297

پاکپتن: فورٹیفائیڈ خوراک کے استعمال سے ہی پاکستان کی آنے والی نسلوں کو غذائی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے. احمد کمال مان ، دپٹی کمشنر.

پاکپتن ( حیدر علی شہزاد سے)فورٹیفائیڈ خوراک کے استعمال سے ہی پاکستان کی آنے والی نسلوں کو غذائی کمی کا شکار ہونے سے بچایا جا سکتا ہے نیشنل نیو ٹریشن سروے کے مطابق پاکستان میں 62 فیصد بچے 52 فیصد خواتین خون کی کمی کا شکار ہیں غذاؤں کو غذائیت سے بھر پور بنانا از حد ضروری ہے غذائیت سے بھر پو غذائیں جسمانی طاقت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ان خیالات کا اظہار ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے سماجی تنظیم آگاہی کے زیرانتظام نجی ہوٹل میں فوڈ فورٹیفیکشن پروگرام کے سلسلہ میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر اسسٹنٹ کو ارڈنیٹر رقیہ زمان سوشل آرگنائزر عظمی جاوید نے بھی فورٹیفائیڈ خوراک کی افادیت کوتفصیلی بتایا انہوں نے کہا کہ پاکستان میں خوراک میں غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ فولک ایسڈ فولاد ، آئرن ، زنک وٹامن اے اور ڈی سے بھر پور فورٹیفائیڈ خوراک کا استعمال کیا جانا بے حد ضروری ہے فوڈ فورٹفیکیشن پروگرام ملک بھر میں غذائی کمی کو پورا کرنے کیلئے استعمال کیا جانا بے حد ضروری ہے فوڈ فورٹفیکیشن پروگرام ملک بھر میں غذائی کمی کو پورا کرنے کیلئے فلور ملز ، گھی ، آئل ملز کو فورٹیفائیڈ آٹااور گھی بنانے کیلئے بھر پور معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ ملک بھر میں با آسانی طور پر فورٹیفائیڈ خوراک میسر ہو سکے لیڈ ی ہیلتھ سپر وائزر کا براہ راست کمیونٹی سے رابطہ رہتا ہے لہذا لیڈی ہیلتھ سپر وائزر اس شعور آگاہی کو زیادہ لوگوں تک پہنچانے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کریں تاکہ لوگ فورٹیفائیڈ خوراک کا ستعمال کرکے غذائی کمی کا شکار ہونے سے بچ سکیں تقریب سے چیف ایگز یکٹو آفسیر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر امتیاز احمد رانا چیف ایگز یکٹو آفسیر ڈسٹرکٹ ایجو کیشن اتھارٹی جاوید اقبال بابرڈی ایف سی قسور مبارک بٹ ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر افضل بشیر مرزا، ڈی آئی او سید سلمان حسین ،پریس کلب پاکپتن کے صدر وقارفرید جگنو منیجر پروگرام آگاہی قمر اقبال پنجاب فوڈ فوڈ اٹھارٹی انجمن تاجران بار کونسل اور سول سوسا ئٹی کے نمائندگان شامل تھے صوبائی کوآرڈینٹر ایف ایف پی رضا قاضی نے فو ڈ فورٹیفیکشن پروگرام پانچ سال کے لیے (2016-2021)حکومتِ برطانیہ کے ادارے DFID کے تعاون سے شروع کیا گیا ہے جس میں خاص طور پر غذائیت سے بھر پور غذا کے بارے قانون سازی کیلئے پارلیمنٹ کو کہا جائے گا آٹے اور گھی کی صنعت کے ساتھ ملکر ایسا آٹا اور گھی تیار کیا جائیگا جس میں زنک فولک ایسڈفولاد وٹامنB12آٹے میں اور وٹامنA&Dگھی میں مناسب مقدار میں شامل ہوں فوڈ فورٹیفیکشن آفیسرمحمدطاہر نے شرکا کو نیشنل نیوٹریشن سروے 2011کے نتائج کے بارے میں بتایا کہ 62%عورتوں میں خون کی کمی جب کی 54%عورتیں وٹامن Aکی کمی کا شکار ہیں جبکہ5سال سے کم عمر کے بچوں میں 62%بچے خون کی کمی اور 54%بچے وٹامنAکی کمی کا شکار ہیں چیف ایگز یکٹو آفسیر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی ڈاکٹر رانا امتیاز احمد نے کہا کہ ان اعدادوشمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ غذائیت کی کمی پاکستان کا سب سے اہم مسئلہ ہے جس سے عورتیں اوربچے خاص طور پر متائثر ہوتے ہیںیہ پروگرام خاص طور پر تولیدی اور حاملہ خواتین شیر خوار بچوں دودھ پلانے والی ماؤں اور بلوغت کی عمر کو پہنچنے والی بچیوں کے متعلق ہے فوڈ فورٹیفیکشن پروگرام غذائیت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے خوراک کی تیاری کے دوران اس میں اضافی وٹامنز منرلز شامل کیے جائیں گے اس پروگرام کے تحت گھی اور آٹا بنانے والی ملوں کے ساتھ معاہدہ کیا جائے گا جس کے تحت وہ فورٹیفائیڈ فوڈ مہیا کریں گی، علاوہ ازیں ڈپٹی کمشنر احمد کمال مان نے کہا کہ فوڈ فورٹیفیکیشن کے سلسلہ میں فورٹیفائیڈ خوراک کی افادیت کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ ہر ممکن طریقے سے تعاون کریں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں