527

ایوب اختر کا فن … چند تاثرات.. (مسعود میاں)

تحریر: مسعود میاں

تاثراتی مضمون میں اتنی وسعت اور گنجائش نہیں ہوتی کہ ہم کسی صنف سخن کے فنی محاسن پر سیرحاصل گفتگو کر سکیں یا اس کی حدود قیود کا تعین کر پائیں لیکن کیوں کہ ہمارے ہاں بڑے بڑے نامی گرامی شعراء کوفنی رعایت کی سہولت میسر ہوتی ہے اسی سہولت کے پیشِ نظر ہم یہاں اپنے تاثراتی بیان کو تجزیے اور جائزے کا رنگ دینے کی کوشش کریں گے۔
ابوب اختر کی نژنگاری پر دو بڑے الزامات لگائے جاتے ہیں ۔ ہم یہاں اُن الزامات کا دفاع کریں گے، مروت یا لحاظ کی بنا پر نہیں بلکہ اخلاص کے ساتھ اور خلوص کے علاوہ دیانت داری کی شرط بھی لازمی ہے۔
کچھ لوگوں کے خیال میں ایوب کے مضامین تنقید نگاری کے زمرے میں آتے ہیں۔ یہ پہلا الزام ہے ۔ دوسرا الزام اس بے بھی سنگین نوعیت کا ہے۔ بعض عناصر ایوب کی تحریروں کو مزاح نگاری کے چوکھٹے میں فٹ کرنے کی کوشش نہیں بلکہ زبردستی کرتے پائے جاتے ہیں۔
مثال کے طور پر اگر یہاں اس قسم کا جملہ کہا جائے کہ ’’ایوب کی مزاح نگاری مشتاق احمد یوسفی کے اسلوب کی یاد تازہ کر دیتی ہے‘‘
توصاحبو! اس مذکورہ بالا جملے کی صورت میں بات مزاح سے نکل کر مذاق اُڑانے کی طرف چل نکلے گی۔ کوئی جوئینر ہو یا سینئر ہو۔ ہمیں کسی کا مذاق نہیں اُڑانا چاہیے کیوں کہ مذاق اُڑانا ہمیں یکدم تہذیب کے دائرے سے باہر پھینک دیتا ہے۔ ویسے بھی ادب تو تہذیب کا پہلا قرینہ کہلاتا ہے اور پہلے قدم پر بہکنے والوں کو تاریخ اچھے لفظوں سے یاد نہیں رکھتی۔
ہمارے خیال میں ایوب کے پرستار زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس کی نثرنگاری بڑی شائستہ اور شگفتہ ہے۔ بہر حال ہمارے لیے دونوں صورتیں قابلِ قبول ہیں یعنی شگفتہ بھی اور شائستہ بھی۔
جہاں تک نقاد کا تعقل ہے تو اس کی معاشی صورتِ حال کو ایک اچھا مزاح نگار بہتر طریقے سے بیان کر سکتا ہے۔ ہم تو یہاں سرسری طور پر ذکر کریں گے۔
ہمارے ہاں حسن عسکری کے بعد تنقید نگاری میں صرف خلا پایا جاتا ہے اور اس عظیم خلا کو ہم نے تدریسی قسم کی تنقید سے پُر کرنے کی کوشش کی ہے اس زبوں حالی میں بے چارے نقاد نے جب یہ دیکھا کہ اُس کی معاشی خستہ حالی ادیب سے بھی زیادہ گری ہوئی صورت اختیار کر جائے گی تو اس کے سامنے دو ہی راستے تھے یا تو وہ اپنی تنقید کو تدریسی ضرورتوں کے سانچے میں ڈھال کر پیش کرے اور اگر یہ کام نہیں کر نا تو بھوکا مرنے سے کہیں بہتر ہے کہ وہ نام بدل کر یعنی خواتین کے نام سے ناول نگاری کا کام شروع کر دے۔ ہمارے ہاں یہ دونوں کام معقول آمدنی کا ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر جمیل جالبی کی ’’اردو ادب کی تاریخ‘‘ کی سیل کافی حوصلہ افزا ہے۔ خواتین کے ناموں سے چھپنے والے ناولوں کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے نال کے حقوق کوئی بھی ٹی وی چینل اچھے داموں خرید لیتا ہے اور اس سلسلے میں کوئی رُکاوٹ پیش نہیں آتی۔
نقاد کے بعد اب تنقید سے متعلق بھی کچھ ذکر کرتے چلیں۔
نقادوں کی کم یابی کے باوجود ہمارے ہاں بھانت بھانت کی تنقید منظرِ عام پر آتی رہی ہے۔ حسن عسکری، سلیم احمد سے لے کر ممتازشرین تک خالص ادبی تنقید لکھی جاتی رہی۔ بعد ازاں کلیم الدین احمد، محمد علی صدیقی نے درسی ضروریات کے لیے لکھنا شروع کر دیا پھر ان کے ساتھ اور بہت سے نام شامل ہوتے چلے گئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر سلیم اختر کے ناموں نے تو بڑی دھوم مچارکھی ہے۔ اس دوران ڈاکٹر انور سدید نے تنقید کو نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی کے لیے وقف کر دیا تو وہیں ڈاکٹر انیس ناگی نے اپنے ذاتی غصے کا اظہار کرنے کے لیے تنقید نگاری کو بخوبی استعمال کیا۔ اس سارے منظر نامے کے آخر میں جی سی یونی ورسٹی کے شعبہ اردو کے ڈین ڈاکٹر سہیل احمدخان کی تحریروں نے اردو تنقید نگاری کو صحیح معنوں میں وقار بخشا ہے۔
نقادوں کے ذکر خیر کے بعد ہم جائزہ لیں گے کہ تنقید کیا ہوتی ہے؟ یا پھر تنقید کو کیسا ہونا چاہیے؟ دوسرے لفظوں میں تنقید کس چڑیا کا نام ہے؟ ہمارے ہاں بڑے نقاد ، ادیب اور ادب کے ساتھ جس قسم کے رویے سے پیش آتے ہیں اس کے پیشِ نظر ہمیں مندرجہ بالا جملے کو تبدیل کرنا پڑے گا۔ تب جملہ کچھ یوں بنے گا کہ ’’تنقید کس بلا کا نام ہے؟ یہ بلا کیسی ہوتی ہے؟ اس کے خدوخال کو واضح کرنے کے لیے ہم یہاں وارث علوی کے مضمون کا ایک اقتباس پیش کریں گے۔ جس میں وہ قاضی عبدالستار کے ناولوں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ چار معنی خیز اور اہم ناولٹ لکھنے کے بعد قاضی صاحب نے، غالبؔ ، حضرت جان اور تاجم سلطان جیسے ہر لحاظ سے بے ہودہ ناول کیسے لکھے۔ مجھے ان کی عریانی اور فحاشی پر کوئی اعتراض نہیں کہ میں ایروٹیکا کا بہت دلدادہ ہوں اور چاہتا ہوں کہ وہی وہانوی کے انداز میں نہیں لیکن’’ کاماسوترا‘‘کے انداز میں انگیا کے بند تڑخنے اور بیلا کے پھول کھلنے کی کوئی داستان رقم تو ہو کہ زندگی جو ویران سے ویران تر ہوتی جا رہی ہے، اس میں کہیں تو بادِ نو بہار چلے اور رگوں میں نیلے کسیلے خون کی جگہ چنگاریاں جلاتا سرخ گرم لہو کی شوریدہ سری تو پیدا ہو۔ اگر قاصی صاحب کے ان ناولوں پر مجھے کوئی اعتراض ہو سکتا ہے تو یہی کہ جنس کا اتنا کاروبار اور ایسا ٹھنڈا۔ جنس کے لحاظ سے نہیں، فن کے لحاظ سے میں سوچتا ہوں کہ کوئی بھی لکھنے والا اتنی غیر تخلیقی، اتنی بے ہودہ چیزیں کیسے لکھ سکتا ہے۔ دنیائے ادب میں اس کی مجھے ایک ہی مثال ملتی ہے۔ سندھ کی ناول نگار تہمینہ درانی کا انگریزی ناولBlasphemy یہ ناول نہیں ڈھکوسلے ہیں ۔ ادب کے بھی جنس نگاری کے بھی۔ ان ناولوں کا سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ نقاد ان کے عیب پر بھی گفتگو کرنے کا اہل نہیں رہتا ورنہ وہ اتنا تو کہہ سکتا کہ اتنی سب ، اتنی بھانت بھانت کی غیر دلچسپ ، بے وقوف اور جنسی اعتبار سے بے کشش عورتوں کو پھانسنے اور انھیں بستر تک لا کر بستر کو سرد چھوڑ دینے کی مہمات کی جگہ ایک چالاک فن کار ، ایک چوہے دان میں ایک چوہیا کو پکڑنے کی ایسی ذہین ظرافت انگیز اور سنسنی خیز ناول لکھ سکتا ہے کہ ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔
اُمید کی جاتی ہے کہ اس اقتباس کی روشنی میں تنقید کا منصب بڑے بھرپور انداز میں وضع ہو جائے گا۔ گویا تنقید کا بنیادی کردار اس بات کا تعین کرنا ہوتا ہے کہ کوئی بھی تحریر کس سطح پر جا کر تخلیق کا درجہ حاصل کرتی ہے۔ بالکل ایسے ہی جس طرح سے نیاریے سونے کو مٹی سے علیحدہ کرتے ہیں ۔ اس سطح کا تنقیدی اسلوب ہمارے ہاں تو نایا ب ہے۔ بڑی سطح کی تنقیدی اہلیت کے لیے ایک خاص طرح کی ذہنی تربیت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ جس معاشرے میں ڈگریوں کے ڈھیرمحض اس بنا پر لگائے جا رہے ہوں کہ انکریمنٹ لگ جائے گی یا سکیل کے درجے میں اضافہ ہو جائے گا تو وہاں ذہنی تربیت کا خیال ایک خوب صورت خواب کی طرح ہو سکتا ہے اور خواب دیکھنا بذاتِ خود ایک تخلیقی عمل ہے جوہمیں بہر حال جاری رکھنا چاہیے۔
جس درجے کی تنقید کو ہم خواب سمجھتے ہیں اس کا ایک دھندلا سا اشارہ بھی ہمیں ایوب اختر کی تحریروں میں کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ بنیادی طور پر وہ ایک شاعر ہے اور شاعری بھی یوں کہ اسے ایوب کا اوڑھنا بچھونا کہا جا سکتا ہے۔ نثر لکھ کر ایوب نے یہ ثابت کردیا ہے کہ بندہ کبھی کبھار اپنی مخصوص ڈگر سے ہٹ کر چلنے کی قدرت ببھی رکھتا ہے۔ اب اس میں اسے کس قدر کامیابی نصیب ہوتی ہے یہ فیصلہ تو ہمیشہ آنے والے وقت ہی نے کرنا ہے۔
تو بات اب یہاں تک پہنچی ہے کہ ایوب اختر کی تحریروں سے مزاح اور تنقید کو علیحدہ کر کے کتنا سونا بچتا ہے اس کا کچھ ذکر کرتے چلیں۔
ایوب نے اپنی تحریوں کے لیے وہ مخصوص کردار وضع کر رکھے ہیں۔ ان کرداروں کی مکمل ساخت اس کی اپنی ذہنی اختراع ہے۔ ان کرداروں کی زبان سے لے کر ذہنی رویے تک سے صاف پتہ چلتا ہے کہ یہ کسی سے متاثر ہو کر نہیں بنائے گے۔ ظاہر ہے کہ معاشرہ خود بہت بڑا اسٹیج ہے اور ایوب نے اسی اسٹیج سے ان دونوں کرداروں کو اخذ کیا ہے۔ ان کرداروں کی بنت کاری میں جو فنی کمال ہے وہ ان کے ذہنی رویوں سے بڑے بھرپور انداز میں عیاں ہوتا ہے۔ اس کی تحریروں میں ایک کردار استاد کا ہے اور دوسرا شاگرد کا۔ کردار سازی میں کلیے اور قاعدے کے مطابق کردار جس نوعیت کا ہوتا ہے لکھنے والا اس کے منھ میں ویسی ہی زبان رکھ دیتا ہے۔ اگر کردار کسی دانا شخص کا ہو تو اسے اصول کے تحت دانائی کی باتیں ہی کرنی چاہیں اور ایک بیوقوف کو کم عقلی سے کام لیتے ہوئے دکھایا جانا چاہیے۔ ایوب اختر کے کردار بھی طے شدہ اصولوں سے کبھی انحراف نہیں کرتے۔ یعنی استاد اپنے منصب کے عین مطابق بولتا ہے اور شاگرد کا رویہ بھی شاگرد وں والا ہی رہتا ہے۔ اب اس میں انوکھی بات کیا ہے؟ ہم اسی انہونی بات کی طرف آنا چاہتے ہیں جو ایوب سے سرزد ہو گگئی ہے۔ ایوب کی اس انفرادیت کو بیان کرتے ہوئے ہم پہلا جملہ یہ لکھیں گے کہ فن کسی کی میراث نہیں ہوتا۔ یہ سراسر ودیت کا معاملہ ہے اور جو کوئی اس کا اہل ہوتا ہے فن کی میراث اسی کے حصے میں آتی ہے۔
ایوب اختر کے کرداروں کی ایک انفرادیت یہ ہے کہ اس نوعیت کے کردار تخلیق کرنے کی اس سے پہلے صرف ایک مثال ملتی ہے اور وہ ہیں اشفاق احمد آج سے برسوں پہلے اشفاق احمد نے ایک ریڈیائی ڈرامہ لکھا جس کا نام تھا ’’تلقین شاہ‘‘ ۔ اس ڈرامے کا سکرپٹ دیکھ کر کسی انگریز نے انھیں مشورہ دیا کہ اگر آپ اس پرتوجہ مرکوزہ کریں تو یہ بہت مشہور ہو سکتا ہے۔ پھر اشفاق احمد ’’تلقین شاہ‘‘کی طرف یوں متوجہ ہوئے کہ یہ ڈرامہ چالیس برس تک دھوم مچاتا رہا اور بھارت کی بینڈ بجاتا رہا۔
تلقین شاہ کے کرداروں کا ایوب اختر کے کرداروں سے موازنہ کرتے ہوئے ایک بڑا فرق درمیان میں یوں آجاتا ہے کہ اشفاق احمد کے کردار پورے معاشرے کی نمائندگی کرتے نظر آتے ہیں جب کہ اس کے مقابلے میں ایوب اختر کے کرداروں کا دائرہ عمل ایک مخصوص طبقے تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے۔ یعنی شاعر اور دیب حضرات وغیرہ ہی زیادہ تر ان کا نشہ عبرت بنتے ہیں۔ البتہ اشفاق احمد اور ایوب دونوں کے کرداروں کے پیچھے جوفلسفہ کار فرما ہے وہ ایک ہی ہے۔
تلقین شاہ میں دو اہم کردار ہیں ایک کا نام ’’ہدایت اللہ‘‘ اور دوسرے کا نام ’’تلقین شاہ ‘‘ ہے اشفاق احمد نے ہر مثبت خیال ’’ہدایت اللہ‘‘ کے کھاتے میں لکھا ہے، ہر اچھی بات اس کے منھ سے کہلوائی ہے۔ جب کہ تمام ترمنفی سوچ کو تلقین شاہ یعنی خود سے منسوب کیا ہے۔ اس انداز میں اپنی ذات کی نفی کرنے کی مثال اردو ادب میں اس سے پہلے کہیں نہیں ملتی ۔ اشفاق احمد نے اس ڈرامے کے ذریعے ہمیں بڑی خوب صورتی اور فنی مہارت سے یہ بتایا ہے کہ صرف ملامتی روپ دھار لینے سے بات نہیں بنتی۔ عمل کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہوتی ہے۔
ایوب کی تحریروں میں بھی دو اہم کردار ہیں ۔ ایک استاد کا اور دوسرا شاگرد کا ۔ اس نے بھی ہر مثبت بات استاد سے کہلوائی اور ہر منفی سوچ کو خود سے منسوب کیا۔ اس کے جملے سن کر نادان لوگ سمجھتے ہیں کہ جیسے وہ طنز کے نشتر چلا رہا ہے، مزاح پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہو یا پھر تنقید کی مسند پر بیٹھا ہو۔ حالاں کہ وہ تو خود کو ایک تسلسل سے ملامت کرنے میں مصروف کار ہوتا ہے۔ملامتی کہلوانے اور ملامتی ہونے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ ایوب کیوں کہ درِ گنجِ شکرؒ کے ثنا خوانوں میں اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے اس بنا پر ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی تحریروں میں جو ملامتی رنگ دکھائی دیتا ہے تو یہ دراصل فرید پاکؒ کی فیضانِ نظر سے ہی اسے عطا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں