375

ویلنٹائن ڈے یا سسٹر ڈے…..ڈاکٹر فیاض احمد.

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد

دنیا میں ہر روز کوئی نہ کوئی دن منایا جاتا ہے جس طرح فادر ڈے یا مادر ڈے وغیرہ لیکن مغربی تہذیب میں ایک اور دن بھی منایا جاتا ہے جس کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے مشطروب ہے جس میں لڑکے لڑکیوں کو پھول دے کر محبت کا اظہار کرتے ہیں لیکن یہ مغربی تہذیب آہستہ آہستہ ہمارے ملک میں بھی اپنی شاخیں پھیلا رہی ہے ہمارے ملک میں بھی ویلنٹائن ڈے عام ہوتا جا رہا ہے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہم بھی مغربی تہذیب کو اپنا رہے ہیں .
ہمارے ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا اس ملک میں اسلامی قوانین کا نافذ ہونا ہمارے ملک کی پہچان ہے دنیا میں اسلام کی بلندی کے لئے ہمیں اپنے اندر اسلامی روایات کو جنم دینا ضروری ہے کیونکہ اسلام ہمیں ایک دوسرے کے لئے احساس کا درس دیتا ہے جب ہمارے اندر احساس ہو گا تب ہمیں رشتوں کی قدر ہو گی اور ہم کسی بھی لڑکی یاعورت کو عزت کی نگاہ سے دیکھیں گے جس کی بدولت ہمارا خدا بھی ہم سے راضی ہو جائے گا اور ہماری دنیا بھی سنور جائے گی.
اگر ہم اسلام کو اپنے اندر جگہ دیتے ہیں تو ہم ویلنٹائن ڈے کے بجائے سیسٹر ڈے کو اہمیت دیں گے اور اسی کو منائیں گے اگر ہم کسی لڑکی کو عزت دینا چاہتے ہیں تو اس کو محبت کا پھول دینے کے بجائے اس سے شادی کریں اور اس لڑکی کو اپنے گھر کی عزت بنائیں اس کے برعکس ہم تو آج کل صرف اور صرف محبت کے نام پر دھوکہ کرتے ہیں جس کی بدولت کئی لڑکیوں کی عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے ہم ہر روز کئی طرح کے دن مناتے ہیں لیکن محبت کا مطلب تو جانتے نہیں ہیں یہ محبت تو ہم بھائی ، بہن اور والدین سے بھی کرتے ہیں مگر ان کی ہم عزت بھی کرتے ہیں اسی طرح اگر ہم کسی لڑکی سے محبت کرتے ہیں تو ہمیں اس کی عزت بھی کرنی چاہیے اور اس کی عزت صرف اور صرف نکاح میں ہے اس لئے ہمیں ویلنٹائن ڈے منانے کے بجائے سیسٹر ڈے یا نکاح ڈے منانا چاہیے جس کی وجہ سے ہم گناہ سے بھی بچ جاتے ہیں اور اسلامی تقاضے بھی پورے ہوجاتے ہیں .
آئیے ہم سب مل کر وعدہ کرتے ہیں کہ ہم اپنے اور اپنے دوستوں کے اندرسے یہ ویلنٹائن ڈے کا بھوت اتار کر ان میں سیسٹر ڈے یا نکاح ڈے کا بھوت سوار کریں گے میری یہ کوشش ہے کہ ہم سب مل کر اس دفعہ یعنی آج کے دن ویلنٹائن ڈے کے بجائے سیسٹر ڈے یا نکاح ڈے پورے جوش اور جذبے کے ساتھ منائیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں آجکل ہمارے معاشرے میں بڑھتی ہوئی لڑکیوں کی تعداد اور ہمارے اندر کا لالچ کئی گھروں کی خوشیوں کو تباہ کر رہا ہے کیونکہ ہم صرف اور صرف اسی بات میں رہتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے دیکھاوے کی زندگی سے اپنے آپ کو بچائیں عزت کریں عزت کروائیں اور دوسروں کو عزت کرنے کی تلقین کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں