298

عمران خان صاحب کیا یہ کرپشن نہیں ؟…..(صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری.

’’تبدیلی سرکار‘‘ برسراقتدار آچکی ہے ۔تحریک انصاف کے دعوؤں کی قلعی کس طرح کھلتی ہے، ان چند واقعات پر نظر دوڑائیں جن کا راقم خود شاہد ہے۔
’’آپ دونوں بہنوں کی تاریخ پیدائش ایک ہے، اس لیے آپ کے کاغذات تبدیل کرانے پڑیں گے، 6ہزار دیں آپ کا نیا شناختی کارڈ بنوا دیتے ہیں‘‘ یہ الفاظ نادرا سنٹر کوٹ ادو مظفرگڑھ کے انچارج کے ہیں۔ ایسا خاندان جس کے پاس دو وقت کی روٹی کا حصول جان جوکھوں کا کام ہوتا ہے، چھ ہزار رشوت کیسے دے سکتا ہے؟ اپنا سا منہ بنا کر گھر پہنچے، ان کا کوئی عزیز میرے بھائی کا جاننے والا تھا، بھائی کے ذریعے بات مجھ تک پہنچی۔ متعلقہ انچارج سے اس حوالے سے بات کی، پہلے تو کہانیاںسنانے لگا مگر چونکہ راقم پہلے ہی اس حوالے سے نادرا ہیڈ آفس اسلام آباد سے ساری معلومات لے چکا تھا، اس لیے انچارج کی عیاری، مکاری کے امکانات باقی نہیں رہے تھے۔ انچارج کو کہا کہ اس پروسیجر کے ذریعے غریب خواتین کا کام کردو۔ اب انچارج اپنے عمل پر شرمندہ تھا، اگلے روز ان خواتین کو نادرا آفس بھیجنے کا کہا اور 20 روپے کے اسٹام پیپر سے ان خواتین کا کام ہوگیا۔

یہ صوبائی دارالحکومت لاہور کا میو ہسپتال ہے۔ ہسپتال کا ایک جاننے والا ملازم ریٹائرڈ ہوا تو کئی ماہ دفتر کے چکر لگاتا رہا مگر پنشن کی فائل ذرا برابر بھی آگے نہ سرکی۔ اس پراسس کیلئے ’’نذرانہ ‘‘ کی ڈیمانڈ کی گئی۔ 20ہزار روپے رشوت لینے کے باوجودکلرک فائل دبا کر بیٹھا تھا۔ ایک دن ہم دوست بیٹھے تھے تو اس فائل کا تذکرہ ہوا۔ دوسرے دوست نے کہا اب میرا جادو دیکھو۔ اس کا جاننے والا صوبائی وزیر صحت کیساتھ معمولی ملازم ہے۔ اس کو سارا واقعہ بتایا، اس ملازم نے وزیر صحت کے آفس سے ایم ایس کو کال کی تو ایم ایس موصوف کرسی پر کھڑے ہوگئے اور پل جھپکتے ہی فائل پر دستخط ہوگئے۔ یہ اور بات ہے کہ آگے جاکر پھر انہیں ’’نذرانے ‘‘ دینے پڑے۔

ملتان سے لاہور آتے ہوئے گاڑی چیچہ وطنی میں ایک مووی پوائنٹ پر رکی۔گاڑیوں کی لمبی لائن لگی ہوئی تھی۔ ہماری بس کا کنڈیکٹر دوڑ کر گیا اور چندلمحوں میں واپس آگیا۔ گاڑی روانہ ہوگئی۔ میں حیران تھا کہ اتنی جلدی یہ گاڑی کیسے روانہ ہوگئی جب کہ اس سے پہلے کئی گاڑیاں موجود تھیں، گاڑی کی مووی بھی نہیں بنی۔ میرے اندر مچلتے سوالات نے ابھی لبوں کو نہیں چھوا تھا کہ کنڈیکٹر خود ہی مسکراتے ہوئے کہنے لگا کہہ ’’شوربا ‘‘ لگا کر آیا ہوں۔ کچھ کچھ بات تو میری سمجھ میں آرہی تھی مگر میں نے مزید معلومات کیلئے کنڈیکٹر سے پوچھا کیا پیسے دے کر آئے ہو؟ کنڈیکٹر بولا جی ہاں۔ اگر پیسے نہ دیتے تو ہائی وے پولیس کا عملہ ہمیں خوار کرتا۔ بیس سے 25منٹس انتظار کرواتے، پھر جا کر مووی والا گاڑی میں آتا اور اکثر معمولی سی بات پر جرمانے کر دیتے ہیں، اس کا بس ایک ہی حل ہم نے نکالا ہے کہ انکو ’’شوربا ‘‘کھلا دیتے ہیں۔ اس لیے آپ کے سامنے چند سیکنڈز ہم یہاں رکے اور مووی بھی نہیں بنوائی۔

چند روز قبل فون کی گھنٹی بجی دیکھا تو گاؤں والے گھر کا نمبر تھا، کال رسیو کی تو بھائی نے کہا کہ واپڈا والے آئے ہیں ان سے بات کرو، میں نے بات کی تو معلوم ہوا کہ میٹر بند ہوچکا ہے، نئے میٹر کے لئے درخواست دینی پڑے گی۔ میں نے واپڈا کے ملازم کو کہا کہ جو بھی پراسس ہے بتا دیں ہم مکمل کر لیں گے۔ کال بند ہوگئی۔ رات کو گھر بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ جب کال بند ہوئی تو واپڈا والے نے 11سو مانگ لیے کہ یہ پراسس کیلئے ضروری ہے اور گھر والوں نے وہ پیسے دے بھی دیے۔ میرا تو پارہ ہائی ہوگیا۔ واپڈا ملازم کو کال کی اور کہا کہ بھئی، یہ پیسے کس مدمیں لیے؟ موصوف بولے یہ خرچہ پانی کے پیسے تھے۔ میں نے کہا کیا آپ کو سرکار خرچ پانی کے پیسے نہیں دیتی؟ دوسری طرف کوئی جواب نہیں تھا۔

گزشتہ دنوں میرے ایک دوست کی کال آئی کہ میرے بھائی کو کسی جرم کی پاداش میں پولیس اٹھا کرلے گئی ہے۔ ایس ایچ او سے بات کی تو معلوم ہوا کہ کلاس فیلو کے بھائی کا قصور ہے، میں نے ایس ایچ او کو کہا کہ آپ قانون کے مطابق دیکھ لیں، اس نے کہا معمولی جرم ہے میں چھوڑ دیتا ہوں۔ کال بند ہوئی تو دوست کا فون آگیا کہ متعلقہ تفتیشی افسر نے پانچ ہزار لے کر بندہ چھوڑ دیا ہے، آپ کسی سے بات نہ کریں۔

چند روز قبل ایک کام کے سلسلے میں لینڈ ریکارڈ کے دفتر میں جانا ہوا۔ سینکڑوں لوگ موجود تھے مگر کام کی رفتار مینڈک کی رفتار سے بھی آہستہ تھی۔ لوگوں کو کئی کئی دن زمینوں کے انتقال کیلئے دھکے کھانے پڑتے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ لینڈ ریکارڈ کے دفاتر کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ ٹوکن سے لے کرانتقال تک ایک ایجنٹ ایک فائل پر تین سے چار ہزار روپیہ ’’کما‘‘ لیتا ہے۔ اکثر پڑھے لکھے لوگ خاص طور پر وکیل بھی پریکٹس چھوڑ کر اس دھندے میں لگ چکے ہیں۔ دوسری طرف ان سنٹرز پر سہولیات اور عملہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

یہ چند مثالیں تبدیلی سرکار کو آئینہ دکھانے کیلئے کافی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پنجاب سمیت ملک بھر میں کرپشن زوروں پر ہے۔ عمران خان وزارت عظمیٰ کا قلمدان سنبھالنے سے قبل اپنی ہر تقریر میں نوید سناتے تھے کہ وہ اقتدار میں آکر90 دن میں کرپشن کا خاتمہ کردیں گے۔ 18ء کے الیکشن میں کرپشن کا خاتمہ تحریک انصاف کے منشور میں شامل تھا۔ مگر سات ماہ کا عرصہ بیت گیا کرپشن کا دیمک تمام اداروں میں جوں کا توں موجود ہے اور تبدیلی سرکار خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ خان صاحب یوٹرن پر یوٹرن لیے جا رہے ہیں۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کیلئے کوئی سنجیدہ کوشش بھی نہیں کی جا رہی۔ وفاقی اورپنجاب حکومت کا سارا فوکس پولیس ریفارمز پر ہے مگر ابھی تک نہ تو پولیس کا سسٹم ٹھیک ہوسکا اور نہ دوسرے محکموں میں کوئی قابل ذکر تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ دوسری طرف اداروں میں کرپشن کا دور دورہ ہے۔ تحریک انصاف کی کامیابی میں بڑا کردار اس کا کرپشن کیخلاف بیانیہ تھا جسے تبدیلی سرکار اب پس پشت ڈال چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں