693

افسانہ: دسمبر بیت نہ جائے……(شگفتہ یاسمین…چیچہ وطنی)

تحریر: شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی.

جاڑے کی ٹھنڈی یخ ہوائیں پیار کرنے والوں کے دلوں کوتو گرماہی جاتی ہیں. مگر ہجروفراق کا درد سہنے والوں پربھی یہ مہینہ بہت بھاری ثابت ہوا ہے. دسمبر کا سردمہر، دُھندلکا مہینہ رومانیت کے لیے موزوں ترین سمجھا جاتاہے. اس مہینے کے آخری حصّے کو شادیوں کے لیے مخصوص کرنا بھی محبت کرنے والوں کی ہی کوئی ادا لگتی ہے۔

”یاور خان اُٹھ جاؤ…بیٹا! اتنے کام پڑے ہیں اور تم ابھی تک…… “ بی جان کی آواز رضائی کے اندر تک سُنائی دی, جو آئینہِ دل پہ اُبھری تصویرِ یار کی سحربھری گفتگو کے لُطف کو مسمار کرگئی.

تکیے سے لپٹے یاورخان کی رات کرب بھری یادوں کے تپتے آلاؤمیں کروٹیں بدلتے گزری،ٹوٹےبدن کی بکھری کرچیاں اذیت دینے لگیں, جیسے وہ کسی حسین مگر دُکھی یادوں کا صحرائی سفرطے کر کے لوٹا ہو. سُرخی مائل شرابی آنکھیں دہکنے لگیں. آج رضائی چھوڑنے کو اُس کا قطعی ارادہ نہ تھا. رات دیر تک دل کی مخملی زمین پہ ارمانوں کی فصلِ گُل اُگائے آنکھوں میں نیند لانے کی ناکام کوشش کرنا اب اُس کا معمول بن چکا تھا. خاندانی ٹھاٹھ میں جکڑا آنکھیں رگڑتا وہ اُٹھ بیٹھا، بی جان کو سلام کیا اوراُنکے کندھے پہ سررکھے لاڈ کرنے لگا.

”سارے گھر میں لائٹنگ کروانی, کھانے کا انتظام کرنا, رسمِ حنامیں خاندان کے لوگ ہوں گے،ہماری شان میں کوئی فرق نہیں آنا چاہیئے۔۔۔…یاور خان” وہ ملازموں کولائن میں کھڑاکیے کام سمجھانے کے بعد پوتے کی طرف متوجہ ہوئی,اُسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتےہوئےخوشی سے جھومنے لگی۔

”تیری دلہن کے لیے تومیں نے اپنے زیور رکھے ہیں“ وہ صندوقچے سے زیورات نکال کردیکھانے لگی.
”بی جان۔۔۔۔ اتنےبھاری بھرکم زیورات کون پہنتا ہے. زمانہ بدل چکاہے،ریت رواج بدل گئےہیں, انسان بھی تو بدل گیا ہے….. انسان بدلا ہے تو اُسے اپنے رسم ورواج بھی بدل لینے چاہئیے ،پہلے وقتوں میں عورتیں اپنے ساتھ بھاری زیورات لاتی تھیں…….. جہاں آرا اپنے ساتھ زمینیں لا رہی ہےبی جان….مگر”
“مگر کیا؟زمین انسان کا وقار ہوتی ہے”وہ ٹھاٹھ سے بولی.

بی جان کوہمیشہ خاندانی وقار نظر آتا. پوتے کی آنکھوں میں پلنے والا غم نہیں،دل میں سِسکنے والا وہ ارمان نہیں جو معصوم بچے کی ماند بضدنفع نقصان سے ناواقف کسی چیزکی تمنا لیے اُداس بیٹھا ہو. زمینی بٹوارے کی فکرمیں یاور کی دوبڑی بہنوں کے سر میں چاندی اُترآئی تھی.اُسکی نسبت بچپن میں ہی چاچا زاد کے ساتھ طے پاگئی ،جو عمرمیں بڑی تھی. بی جان خاندانی رکھ رکھاؤ میں ایسی ماہرتھی کہ ہاتھ میں اگرکسی ادارے کا نظام دے دیا جائے تو بخوبی چلاسکے، وہ تن پہ قیمتی لباس اور زیورات سجائے رکھتی،گھر میں اُسی کا حکم چلتا, گھرسلطنت اور وہ اُسکی ملکہ تھی.جہاں آرا بھی اُنکی صحبت میں رُعب ودبدبہ میں کم نہ دِکھتی.

وہ دن بھرزمین اور ہاریوں کے مسائل حل کرتا, شام ڈھلتے ہی اُسکے دل میں یادوں کے دیپ جل اُٹھتے.دسمبرسے اُسے کوئی خاص اُنسیت سی تھی. اِس میں اُسکی چائے , سگریٹ بڑھ جاتی, کئی سگریٹ کادھواں رات بھر ہوامیں پھیلتا, مگرغمِ دل ہواؤں میں نہ بکھرتا۔

گھر مختلف رنگوں کی بتیوں سے جگمگانے لگا مگر یاور خان کا چہرہ مرجھائے گلاب کی ماند روکھا سوکھا بے رونق,اور چمک سے عاری تھا.

یاورکو یاور خان بنانے میں خاندانی ٹھاٹھ کے علاوہ بی جان کا بھی خاصا ہاتھ تھا. ماں اصول پرست ,سخت مزاج ساس کے آگے بولنے کی سکت نہ رکھتی, وہ ڈرے کبوتر کی طرح دبکی رہتی۔

شادی بھر پورتیاریوں کے ساتھ عروج پر تھی جبکہ یاور خان کے دل کی بنجر زمین شرمین کی یاد میں کھوئی ہوئی اس دنیا سے کوسوں دورآباد تھی. وہ توبس بی جان کے ہاتھ کا ربوٹ بنے زندگی کے نئے سفر پہ اجنبی مسافر کی ماند چلتا جارہا تھا.پورا خاندان یاور خان کے ہاتھ پہ مہندی رچانے میں مگن تھااور وہ غمِ یارمیں گم.

مہندی کا پروگرام ختم ہوتے ہی وہ اپنے کمرے میں آیا، جو دُلہن کے استقبال کے لیے سجایا جانا تھا،بستر گرم ہوتے ہی وہ ماضی کی تپتی, حسین یادوں میں کھویاخود کو یہاں سے کہیں دُور گھسیٹ کر لے گیا.

“یاور خان یہ نہیں ہو سکتا, ہماری خاندانی روایات کے برعکس کسی اورخاندان کی لڑکی بہو بن کر اِس گھر میں نہیں آسکتی“بی جان نے اُس کی بات کو رَد کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنایاتھا.وہ دن گیااور اُسکی زبان کو قفل پڑگئے.

”شرمین۔۔۔۔۔۔۔۔۔تم یہ سمجھتی ہو کہ تم اکیلی اس آگ میں جل رہی ہو، اکیلی پیار کا صحرائی سفرطے کر رہی ہو،تم کیوں ایسے سوچتی ہو کہ تم صحرا میں تن تنہا کھڑے درخت کی ماند ہو،شرمین۔۔۔میں کیا سوچتا ہوں تم نہیں جان سکتی،تم بہار ہو، پھول ہو،خوشبو ہو، آسمان ہوچاند ہو،روشنی کی کرن ہو،میت ہوپیار ہو،محبت ہو چاہت ہو،عشق ہو،گیت ہو،سُر ہوتال ہو، نظم ہوغزل ہو،شعر ہورُباعی ہو،تم جاڑے کے اس سرد مہر موسم میں یادوں کا حسین دیپ ہو،بارش میں پہنچے والی ٹھنڈک ہو“وہ بڑبڑایا.
اگلی صبح جہاں آراگیلے بالوں سے ٹھنڈی بوندیں گراتے ہوئے شوہر کے سرہانے کھڑی کب سےاُسےجگانے کی تگ و دو میں تھی. وہ بارُعب زمینداراپنی محبت میں کسی مجبور ہاری کی طرح بے بس تھا.اُسکے دل کی بنجرزمین کو محبت کی خالص کھاد کی اشد ضرورت تھی جواُسے لافانی آسودگی سے آشنا کرجائے.وہ ایسامریضِ عشق توہ ایسامریضِ عشق تھا جسے شرمین کی یاد آکسیجن فراہم کرنے پر معمور تھی.

شرمین میڈیکل کے آخری سال میں کالج ٹرپ کے ساتھ مری کے مناظر دیکھنے آئی توسڑک بلاک ہونے سے تمام طلبہ پیدل چلتے ہوئے وادی تک پہنچیں. چلبلی لڑکیاں سڑک پہ کھڑے نئے نویلے جوڑوں کو ایک دوسرے کی باہوں میں دیکھ کر جگتیں مارنے لگیں.برف پورے جوبن کے ساتھ مستی ڈھانے میں مصروف تھی.

وہ گرم کافی کا گھونٹ حلق میں اُتارے کھڑکی کے بند شیشے سے سفید بچھی چادر جیسی برفانی وادی میں اُتری شوخ و چنچل ہرن کے بچوں کی ماند اٹھکیلیاں کرتی جواں سالہ لڑکیوں کی اُچھل کود دیکھ کرمحظوظ ہونے لگا.سب خاکی کوٹ اور خاکی سنوشوز پہنے ادھر اُدھر بھاگتی ایک دوسرے پر برف کے گولے بنا بنا کر پھینک رہی تھیں.

ایک شوخ وچنچل ہرن کی طرح پھُدکتی لڑکی نے برف کا گولہ اپنی ساتھی لڑکی پہ پھینکا مگرنشانہ خطا گیا.دیکھتے ہی یاورخان کی ہنسی نکل گئی.

برف کا مزہ لینے وہ وادی میں اُترا. ایک گولہ پھرتیلی ہرنی جیسی لڑکی کے ہاتھ سے چھوٹا اور یاور خان کے چہرے پرجم گیا, ٹھنڈی برف سے گُتھاگولہ چہرے پہ برف کے چند نرم ٹکڑوں کو پھیلائے اُسے سرورِمحبت سے آشنا کرگیا.جسکی ٹھنڈک روح تک سرائیت کرگئی،وہ بُت بنےتکتا رہا.تیکھی ,نیلی آکھیوں والی ہرنی پُھدک پُھدک کر اُس کے دل کی گہرائیوں میں اُتر گئی.

”سوری۔۔۔۔“ قریب آکر زیرِلب وہ گویا ہوئی.

”او مسٹر۔۔۔۔۔۔کہاں کھو گئے“شرمین نے آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے اُسے اپنی جانب متوجہ کیا.
”کا۔۔۔کا۔۔۔کوئی بات نہیں“نسوانی آوازسُنتے ہی بدن میں گرمی سی محسوس ہوئی, وہ ہکلانے لگا.
وہ دوستوں کے ساتھ مری کے برف پوش پہاڑوں کا مزہ لینے آیا تھا مگر دردِ عشق لے کر لوٹا. پہلی بارہوٹل کے کمرے کے سامنے سفید برف کی چادر پر بھاگتی لڑکی اُس کے دل میں ایسی اُتری کہ جیسے کوئی نرم برف پر چلتے ہوئے گھٹنوں گھٹنوں دھنس جائے.

کہتے ہیں برف کے موسم میں شجر نہیں اُگتے مگر یاورخان کے دل میں پیار کی امر بیل ہمیشہ کے لیے جڑ پکڑ چکی تھی،دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں کے راستے دل میں اُترے. لمبے حسین کمر کو چھوتے بالوں میں وہ کوئی حسین دیوی لگتی،چہرے کی رنگت تبت کے پہاڑوں کی چوٹیوں کو ڈھکتی ملائم برف کی ماند سفید جوپہلی نظر کو چکناچوند کردے،درمیانے طبقے سے تعلق رکھنے والی جاگیردار کے دل کی ساری زمین کی اکلوتی مالک بن گئی.

شادی کے تیسرے سال بی جان کے حکم سے جہاں آرا کے ساتھ دسمبر کے آخری ہفتے وہ مری پہنچا تو اُس نے اس بار بھی وہی کمرہ بک کروایا,وہ ایک بار پھرکھڑکی سے باہر دُھندلکے موسم میں ماضی کی بکھری رنگینیوں میں کھو گیا. شرمین کی اٹھکیلیاں اُسے ستانے لگیں, اُسکے ساتھ بیتے لمحے آلاؤ بن کرمزید سُلگنے لگے,وہ کبھی کبھار اُس کے آگے چلتی ہوئی دور نکل جاتی,جس سے عاشق کی دھڑکنیں محبوب کونہ پاکر بے ترتیب سی ہو جاتیں.

برفانی بارش میں اُس کے ہاتھ میں پکڑی چھتری کے نیچے آکروہ خو د کو اُس کے کوٹ میں ایسے چھپا لیتی جیسے چاند بادل کی اوٹ میں شرماتا ہوا گم سم ہو کرزمین پہ بسنے والے شاعروں کو تڑپا جاتا ہے کہ کہیں وہ اُس کے منہ چھپانے سے شاعری کرنا نہ بھول جائیں.اُسکے نرم گداز مرمریں خدوخال کوٹ میں چھپے وجود میں پیوست ہوکر گرمی لانے کا کام کرتے, جو نہایت ہی لذت آمیز لمحات پہ مشتمل تھے.سوچتے ہوئے وہ زیرِلب مسکرایا.
“چائے……… پلیز”جہاں آرا سے چائے پکڑکروہ دوبارہ ان لذت آمیز لمحات کو دیکھنے کے لیے مڑا,
“دسمبر بیت نہ جائے”
لمبی سانس لیتے ہوئے بڑبڑایا.
اُسکے منہ سے نکلنے والی گرم بھاپ کھڑکی کے ٹھنڈے شیشے پر جم کراُسے دھندلا گئی.
آہ….۔۔۔او………جہاں آرا کی آبکائی پہ وہ چونکا.
اور خود کو باپ بننے کی منزل تک لانے کے لیے سوچنے لگا……….

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں