270

پولیس کا نظام اور اصلاحات کا عمل … سلمان عابد

تحریر: سلمان عابد۔

پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ ادارہ جاتی اصلاحات اور شفافیت پر مبنی نظام کا ہے ۔ کسی بھی ریاست کی کامیابی کو جانچنے کے لیے ادارہ جاتی عمل کی مضبوطی کو دیکھا جاتا ہے ۔ کسی بھی ادار ے کی صحت یا ساکھ کو سمجھنا ہو تو اس ادارے اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتہ کا جائزہ لیا جاتا ہے ۔ پاکستان میں پولیس او ر عوام کے درمیان جو بداعتمادی پائی جاتی ہے وہ یہ سمجھنے کے لیے کافی ہے کہ پولیس کا نظام کہاں کھڑا ہے ۔ مسئلہ محض بداعتمادی کا ہی نہیں بلکہ پولیس کے نظام میں شفافیت، جوابدہی اور قانون کی حکمرانی کانظام بھی ایک بڑا سوالیہ نشان ہے ۔ یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ہم آج کے جدید دور میں پولیس اصلاحات پر وہ کچھ نہیں کرسکے جو قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔
وزیر اعظم عمران خان کی سیاست میں جو چند بنیادی نکات ہیں ان میں ایک مسئلہ پولیس کے نظام میں موثر اور شفاف اصلاحات تھیں ۔ وہ بڑی جرات سے یہ کہتے تھے کہ پولیس کو سیاست سے پاک کرکے قانون کی حکمرانی کے تابع کرنا ہوگا۔ ان کے بقول روائتی سیاست دانوں اور حکمران طبقات نے پولیس کے نظام کو اپنے اقتدار کے کھیل کے لیے استعمال کیا ہے جو ختم ہونا چاہیے ۔ وہ اپنی سیاست میں خیبر پختونخواہ میں اپنی صوبائی حکومت کی مثالیں خوب دیتے ہیں جہاں انہوں نے پولیس کے نظام میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا ۔ یہ ان کا وعدہ تھا کہ وہ جب بھی اقتدار میں آئے تو پنجاب سمیت پورے پاکستان کی پولیس کے نظام میں بڑی اصلاحات اور ایسی تبدیلیاں لائیں گے جو صرف اور صرف قانون کی حکمرانی کو یقینی بناتی ہوگی ۔
وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی پنجاب میں پولیس اصلاحات کے لیے سابق آئی جی ناصر درانی کو پنجاب پولیس کے نظام میں بہتری لانے کا ٹاسک دیا ۔ لیکن ابتدا ہی میں ناصر درانی کو عمران خان کی حکومت میں پنجاب کی سطح پر حکمران طبقہ سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور جو وہ تبدیلیاں لانا چاہتے تھے اسے قبول نہ کیا گیا۔ اس بداعتمادی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ناصر درانی نے مزید کام کرنے سے انکار کرکے اپنی ذمہ داری سے علیحدگی اختیار کرلی ۔ خیال تھا کہ اس کے بعد حکومت کسی نئے فرد کا چنا وکرکے پولیس کے نظام میں اصلاحاتی عمل کو آگے بڑھائے گی ٬ مگر ابھی تک ایسا کچھ نہیں ہوسکا ۔ بظاہر یہ لگتا ہے کہ عمران خان کی خواہش کے باوجود ان کی حکومت پولیس اصلاحات کے معاملہ میں سیاسی سمجھوتے کا شکار نظر آتی ہے ۔
سانحہ ساہیوال کے بعد ایک دفعہ پھر پنجاب میں پولیس اصلاحات کی بات سننے کو مل رہی ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا حکمرانی کا نظام ردعمل کی سیاست سے جڑا ہے ۔ جب بھی کوئی بڑا واقعہ پولیس تناظر میں ہوتا ہے تو ہمیں پولیس اصلاحات کی یا دآجاتی ہے ۔لیکن واقعہ کے کچھ دن بعد یہ باتیں پھر پس پشت چلی جاتی ہیں ۔سوال یہ ہے کہ کیا وجہ ہے کہ ناصر درانی کو پولیس اصلاحات کے عمل سے خود کو علیحدہ کرنا پڑا او راس کی کوئی معقول وضاحت حکومتی سطح پر سننے کو نہیں مل سکی ۔ اسی طرح حکومت اس پر بھی جوابدہ ہونی چاہیے کہ ناصر درانی کے بعد کیونکر کسی نئے فرد کی تقرری کا عمل ممکن نہیں ہوسکا ۔کیا اس وقت جو پنجاب کی حکمرانی کے اہم فریق ہیں ان کی ترجیحات میں پولیس کا نظام نہیں ہے اور اگر نہیں ہے تو اس میں وزیر اعظم عمران خان خو د کہاں جوابدہ ہیں ۔سانحہ ساہیوال نے ایک بار پھر پنجاب کے پولیس نظام پر بنیادی نوعیت کے سوال کھڑے کردیے ہیں ۔ جس طریقے سے سانحہ ساہیوال کی تحقیقات ہورہی ہیں اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ پولیس کا داخلی نظام عدم شفافیت پر مبنی ہے اور خود حکومت نے جو دعوے کیے وہ بھی کمزور نظر آتے ہیں ۔
پولیس کے نظام میں سب سے بڑا سنگین مسئلہ سیاسی مداخلتوں کا ہے ۔ سیاسی جماعتیں جو اقتدار میں آتی ہیں وہ پولیس کے نظام کو اپنی مرضی اور خاص طور پر ذاتی مفادات کے طور پر استعمال کرتی ہیں ۔ پنجاب کی سابقہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے جس بے دردی سے پولیس نظام کو بگاڑا ہے اس کی مثال نہیں ملتی ۔ لیکن وزیر اعظم عمران خان تو نئے پاکستان کا دعوی کرتے ہیں تو عملی طور پر نئے پاکستان میں پولیس کا نظام ماضی کے نظام سے مختلف نظر آنا چاہیے ۔ یہ بات بجا ہے کہ سب کچھ فوری طور پر نہیں ہوگا اور اس کا تعلق چھوٹے اور بڑے پیمانے پر عملی اصلاحات سے ہی ممکن ہوگا۔ لیکن عمران خان کی حکومت میں پہلے پانچ ماہ میں پولیس نظام میں اصلاحات کے حوالے سے کوئی ایسی بڑی شکلیں دیکھنے کو نہیں مل سکیں جو مثبت اشارے دے سکیں ۔
پولیس کے نظام میں چار بنیادی مسائل ہیں ۔ اول پولیس کے نظام کو چلانے کے لیے حکمران طبقات اورطاقت ور لوگ سیاسی مداخلتوں کو بنیاد بنا کر اس نظام کو خراب کرتے ہیں جس میں ان کی تقرری اور ٹرانسفر سمیت مخالفین کے خلاف پولیس کا استعمال جیسے مسائل سرفہرست ہیں ۔یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ حکومتی ترجیحات میں پولیس کا نظام کہا ں کھڑا ہے ۔ دوئم پولیس میں ایسے لوگ موجود ہیں جو مجرمانہ سرگرمیوں کے خود بھی حصہ دار ہیں یا مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی موجودگی خود پولیس کے نظام میں سوالیہ نشان ہے ۔ سوئم مجموعی طور پرپولیس کے نظام میں جوابدہی کا داخلی نظام کمزور ہے اور خود پولیس کے لوگ بے دریغ اپنے اختیارات سے تجاوز کے مرتکب ہوتے ہیں٬ لیکن ان کے خلاف کوئی بڑا ایکشن دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ سوئم اگرچہ یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ پولیس نظام میں پولیس کی تربیت پر بہت فوقیت دی جاتی ہے، لیکن عملی طور پر جو نتائج ہیں وہ ان دعووں کی عکاسی نہیں کرتے ۔پولیس کا رویہ عوام دوست کم اور ایک ایسے ادارے کا زیادہ ہے جو اپنے اندر بہت سی بنیادی تبدیلیوں کا تقاضہ کرتا ہے ۔پنجم پولیس کے تفتیشی نظام میں بہت خرابیاں ہیں اور اس کا ذکر عدالتی نظام بھی کرچکا ہے او ر ان کے بقول انصاف میں تاخیر اور عدم انصاف کی وجہ پولیس کا تفتیشی نظام ہے ۔
دنیا بھر میں پولیس کے نظام کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے نئی نئی پالیسیاں سامنے لائی جاتی ہیں اور اس نظام کو اتنا آسان اور سازگار بنایا جاتا ہے کہ پولیس اور عوام میں باہمی اعتماد کو مضبوط بنایا جا سکے ۔ مگر لگتا ہے کہ ہم دنیا کے تجربات سے سیکھنے کے لیے تیار نہیں اور اسی پرانی روائتی سیاست کی بنیاد پر پولیس کا نظام چلانا چاہتے ہیں جو بہتری کی بجائے مزید بگاڑ پیدا کرتاہے ۔پولیس کے بارے میں اس عمومی تصور کو ختم کرنا ہوگا کہ پولیس طاقت ور کے ساتھ ہوتی ہے او رکمزور کے خلاف۔ پولیس کے تھانوں میں موجود حالات کار اور وہاں جو ماحول ہے اسے بھی بڑے پیمانے پر تبدیل کرنا ہوگا۔ دنیا میں کمیونٹی پولیسنگ کا نظام کامیابی سے چل رہا ہے اور مقامی حکومتوں کی نگرانی میں یہ کمیونٹی پولیسنگ بہتر نتائج دے رہی ہے ۔
اصل مسئلہ سیاسی ترجیحات کا ہے ۔ پنجاب میں بہت سے طاقت ور حکمران طبقا ت میں موجود لوگوں نے وزیر اعظم کو اسی روائتی انداز میں کہا ہے کہ پولیس اگر عوامی نمائندوں کے تابع نہیں ہوگی تو ہم حکمرانی نہیں کرسکیں گے ۔مرضی کے پولیس افسران کی تقرری سے جہاں میرٹ کا قتل ہوتا ہے وہیں پولیس میں سیاسی مداخلت بھی بڑھ جاتی ہے ۔ارکان اسمبلی چاہے وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں سب ہی عملا پولیس کی طاقت سے حکمرانی کرنا چاہتے ہیں ۔ہر رکن اسمبلی اپنی مرضی کے پولیس افسر کی تقرری چاہتا ہے تو ایسے میں ان حکمران طبقوں سے یہ سمجھنا کہ یہ لوگ واقعی اصلاحات چاہتے ہیں ٬ ناممکن لگتا ہے ۔
اصولی طور پر پولیس میں بہتری لانے کے لیے اس نظام کے داخلی اور خارجی مسائل میں ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے او ریہ سرجری عملا ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ کے بغیر ممکن نہیں ۔ خود پولیس کو بھی سمجھنا ہوگا کہ داخلی سرجری کے بغیر ان کا عمومی تصور مثبت انداز میں سامنے نہیں آسکے گا اور حکومت بالخصوص عمران خان کو روائتی سیاست سے باہر نکل کر کچھ بڑے فیصلے کرنے ہونگے ۔ سانحہ ساہیوال پر بھی لوگ وزیر اعظم سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں جرات کا مظاہرہ کریں گے اور جو لوگ بھی ملوث ہیں ان کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔وزیر اعظم عمران خان کو یہ سمجھنا ہوگا کہ لوگوں نے ان کو تبدیلی کے نام پر ووٹ دیے ہیں اور وہ ایک بڑی تبدیلی چاہتے ہیں٬ مگر یہ اسی صورت میں ممکن ہوگا کہ و ہ سیاسی مصلحتوں سے باہر نکل کر بڑا فیصلہ کریں ۔اگر وہ ایسا نہ کرسکے تو ان میں اور سابقہ حکمرانوں میں کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں