419

آئیے78کروڑ روپے بچانے کی خاطر پاکستا نی شہریوں کو فریضہ حج سے روک کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ پیر شاہد علی چشتی ایڈوکیٹ۔

تحریر: پیر شاہد علی چشتی ایڈووکیٹ۔

تبلیغ اسلام کے داعی اور مبلغ حضرت مولانا طارق جمیل فرما تے ہیں کہ ہمارے وزیراعظم کپتان کی نیت ٹھیک ہے اور وہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے جارہے ہیں۔جی ہاں! اس کے آثار تو واقعی دکھائی دینے لگے ہیں۔ آسیہ مسیح کی عدالت سے رہائی ،بیرون ملک فرار،مولانا سمیع الحق کا اس پر تقریر کے فوری بعد قتل اور تحریک لبیک پاکستان کے علماء کرام مولانا خادم حسین رضوی اور دیگر کی قید وبندش اور ملک بھر میں اہل سنت و جماعت کے کارکنوں کی گرفتاریاں اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں اور اب یہ کہ حج اخراجات میں یکدم ڈیڑھ لاکھ اضافہ اور حج سبسڈی کا خاتمہ کہ پاکستان کے شہریوں کو اپنے روپے پیسے سے مہنگا حج کرنا چاہیے۔
جناب وزیراعظم پاکستان اور دانشور وزراء کرام، ساری قوم اپنے روپے پیسے سے ہی حج عمرہ کررہی تھی۔عوام نے تو کبھی مطالبہ نہیں کیا کہ ہمیں حج پر سبسڈی دو مگر اگر آپ کی دشمن سابقہ حکومت یہ سبسڈی سے بیٹھی تھی اور حاجیوں کو سہولت جیسے بھی ملی ، اب اس کو یکلخت واپس لینے سے حج پر جانے والے خواہش مند لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور آپ کی انصاف اور ریاست مدینہ کی نیا پاکستان ضرور حکومت خوار ہے،؟۔کپتان نے تو خود ڈیڑھ کروڑ روپے میں ایک عمرہ کیا ہے ؟ جس کے اپنے ذرائع اخراجات تک واضح نہیں اس وقت تک ؟میری رائے میں شرعی احکامات اور مسائل سے ہٹ کر ٹھنڈے دماغ سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ آپ حج کی سبسڈی ختم کرکے ڈیڑھ لاکھ حاجیوں کو سہولت سے محروم کر رہے ہیں ، جو قطعی نا مناسب بات ہے؟۔آپ وزارت مذہبی امور کے فضول اخراجات کو ختم کرکے بھی یہ کام کرسکتے ہیں؟۔ہر حماقت کو تحریک انصاف کی حکومت کا کارنامہ مت بنائیں؟۔ واقعی ریاست مدینہ قائم کرنی ہے تو اسلامی نظریاتی اساس پر ہاتھ مت ڈالیں؟۔اگر آسیہ مسیح کا کیس سے عدالتی بریت اور اس کا ملک سے فرار کروانا ہضم ہوگیا ہے تو دیگر اسلامی اقدامات پر ہاتھ ہو لا ڈالیں ؟، کیونکہ اس سے ڈیڑھ لاکھ حاجیوں کو سہولت تھی کہ ان میں سے اکثریت بےچاری اپنی آخری خواہش پوری کرلیتے تھے۔78کروڑ روپے ، تو ہمارے قومی اسمبلی کے ایک سیشن کے اعزازیہ کے برابر بھی نہیں ہونگے؟ اور ایک کرکٹ سیریز کا خرچہ بھی نہیں ہونگے ؟ مزہ تو تب ہے جب کل کپتان اور ان کے تمام وزراء اور عوامی نمائندے اپنی مراعات ایک سال کے لئے ختم کرکے ریاست مدینہ کے خزانہ میں جمع کروا دیں؟۔حضور!وزیراعظم پاکستان صاحب،پوری اسلامی دنیا میں انڈونیشیا کے بعد سب سے زیادہ حاجیوں کی تعداد پاکستان کے حاجیوں کی ہوتی ہے۔اس سبسڈی کی آڑ میں اس کو ختم کرنا یا معمولی کرنا، کسی طور مناسب نہیں؟۔اگر ہم کرکٹ اور دیگر اس جیسے فضول کھیلوں پر ٹیکس اور بیرونی قرض سے چند سو لوگوں پر اربوں روپے اس وجہ سے خرچ کردیتے ہیں کہ اس سے قوم کو تفریح اور جواء کھیلنے کا موقع ملتا ہے اور پاکستان کا نام دنیا میں سربلند ہوتا ہے تو حج جیسے اہم فریضہ کی ادائیگی پر بھی اپنے ملک کے شہریوں کو سہولت فراہم کرنے کے سلسلہ میں کیا مضائقہ نہیں؟۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب آپ کو چاہیے کہ جو خود پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان اور ورلڈ کپ کے فاتح ہیں ، کہ کل ہی ایک تقریر کرین کہ ہر قسم کی کھیلوں اور ٹورنامنٹ میں بیرون ملک شرکت پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے کہ ہمارے ملک کی معیشت تباہ حال ہے اور ان حالات میں پاکستان کی حکومت اور عوام کھیلوں جیسی فضول عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے تو پھر آپ بے شک حج پردی جانے والی سبسڈی ختم کردیں،حج بھی ایک عالمگیر فیسٹیول اور فرض ہے اور اس موقعہ پر ڈیڑھ دو لاکھ پاکستانی حاجیوں کی شرکت سے بھی پوری دنیا اور عالم اسلام کو یہ مسیج جاتا ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی اسلام سے کتنی اٹیچمنٹ ہے اور یہ کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے۔ مگر دوہرا معیار ہرگز نہ قائم کیا جائے کہ اسلامی شریعت اور شعائر اسلام کو تو سبسڈی کی آڑ اور معیشت کو نقصان کے بہانے ختم کردیا جائے اور کرکٹ اور دیگر ایسی فضول اور لغو کھیلوں پر قوم کا قیمتی سرمایہ ضائع کیا جاتا رہے اور اس پر تالیاں بجائی جائیں کہ ہمارے دس پندرہ شاہین شارجہ کے میدان میں ایک کپ جیت کر ملک کو دنیا میں مشہور اور ہمارے ملک پاکستان کا وقار بلند کررہے ہیں۔کہیں مولانا فضل الرحمن کی بات درست ہی نہ ہو جائے کہ عمران خان حکومت تو یہودیوں کی مرضی اور انگیخت پر لائی گئی ہے،؟۔ بتایا جائے کہ ایک حکومت کا اپنے عوام کو سہولت فراہم کرنے کے علاوہ اور کام کیا ہوتا ہے ؟ ۔ لاکھوں کروڑوں روپے جو وزیر اعظم،وزراء اور بیوروکریسی روزانہ ضائع کرتی ہے اپنی عیاشی پر، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا ایک ایک سیکرٹری ایک ہی دن تین چار مرتبہ اسلام آباد سے لاہور اور اسلام آباد سے کراچی کے چکر لگاتے ہیں ہوائی جہاز پر،وہاں ٹیکس کے پیسے ضائع نہیں ہوتے ، پرابلم یہ ہے کہ ڈیڑھ لاکھ پاکستانی عوام کو سعودی عرب میں سہولت ملنے اور ہزاروں لوگوں کی آخری خواہش پوری ہونے کی تکلیف تھی اور کچھ نہیں،عوام پر ٹیکس لگانا ہے اور ان کا خون نچوڑ کر عیش کرنا ہے ، اور کچھ نہیں میرے بھائی،آپ حج پر جاتے تو آپ کو پتہ چلتا کہ کتنے غریب اور مذہبی ذوق رکھنے والے لوگ کتنی آسانی سے حج کرتے ہیں ، غریب اور متوسط طبقے کے پاکستانیوں کو ایک سہولت تھی مگر وہ بھی آپ ان سے چھین رہے ہیں۔حج واقعی صاحب استطاعت مسلمان پر فرض ہے تو کسی حاجی نے کبھی درخواست کی تھی کہ حکومت پاکستان یہ سہولت فراہم کرے؟۔آپ نے یہ سہولت ختم کرنی ہے تو آہستہ آہستہ کرکے دو تین سال میں بالکل ختم کردیں مگر مفت میں عوام کی بد دعائیں نہ لیں۔بجائے اس کے بیوروکریسی کو لگام دیں اور سیاست دانوں کے ساتھ انکی کرپشن ختم کرکے عوام کو ریلیف دین لیکن کپتان صاحب اور ان کے دانشور وزراء کو فضول خرچی سے بچنے کا طریقہ حج پر سبسڈی ختم کے سوا اور کچھ نہیں آیا۔؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

آئیے78کروڑ روپے بچانے کی خاطر پاکستا نی شہریوں کو فریضہ حج سے روک کر پاکستان کو ریاست مدینہ بنائیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔ پیر شاہد علی چشتی ایڈوکیٹ۔” ایک تبصرہ

  1. بہت اچھی تحریر ہے حقیقی تصویر اور حکومت کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہے۔ لیکن۔۔۔۔۔

اپنا تبصرہ بھیجیں