بھی طے ہو گئی شادی امتحان کے بعد ہونا قرار پائی ۔
یہ بات آصف تک فیروزہ نے ہی پہنچائی اور ساتھ ہی دوسرا گیم کھیلنے کی پلاننگ کی ۔ اس نے آصف کو اکسایا کہ وہ اپنا رشتہ بھیجے آصف نے اپنی ماں کو منا کر صائمہ کے گھر بھیجا مگر اس کے والدین نے سہولت سے انکار کر دیا کیونکہ وہ شریف لوگ تھے اور زبان دے چکے تھے ۔
اس بار فیروزہ نے آصف کے دل میں انتقام کی آگ بھڑکائی اور ساتھ ہی پلاننگ بھی بتائی اور یہیں پر بس نہ ہوا بلکہ ایک بھاری رقم کے عیوض صائمہ کی کچھ اچھی تصویریں آصف کے حوالے کر دیں اور آصف نے اپنے ایک دوست کی مدد سے کمپیوٹر کے ذریعے اپنے ساتھ ملا کر کچھ تصویریں بنوائیں اور اس کی کئی کاپیاں کروا کر ایک صائمہ کے گھر بھیج دی اور دوسری اس گھر میں جہاں صائمہ کا رشتہ طے ہوا تھا ۔
اس طرح آصف نے یہ ثابت کر دیا کہ مرد کی محبت جب انتقام کا روپ دھارتی ہے تو کتنی خطرناک ہو جاتی ہے ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ صائمہ کا رشتہ ختم ہوگیا لیکن آصف کا رشتہ اب بھی قبول نہ ہوا کیونکہ صائمہ نے خود اس فراڈ یے سے شادی کرنے سے انکار کر دیا ۔
لیکن یہ سلسلہ چلتا ہی رہا جہاں صائمہ کا رشتہ طے ہوتا آصف اسی طرح تصویریں ان کے گھر بھجوا دیتا اور رشتہ ختم ہو جاتا ۔ ساتھ ہی محلے میں ان کی شدید قسم کی بے عزتی ہوئی ۔
تنگ آ کر ان لوگوں نے اپنا یہ آبائی گھر فروخت کر دیا اور ایک چھوٹے سے علاقے میں گھر خرید لیا وہیں صائمہ نے ایک پرائیویٹ اسکول میں جا ب کر لی اور گھر کی گاڑی کھینچنے لگی کیونکہ پے در پے ان واقعات نے اس کے والد کو بیمار کر دیا تھا اور وہ جاب کرنے کے قابل نہیں رہے تھے ۔ بس اسی کسمپرسی میں زندگی گزر رہی تھی ۔ غم اور بد حالی نے صائمہ کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ۔
صبح سے دوپہر تک اسکول اور دوپہر سے رات تک ٹیوشن پڑھاتے وہ گھن چکر بن گئی ۔ شادی کے تو نام سے ہی اب اسے خوف آتا اور یوں ایک فضول تہوار کے ہاتھوں ایک لڑکی کی زندگی مسلسل عذاب کا شکار ہو گئی ۔ اور اس کی زندگی کو اذیت ناک بنانے والی ایک دوست نما دشمن فیروزہ تھی جو اپنے جیسی ایک معصوم اور بے گناہ لڑکی کو اپنے پیسے کی ہوس میں برباد کر گئی یہ سوچے بغیر کہ خدا کو کیا منہ دکھائے گی ؟ لیکن انسان یہ سوچ لے تو وہ ایسا کرے ہی کیوں؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں