397

علم بڑی دولت ہے……(بریگیڈ یئر(ر) محمود الحسن سید)

تحریر: بریگیڈ یئر(ر) محمود الحسن سید

تعلیم کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ یہ اندھیرے میں روشنی کی مانند ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جہالت میں پلنے والی قومیں آخر کار تباہی اور بربادی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے ملکِ عزیز انتہا درجے کی پس ماندگی کا شکار ہے۔ اس کا اندازہ اس امر سے کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کے 193 ممالک جو کہ یواین کے ممبر ہیں میں تعلیم سے محروم بچوں کے حوالے سے ہمارا ملک 192 ویں نمبر پر ہے اور صرف نائجیریا ہم سے پیچھے ہے۔ اس وقت ملکِ عزیز میں25 ملین بچے سکول نہیں جاتے۔ نیز تعلیمی میدان میں بچیوں کے معاملے میں امتیازی رویہ رکھا جاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق پاکستان میں تعلیم کے حوالے سے لڑکوں اور لڑکیوں کا تناسب 10:4 ہے اسی طرح سے علاقائی سطح پر بھی تعلیم کے حصول کے ضمن بہت زیادہ تضاد موجود ہے۔ مثلاً فاٹا میں لڑکوں کی خواندگی کا معیار 29 فی صد جبکہ لڑکیوں کے حوالے سے یہ صرف 3فی صد کے قریب ہے۔ اس علاقے میں فنی اور تکنیکی تعلیم کے حوالے سے حالات بہت ہی دگرگوں ہیں اور یہ وہاں نہ ہونے کے برابر ہے ۔ تعلیم کے حوالے سے حالات کی زبوں حالی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں موجود کل سکولوں میں سے 40 فی صد یعنی 55,000 پرائمری اداروں میں پینے کا پانی میسر نہیں۔ مزید برآں55,000 سکولوں میں Toilet یعنی بیت الخلاء موجود نہیں۔ نیز کل پرائمری اداروں میں سے 60فی صد میں بجلی کی سہولت نایاب ہے اور سکولوں میں اساتذہ کی غیر حاضری بھی پریشان کن ہے اور متعدد ٹیچرز کا سرے سے کوئی وجود نہیں وہ صرف کاغذات میں ہیں اور ہر ماہ اُن کے واجبات کی ادائیگی باقاعدگی سے کی جاتی اور یہ پیسہ ذمہ دار افسران کی جیبوں میں جا تا ہے۔ اس ضمن میں ایک سروے کے مطابق کے پی کے میں 10فی صد اور پنجاب میں25فی صد اساتذہ صرف کاغذات پر موجود ہیں ۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر 10 بچوں میں ایک بچہ جو سکول نہیں جاتا پاکستان میں پایا جاتا ہے۔ مزید برآں دنیا میں26 ایسے ممالک ہیں جو کہ معاشی طورپر پاکستا ن سے کم تر حیثیت کے مالک ہیں مگر اُن ممالک میں پاکستان کے مقابلے میں زیادہ بچے سکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ تعلیم کے حوالے سے ایک اور پریشان کن بات یہ ہے کہ پاکستان کے عالمی سطح پر Millennium Developement Goals یعنی ’’ ہزار سال تعلیمی ترقی کے ہدف‘‘ کو حاصل کرنے کا قطعی کوئی امکان نہیں جبکہ بھارت، سری لنکااور بنگلہ دیش اس کے حصول کے قریب تر ہیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پنجاب 2041، سندھ 2049 ، کے پی کے 2046 اور بلوچستان 2100 تک ہرہ ہدف حاصل کرنے کے قابل ہو نگے۔ جبکہ ہم نے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے 2015 مقرر کیا ہے۔
جہاں تک تعلیمی معیار کا تعلق ہے تووہ بھی بہت ہی غیر تسلی بخش ہے۔ جس کا اندازہ اس امر سے کیا جاسکتا ہے کہ کلاس پنجم کے 47 فی صد بچے دوسری جماعت کے معیار کی آسان اردو میں لکھی ہوئی عبارت نہیں پڑھ سکتے۔ اسی طرح جماعت پنجم کے صرف 37 فی صد طلباء 3حرفی تقسیم کا سوال حل کر سکتے ہیں۔ اسی طرح کلاس سوم کے 73 فی صد بچے اور کلاس پنجم کے 39فی صد بچے تیسری جماعت کے معیار کی انگریز ی کی تحریر پڑھنے کے قابل نہیں۔ اس میں دوآرا نہیں ہو سکتیں کہ تعلیم کسی بھی ملک کی ترقی اور خوشحالی میں ایک کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ آزادی کے حصول کے بعد ایک لمبا عرصہ گزرجانے کے باوجود ہم تعلیمی میدان میں قطعی کوئی ترقی نہیں کر سکے اور اس حوالے سے ملک میں تعلیمی معیار میں تنزلی کا رجحان بہت نمایاں ہے اور اس کی تمام تر ذمہ داری ہماری اپنی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک قائم ہونے والی حکومتوں نے اپنا کردار ادا نہیں کیااور اس ضمن میں ہم کسی اور کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے یہ بہت ہی پریشان کن بات ہے کہ تعلیمی حوالے سے لاتعداد مسائل ہیں جن کو اگرمکمل ایمان داری اور ترجیحی بنیادوں پر حل نہ کیاگیا توملک جہالت کے اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔
پچھلے دنوں شمالی علاقوں میں سخت سردی کی وجہ سے سکول بند کردیئے گئے۔ لیکن اس کی بے سوچے سمجھے تقلید کرتے ہوئے ہمارے صوبے پنجاب میں بھی سکولوں کو چھٹیاں بڑھا دی گئی۔ جبکہ اس کی قطعی ضرورت نہیں تھی۔ تقریباً پوری چھٹیوں کے دوران دھوپ نکلی رہی اور موسم قابل برداشت تھا۔ ان چھٹیوں کاسب سے بڑا نقصان نویں اور دسویں جماعت کے طلبا کو ہوا جن کے فائنل امتحانات سر پر ہیں۔ اس طرح بے سوچے سمجھے چھٹیاں دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارے حکمران ملک میں تعلیمی معیار کو بہتر کرنے میں دلچسپی ہی نہیں رکھتے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں