485

انفارمیشن ٹیکنالوجی ….. (حکیم لطف اللہ)

تحریر: حکیم لطف اللہ.

ہم آج بھی اپنے اسلاف کے کھوئے ہوئے ورثہ علم کو اپنا کر اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوامقام حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت ہم اقوام عالم میں بہت نچلے مقام پر ہیں اور غربت کے خاتمے کے لیے کشکول ہاتھ میں لیے دربدر ہیں۔ موجودہ پانچ سال میں قرض لینے کے حوالہ سے ہم نے گذشتہ 65سال کے ریکارڈ توڑدیئے اور کوئی تعمیری کام بھی نہ کرسکے۔ قوموں نے ترقی علم کے بل بوتے پر کی ،اب دنیا کو سرکرنے کے لیے تلوار یا بندوق کی نہیں بلکہ فکری سمت نمائی کی ضرورت ہے اب ترقی کی راہوں پر چلنے کے لیے ہمیں ایک قوم بن کر آگے بڑھنا ہوگا اور علم و انفارمیشن کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کو بطور ہتھیار استعمال میں لانا ہوگا اس وقت سائنس وٹیکنالوجی تعلیم وصنعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے تعلیمی شعبے میں انقلاب برپا کیا جاسکتا ہے اسی سلسلہ میں گزشتہ دنوں یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب کے ہال میں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے زیر انتظام سائبرسیکیورٹی کانفرنس کا انعقاد کیا گیاPSA کے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور سید یاسر حسین جعفری کی قائم کردہ تنظیم ہے جس کا مشن رضائے الٰہی بذیعہ خدمت انسانیت ہے موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر ایسوسی ایشن کے صدر اور انکی ٹیم نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا ہے اور بابائے قوم کے خوابوں کو عملی جامہ پہنانا ہے تو ملک کے نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانا ہوگا۔ جس کے لیے ملک بھر کے تعلیمی اداروں سے استفادہ کرنا ہوگا۔ Eپاکستان کے خالق سابق ایڈیشنل چیف FIA عمار حسین جعفری کا ویژن ہے کہ 2025ء تک ہم پاکستان کو Eپاکستان بنا کر دم لیں گے ۔ ماہرین تعلیم کہتے ہیں ایک مرد کی تعلیم ایک فرد کی تعلیم جبکہ ایک عورت کی تعلیم ایک خاندان کی تعلیم ہے ، عورت نے تین تین نسلوں کو سنبھالنا اور اپنے خاندان کو آگے لے کر جانا ہے معاشرے میں جنتے کامیاب لوگ گذرے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ ان کو بنانے میں کسی نہ کسی خاتون کا کردار نظر آتا ہے ہمیں معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے جنگی بنیادوں پر خاتون کی تعلیم کو بطور ہتھیار استعمال میں لانا ہوگا۔
آئی ٹی کے شعبے میں سمارٹ فون ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے گوگل کے تعاون سے صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہت بہتری آئی ہے اب تو وہاں کی پیشگی اطلاع پر ان سے آسانی کے ساتھ نبرد آزما ہواجاسکے گا۔ حکومت پنجاب نے ڈینگی پر قابو پایااسی طرح کرپشن پر قابو پانے کے لیے شہریوں سے استفادہ حاصل کرنے کے بعد انکی آراء کی روشنی میں قابو پانے میں مدد مل رہی ہے۔ تعلیم کے شعبہ میں Eلرننگ نظام بنایا گیا ہے، سکولوں میں نصابی کتابیں آن لائن مفت دستیاب ہیں۔ سکولوں کی مانیٹرنگ کا نظام چل رہا ہے اس وقت 11043مانیٹرنگ انسپکٹر جب وزٹ فائنل کرتے ہیں سکول سے رپورٹ فائل کرتے ہیں تو ایک لمحے کی تاخیر کے بغیر سکول کی مکمل رپورٹ بغیر کسی تبدیلی کے متعلقہ ادارے کو پہنچ جاتی ہے اسی طرح پنجاب کے 713 تھانوں کا نظام بھی کمپیوٹرائزڈ کردیا گیا ہے۔کریکٹر سرٹیفیکیٹ، ڈومیسائل سرٹیفیکیٹ، طلاق سرٹیفیکیٹ، موٹر وہیکل رجسٹریشن ، نادرا Eسہولت روٹ پرمٹ، ڈرائیونگ لائسنس، وہیکل ٹرانسفر، قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کی سہولت موجود ہے۔ پنجاب میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹر کردیا گیا ہے۔ اب پانچ کروڑ70لاکھ دیہی اراضی مالکان اپنے سمارٹ فون پر تمام معلومات کو واچ کرسکتے ہیں۔ پنجاب بھر میں اس وقت 151 لینڈ ریکارڈ سنٹرز کام کر رہے ہیں۔ شکایات اپنی جگہ مگریہ کام وقت کی ضرورت ہے اسی طرح Eخدمات سنٹرکا قیام جہاں ایک ہی چھت تلے صوبائی اور وفاقی محکموں سے متعلق دستاویز کا حصول ممکن ہے جیسے کہ برتھ ، کریکٹر، ڈیتھ، میرج،ڈومیسائل، طلاق سرٹیفیکیٹس کا حصول موٹر وہیکل رجسٹریشن، نادرا Eسہولت، روٹ پرمٹ، فرد ملکیت، لرنر ڈرائیونگ لائسنس، وہیکل ٹرانسفرآنر شپ سرٹیفیکیٹ، فائن کولیکشن، ٹوکن ٹیکس اور قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیا جارہا ہے۔ اسی طرح پاکستان میں اسٹام پیپر کابہت بڑا فراڈ ہوتا تھا اب Eاسٹام ہونے سے اربوں روپے کا فراڈ ختم ہوگیا ہے۔
روزگار کے حصول کے لیے پیج موجود ہیں جس سے روزگار کے متلاشی نوجوانوں کی رسائی آسان ہوگئی ہے۔ کافی سرکاری ہسپتال اب کمپیوٹر پر آچکے ہیں اور بقیہ کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک بھر میں جتنی اتھارٹیز قائم ہوگئی ہیں یا ہونے جارہی ہیں ان تمام اتھارٹیز کا مقصد ملک کے تمام سسٹم کو کمپیوٹر سسٹم کے اندر لانا ہے ہوٹل میں کھانا کھانے والے کسٹمر کا بل بھی سسٹم میں آئے اور شعبہ صحت میں ہر مریض جب چیک ہو اسکی پرچی بنے وہ ریکارڈ پر ہو۔ اور ہر ادارہ گورنمنٹ کو ٹیکس جو بنتا ہے اسکی ادائیگی کرے۔ بے روزگاری کے خاتمہ کے لیے پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے اپنے Eسکل سنٹرز میں بے روزگار ہنر مند افراد کی باقاعدہ رجسٹریشن کے عمل کا آغاز کردیا ہے اور ایسے ادارے جن کو ہنر مند افراد کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے کے ساتھ بھی باقاعدہ رابطے استوار کئے ہوئے ہیں تاکہ ان افراد کے ان کے ساتھ رابطہ کرواکر ان کو روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں اور بے روزگاری کے خلاف جہاد میں اپنا مثبت کردار ادا کرکے ملک پاکستان کی ترقی میں اپنا حصہ شامل کیاجائے۔
یہ بات خوش آئیند ہے کہ پاکستان میں اب اس ٹیکنالوجی کا آغاز ہوچکا ہے ملک میں اس وقت کروڑہا لوگ سیل فون استعمال کررہے ہیں۔ پاکستان میں کینڈا کی کل آبادی سے زیادہ افرادانٹر نیٹ استعمال کررہے ہیں ۔ پاکستان کو اب ترقی کرنے اور آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا۔ اب بھی پاکستان انفارمیشن ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے ممالک میں بہت پیچھے ہے ۔ اس بات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ پاکستان میں اب تک سوفٹ ویئر ایکسپورٹ 3ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ انڈیا میں 164ارب ڈالر سالانہ ہے۔ ہمارے لوگ سینکڑوں میں جبکہ انڈیا میں لوگ لاکھوں میں کام کر رہے ہیں۔
ترقی یافتہ ممالک میں آئی ٹی اب اس حد تک ترقی کرچکی ہے کہ وہاں کے ہر شہری کی صحت کے متعلق تمام معلومات اس کے متعلقہ ہسپتال میں موجود ہیں شہری کہیں بھی ہے اس کا ہیلتھ گائیڈ اس کے رابطہ میں ہے مریض کو اپنی مرض اور تکلیف معلوم ہی نہیں اسکو اطلاع ملے گی کہ آپ کا بلڈ پریشر شوٹ کررہا ہے فوری اسکا بندوبست کریںیا ہسپتال پہنچیں۔ کسی حادثہ کی صورت میں یا ہارٹ اٹیک میں ڈرون فوری آپ کے پاس پہنچ کر آپکو ابتدائی طبی امداددینے کا آغاز کردے گااور اس دوران ایمبولینس بھی پہنچ چکی ہوگی اب تو آپ کہیں بھی بیٹھے اپنے پورے گھر اور آفس کا وزٹ کرسکتے ہیں وہاں کسی کمرے میں فالتو چلنے والا ACیا لائٹ بندکرسکتے ہیں ۔ ایسے روبوٹ مارکیٹ میں آچکے ہیں کہ آپکے لیے گھر کا سامان فوراً آپ کی خدمت میں حاضر ہوسکتا ہے ۔ یہ سب انفارمیشن ٹیکنالوجی کی بدولت ہی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں