234

مانسہرہ / کوئٹہ / لاہور: ملک بھر میں بارش نے تباہی مچادی، بلوچستان میں70 افراد سیلاب میں بہہ گئے، ایمرجنسی نافذ، 26 افراد جاں بحق.

مانسہرہ / کوئٹہ / لاہور(حکیم طارق شاد / فیاض چشتی / اسد الیاس سے) ملک بھر میں بارشوں نے تباہی مچادی۔ بلوچستان میں 70 افراد سیلاب میں بہہ گئے۔ایمرجنسی نافذ۔26 افراد جاں بحق۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب اور کشمیر کے مختلف علاقوں میں شدید بارش کے باعث سیلابی ریلے میں بہہ جانے، کچے مکانات، چھتیں اور دیواریں گرنے کے واقعات میں کم از کم 26 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو گئے۔ کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں بارشوں کے بعد ندی نالوں میں طغیانی سمیت سیلاب سے مختلف علاقوں میں 70افراد بہہ گئے جن میں سے دو کی لاشیں نکا ل لی گئیں دیگر دو لاشوں کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ ڈپٹی کمشنر لسبیلہ شبیر مینگل کا کہنا ہے کہ اوتھل میں سیلابی صورتحال کے باعث 4 افراد لاپتہ ہوگئے جب کہ ریسکیو ذرائع کے مطابق برساتی ریلے میں بہنے والے 2 افراد کی لاشیں نکال لی گئی ہیں۔ شبیر مینگل کا کہنا ہے کہ حالیہ بارشوں کے باعث صورتحال کنٹرول میں ہے اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ بارشوں میں ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے۔ ضلع آواران میں شدید بارش کے باعث ملار بند کو شدید نقصان پہنچا جب کہ ضلع کا مواصلاتی رابطہ بھی منقطع ہوگیا۔ ترجمان صوبائی حکومت کے مطابق وزیراعلیٰ نے امدادی سرگرمیوں کے لیے ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی ہدایت کردی جب کہ پاک فوج کے 4 ہیلی کاپٹر بھی امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔ پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بارش سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیں جب کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہیں اور پی ڈی ایم اے کے ملازمین کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔گزشتہ روز بارش کے بعد سیلابی ریلوں سے متاثر ہونے والی تربت، ہوشاب اور لسبیلہ میں مختلف شاہراہوں کی بحالی کا کام بھی شروع کردیا گیا ہے۔ خضدار میں سب سے زیادہ 41 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی جہاں برساتی نالے بپھر گئے جب کہ مکران اور ضلع لسبیلہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جہاں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لیے ریسکیو ٹیمیں روانہ کردی گئیں۔ شمالی بلوچستان میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ تھم گیا تاہم ندی نالوں میں سیلابی صورتحال ہے اور سیلابی ریلے سے رابطہ سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ ضلعی انتظامیہ چمن کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد 40 سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔وادی زیارت، توبہ اچکزئی، توبہ کاکڑی اور کان مہترزئی میں برفباری کے بعد آمد و رفت کی بحالی کے لیے برف ہٹانے کا کام جاری ہے۔بلوچستان کے صوبائی ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی( پی ایم ڈے اے)کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرقون کا کہنا ہے کہ صوبے بھر میں شدید بارشوں کے نتیجے میں ساڑھے 4 سو خاندان متاثر ہوگئے اور لسبیلہ میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صوبے کے متاثرہ علاقوں میں جاری ریسکیو اور ریلیف آپریشن کا جائزہ لینے کے لیے وزیر داخلہ ضیااللہ کے ہمراہ پی ایم ڈے دفتر کا دورہ کیا تھا ۔انہوں نے بتایا کہ مختلف علاقوں میں پھنسے ہوئے افراد کو باحفاظت نکالنے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے لیے آپریشن جاری ہے۔ وزیر اعلی بلوچستان نے کہا کہ 4 ملٹری ہیلی کاپٹر اور صوبائی حکومت کا ایک ہیلی کاپٹر بھی ریلیف اینڈ ریسکیو آپریشن میں حصہ لیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ریسکیو آپریشن سے متعلق سدرن کمانڈ سے رابطے میں ہیں۔تاہم برف باری کی وجہ سے افغان بارڈر کے قریب خوزاک ٹاپ جانے والا راستہ بند ہوگیا تھا جب کہ زیارت میں بھی گزشتہ 2 روز میں برف باری ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں۔گوجرانوالہ میں گورنمنٹ اسکول اروپ کے چھت کا ایک حصہ گر گیا اور ملبے تلے دب کر خاتون ٹیچر جاں بحق ہوگئی۔ پنجاب کے ضلع راجن پور کے علاقے روجھان میں بارش کے بعد کچے مکان کی چھت گرنے سے میاں بیوی جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔ملتان میں بدھلہ روڈ پر مکان کی چھت گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور دو زخمی ہوئے۔ آزاد کشمیر کے ضلع ہٹیاں بالا کے علاقے ریشیاں کے نالے میں برفانی تودے تلے دب کر ایک بچی جاں بحق اور دو افراد زخمی ہو گئے۔ مسلسل بارش کی وجہ سے بڑے شہروں میں اندرون و بیرون ملک آنے جانے والی درجنوں پروازیں منسوخ اور تاخیر کا شکار ہوگئیں۔ پشاور میں مسلسل بارشوں کے سبب انتظامیہ اور اسپتالوں کی انتظامیہ کو چوکس کردیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا کے ضلع دیر بالا میں بارشوں کے نتیجے میں لینڈ سلائیڈنگ اور مکانوں کی چھتیں گرنے سے درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ علی گاسر کے علاقے میں خاتون گھر کی چھت سے برف ہٹاتے ہوئے پھسلنے سے گر کر جاں بحق ہوگئی۔ باجوڑ کی تحصیل ناوگئی میں مکان اور چارسدہ میں مدرسے کی چھتیں گرنے سے خاتون، بچے سمیت 6 افراد جاں بحق اور 10 افراد زخمی ہو گئے ہیں ۔ادھر ملتان کے علاقے بدھلہ سنت میں بارش کے باعث گھر کی چھت گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق اور ایک خاتون زخمی ہوگئی۔کہوٹہ کے علاقے سنبھلاہ میں بارش کے باعث چھت گرنے سے 1 بچہ جاں بحق جبکہ خاتون سمیت 2 بچے شدید زخمی ہوگئے۔ راولپنڈی کے علاقے اڈیالہ روڈ کے نواحی علاقے نکڑالی میں کھیتوں میںآسمانی بجلی گرنے سے 29سالہ راجہ قمر جاں بحق ہو گیا جبکہ جمعرات کی علی الصباح کہوٹہ کے نواحی علاقے سمبالا میں مکان کی چھت گرنے سے کم سن حنان راشد جان کی بازی ہار گیا جبکہ رشیدہ بی بی، حبیبہ بی بی اور نایاب زخمی ہو گئیں۔ اسی طرح مسلسل بارش کے باعث کوٹلی ستیاں میں لینڈ سلائیڈنگ لینڈ سلائیڈنگ سے کوٹلی ستیاں کی مرکزی شاہراہ بلاک ہوگئی جس سے کوٹلی ستیاں کے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور مقامی افراد نے اپنی مدد آپ کے تحت سڑک پر گرنے والے درخت اور ملبہ ہٹا کر سڑک کو صاف کیا۔ اس دوران کوٹلی ستیاں روڈ پر ٹریفک جام رہی۔ ادھر راولپنڈی میں مسلسل بارش سے نالیاں اور نالے بھی ابل کر باہر آگئے جبکہ نالہ لئی میں پانی کی سطح 6فٹ تک بلند ہوگئی تاہم ریسکیو ذرائع کے مطابق جمعرات کی صبح نالہ لئی میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق رہا ۔چترال میں برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا اور برف کا تودہ گرنے سے راستے بند ہوگئے جس کے نتیجے میں لواری ٹنل روڈ پر مسافر پھنس گئے ہیں۔ جمعرات کے روز واشچ گاؤں سے ویلس جیپ نمبرCL-9612ریچ جارہی تھی کہ اجنوریچ پل سے پھسل کر دریا میں جاگری جسکے نتیجے میں گاڑی میں سوار 9 میں سے دو افراد موقع پر جاں بحق جبکہ سات معمولی زخمی ہوگئے ۔ سواریوں میں خواتین بھی تھیں جو محفوظ رہیں ۔ جاں بحق افراد عزیز رحیم ولد عزیز بیگ اور جمیل ولد محمور بیگ ٹیچرز تھے۔ دوسری جانب محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں بارشوں کا امکان ختم ہوگیا ہے اور اب صرف بوندا باندی ہوسکتی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سب سے زیادہ سردی کالام میں پڑی، جہاں پارہ منفی 13 تک گرگیا، اسلام آباد اور پشاور میں 5، لاہور10 ،کراچی 19 جبکہ کوئٹہ میں درجہ حرارت 1 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں