245

پاکپتن: دوماہ پہلے نوجوان کے نازک اعضاء کاٹ کر زندہ جلا دیا گیا تھا. متاثرہ خاندن تاحال انصاف کا منتظر.

پاکپتن(وقار فرید جگنو سے) نوجوان کے نازک اعضاء کو کاٹ کر زندہ جلانے کے واقعہ کو دو ماہ گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندان انصاف کا منتظر،ورثا نے ملزمان کے خوف سے شہر چھوڑ کر گاوں میں پناہ لے لی پولیس پر ملزمان کے ساتھ ساز باز ہونے کا الزام ورثا کا چیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعظم پاکستان سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق تھانہ سٹی کے نواحی علاقہ چونگی شیخ جمال کے رہائشی 55 سالہ اللہ دتہ کے محنت مزدوری پر گئے 28 سالہ بیٹے وحید احمد کو ملزمان نے نازک اعضاء کاٹ کر چھریاں مارنے کے بعد کھیتوں میں پھینک کر زندہ جلا کر قتل کر دیا تھاانسانیت سوز واقعہ کو دو ماہ گزرنے کے باوجود پولیس متاثرہ خاندان کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے مقتول کے والد اللہ دتہ کا کہنا ہے ظالموں نے میرے بیٹے کو زندہ جلا دیاپولیس ملزمان سے ساز باز ہو گئی ملزمان با اثر ہیں ہمیں روز تفتیش کے نام پر روزانہ بلا کر ذلیل کیا جارہا ہے میرا واحد کفیل بیٹا جسے زندہ جلا دیا گیا ملزمان ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں جنکے خوف سے ہم شہر چھوڑ کر گاؤں میں پناہ لے رکھی ہے چیف جسٹس آف پاکستان اور وزیراعظم پاکستان عمران خان واقعہ کا نوٹس لے کر ہمیں انصاف فراہم کریں مقتول کی والدہ کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بڑھاپے کا سہارا چھین لیاہمیں انصاف چاہیے،اعلی حکام ملزمان کو انجام تک پہنچائیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں