301

تحریک آزادی کشمیر….حافظ احمد ہاشمی۔

تحریر: حافظ احمد ھاشمی

مسئلہ کشمیر، پاکستان، ہندوستان اور کشمیری حریت پسندوں کے درمیان مقبوضہ کشمیر کی ملکیت کا تنازع ہے۔ یہ مسئلہ تقسیم ہندوستان سے چلا آ رہا ہے۔ کشمیر کے معاملے پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین تین جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ پہلی جنگ 1947ء، دوسری 1965ء اور تیسری 1999ء میں لڑی گئی۔ اس کے علاوہ آئے دن مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی سرحد جسے لائن آف کنٹرول کہا جاتا ہے پر بھی گولہ باری کا تبادلہ ہوتا رہا ہے۔ جس میں اکثر پاکستانی شہری آبادی نشانہ بنتی رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند گروپوں میں کچھ گروپ کشمیر کے مکمل خود مختار آزادی کے حامی ہیں تو کچھ اسے پاکستان کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ ہندوستان پورے جموں اور کشمیر پر ملکیت کا دعوے دار ہے۔ 2010 میں ہندوستان کا کنٹرول 43 فیصد حصے پر تھا جس میں مقبوضہ کشمیر، جموں، لداخ اور سیاچن گلیشئر شامل ہیں جبکہ پاکستان کے پاس 37 فیصد حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی شکل میں ہے۔

 5 فروری کو ہر سال پاکستان میں یومِ کشمیر منایا جاتا ہے جس کا مقصد اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق اپنے حق خودارادیت کے حصول کےلیے جدوجہد کرنے والے کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی ہے۔

قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا ہے۔
پاکستان کا شروع دن سے موقف ہے کہ کشمیری عوام کو ان کی اپنی خواہشات اور اقوام متحدہ کی ڈیڑھ درجن سے زائد منظور شدہ قرار دادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت دیا جائے۔ لیکن بھارت کشمیر میں آٹھ لاکھ مسلح افواج کے ذریعے نہتے کشمیریوں کو دبانے میں مصروف ہے اور نہتے کشمیری عوام پر ظلم و ستم کی انتہا کردی ہے۔

عالمی برادری کو بھارت پر کشمیر میں آگ اور خون کا کھیل فوری طور پر بند کرنے کیلئے دباؤ ڈالنا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

تحریک آزادی کشمیر….حافظ احمد ہاشمی۔” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں