409

پاکپتن: والدین اپنے بچوں کی کفالت اورنگہداشت خود کریں۔ بچوں کو مناسب توجہ اور پیار دیں. طارق عزیز.

پاکپتن (حیدر علی شہزاد سے) بچوں کے راہ راست سے بھٹک جانے کی بنیادی وجہ والدین کا بچوں کو ان کا جائز پیاراور توجہ نہ دینا اور بنیادی ضروریات کو پورا نہ کرنا ہے، والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچوں کی کفالت اورنگہداشت خود کریں۔ان خیالات کا اظہار گذشتہ روزطارق عزیز سینئر ہیڈ ماسٹر گورنمنٹ ہائی اسکول 39ایس پی نے نے نشہ ، جنسی تشدد اور سوشل میڈیا کے بے جا استعمال اس کی روک تھام اور بچوں میں صحت عامہ سے متعلق آگاہی کے حوالے سے انجمن فلاح مریضاں ، ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن و پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام گورنمنٹ ہائی سکول 39/SP میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔حکیم لطف اللہ جنرل سیکرٹری ڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے اپنے خطاب میں کہا کہجنسی تشدد کے حوالے سے ہونے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایسے واقعات میں زیادہ تر قریبی رشتہ داراوردوست ملوث ہوتے ہیں۔والدین اپنے بچوں کی تمام سرگرمیوں پر خود نظر رکھیں۔ اس سے بچے بھی بری سوسائٹی سے دور رہیں گے اور والدین کے علم میں ہوگا ان کے بچے کیا کر رہے ہیں اور ایسے سنگین واقعات میں بھی کمی آئے گی۔جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے کہا کہ کیا ہمیں نہیں معلوم کہ ہم اشرف المخلوقات کے مقام پر فائز ہیں ۔ ہم اس مقام پر فائز ہونے کے باوجود ایسے اعمال میں مصروف ہیں کہ جن میں سے صرف تمباکو نوشی کے دھوئیں سے ہم ہر چھ سیکنڈ بعد ایک جان سے ہاتھ دھوبیٹھتے ہیں سالانہ ساٹھ سے ستر لاکھ اموات کا باعث تمباکو نوشی ہے۔ وقارفرید جگنو صدر پریس کلب نے کہا کہ ہمارے ملک کے شہروں میں %70اور دیہی علاقوں میں %99 والدین کو علم ہی نہیں ہوتا کے ان کی اولاد کیا کر رہی ہے۔ جہاں آج دنیا ترقی کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کر رہی ہے وہیں ہمارے بچے اس کو غلط مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں۔سوشل میڈیاکاغلط اوربیجااستعمال نوجوان نسل کے لیے زہر قاتل ہے اورہماری تباہی کاباعث ہے یہبیرونی دشمنوں کی سازش ہے ہم نے اس سازش کو مل کر ناکام کرنا ہے۔ معاشرے کو اس گند سے پاک کرناہے۔ ان موجودہ معاشرتی مسائل کے حل میں ہماری خواتین۔ اساتذہ و تعلیمی ادارے ، مساجد اور سماجی تنظیمیں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں