253

پاکپتن: محنت کش کے قاتلوں U.K نیشنلٹی ہولڈر ملزمان کو چھوڑنے پر مقتول کے لواحقین کی پولیس اور ایم ایس کے خلاف احتجاج.

پاکپتن(حیدر علی شہزاد سے) محنت کش کے قاتلوں U.K نیشنلٹی ہولڈر ملزمان کو چھوڑنے پر مقتول کے لواحقین کی پولیس اور ایم ایس کے خلاف احتجاجی ریلی، نعرے بازی، مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ ایک ملزم کو پولیس نے بے گناہ قرار دیا جب کہ دوسرے کو ڈاکٹروں نے پاگل قرار دے دیا. چیف جسٹس سے نوٹس لینے کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق محنت کش کو اجرت مانگنے پر قتل کرنیوالے U.K نیشنلٹی ہولڈر ملزمان کو چھوڑنے پر مقتول کے لواحقین نے شہر کے مرکزی چوک نگینہ میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ڈاکٹروں اور پولیس کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ان کے مطالبات درج تھے۔ مقتول کے بیٹے یوسف نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ بااثر باپ بیٹے ملزمان میں سے ملزم افضل کو پولیس نے بھاری رشوت لے کر چھوڑ دیا جبکہ دوسرے ملزم اس کے بیٹے ذیشان کو ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال پاکپتن نے ڈاکٹروں کے ہمراہ بھاری رشوت لے کر پاگل قرار دے دیا جس کو ڈاکٹر پاگل کہہ رہے ہیں وہ گاڑی چلاتا اور ہر کام کرتا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیر اعظم سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گاؤں محمد پور مہندی میں اجرت مانگنے پر U.K نیشنلٹی ہولڈر باپ بیٹے نے وریام نامی محنت کش کو قتل کیا تھا۔ جس پر پولیس نے ملزمان کو بیرون ممالک فرار ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال ڈاکٹر امان اللہ کے مطابق ملزم ذیشان کو پاگل قرار نہیں دیا بلکہ ماہر نفسیات کی طرف ریفر کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں