560

مردانگی سے انسانیت تک کا سفر۔۔۔(علی عبداللہ خان)

تحریر: علی عبداللہ خان

زندگی اِنسان کو کئی روپ دیکھاتی ہے، اچھے اور برے دونوں ہی شامل اِس میں ، وقت سے پہلے شعور آ جانا بھی اللہ کی طرف سے دیا ہوا اِیک بہترین تحفہ ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے برا نہیں سوچتے لیکن اِنسان کم عقل کیا کرے بیچارہ اُسے ہمیشہ قسمت کا ہی دوش سمجھتا ہے۔
2014 میری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ میں نے 2014 میں اپنی میٹرک مکمل کر لی تھی اور میں فری تھا۔ بابا نے کہا گورنمنٹ کالج میں پڑھنا ہے۔ اپریل میں امتحانات سے فارغ ہوا اور کلاسز کا آغاز اگست سے ہونا تھا۔ اِتنا وقت میں نے صرف آوارا گردی میں ہی گرزارنا تھا۔ میں ایک ٹیکنیکل کالج میں 3 ماہ کے کورس کے کمپیوٹر کورس کے لیے اپلائی کر آیا۔ جب میڑٹ لسٹ لگی تو میرا بھی نام آ گیا۔ میں گھر سے آزاد تھا۔ ماں اپنی نوکری میں مصروف اور ابا جان اپنی نوکری میں مصروف۔ میں جن لڑکوں کے ساتھ پڑہتا تھا ایک نمبر کے اوارہ اور گینگ والے لوگ تھے۔ تب میرے اندر آدمیت نے جنم لیا، ایک ایسا آدمی جو انسان کو انسان ہی نہیں سمجھتا تھا اور عورت کو محض ایک فن کی چیز۔
میرا سارا دن کام ہونا ایک دو گھنٹے پڑھنا اور لڑکیوں والی برانچ کے دروازے سامنے کھڑے ہو جانا، لڑکیوں نے باہر آنا تو سیٹیاں اور اونچی اونچی آوازوں میں چیخ و پکار کر کے اُن کو تنگ کرنا اور اُن کا راستہ کاٹنا۔ میرے اندر یہ پہلے سے نہیں تھا، اچانک میں بدل گیا تھا۔ پھر ایک دن میں نے ایک لڑکی دیکھی جسے میرے کالج کے ہی کچھ لوگ تنگ کر رہے تھے۔ مجھے نہیں پتا کیوں لیکن مجھے اُس لڑکی پر بہت ہی زیادہ پیار آ رہا تھا، مرد ہوں بھائی اب جذبات پر کس کا قابو ہوتا۔ میں نے جا کر لڑکوں کو دور کیا اور معافی مانگ کر چلا گیا۔
میری اُس دن کے بعد یہی کوشش ہوتی تھی کہ اور دعا بھی کہ کاش مجھے روز نظر آئے وہ۔ خیر ایک ماہ اُسے دیکھتے دیکھتے ہی گزر گیا پھر میں نے ایک دن ہمت کری کے جا کر بات کرنے کی ہی کوشش کروں۔ میں پاس گیا اور سلام لیا، اُس نے جواب دیا۔ بس میں اِتنے میں ہی خوش۔ میں نے کہا آپ بھی کمپیوٹر کورس کر رہی ہیں۔ اُس نے کہا جی۔ ابھی میں بات کرنے ہی لگا تھا، تو اُس نے کہا دراصل میں پہلے ہی کمپیوٹر کی پراگرامنگ کر لیتی ہوں لیکن بیسک کمپیوٹر سیکھنا ضروری تھا میٹرک کے بعد ٹائم کافی تھا کالج کھلنے میں تو میں نے یہاں ایڈمیشن لے لیا۔ میں بھی کمپیوٹر کا پراگرامر تھا۔ میرے دل میں خوشی سے پتا نہیں کیا ہو رہا تھا۔ میں نے کوئی بات نہیں کی اور وہاں سے چلا گیا۔ میں اپنے آپ کو یہ سمجھا رہا تھا۔ کہ مجھے میری لائف پارٹنر مل گئی۔ اللہ نے مجھے بھی کسی سے ملوا دیا۔ اُس دن سے اللہ اللہ شروع ہو گئی۔ 5 وقت کی نماز دعا کہ بس وہ خود با خود میری ہو جائے۔ علی صاحب تحجد تک پڑھنا شروع ہو گئے تھے۔
میری اب روزانہ اُس سے ملاقات ہوتی تھی، میں نہ تو گیٹ کے سامنے کھڑا ہوتا تھا، نہ ہی کسی لڑکی کو اب چھیڑتا تھا۔ اُن دوستوں کو بھی کم ہی وقت دیتا تھا۔ ایک ماہ میں ہم لوگ بہت اچھے دوست بن چکے تھے۔ اِیک دوسرے سے کوڈ شیئر کرنا، نظریات اور ٹیکنیکس وغیرہ شیئر کرنا معمول تھا۔ اُس وقت میرے پاس موبائل تھا لیکن اُس کے پاس نہیں تھا۔ تو ہم لوگ زیادہ تر وقت میونسپل پارک میں ہوتے تھے کالج ک بالکل ساتھ تھا۔
کالج کا آخری دن تھا، ہم لوگ ملے میرا بہت دل تھا کہ میں اپنی دل کی بات اُس سے کہ دوں لیکن میری ہمت نہیں ہوئی۔ خیر کورس ختم ہو گیا، کالج شروع ہو گیا۔ مجھے اِیک اَن نون نمبر سے میسج آیا، مجھے پہلے تو بہت ستایا پھر بتا دیا کہ وہی لڑکی ہے۔
میں خوشی سے اچھلنے لگ گیا، میں زیادہ پبلک پلیس میں ملنے جلنے سے گریز کرتا تھا، خیر جنوری تک ہماری باتیں چلتی رہی۔ جنوری میں آپی کی شادی آ گئی، اب میں نے سب سے پہلے اُسے اِنوائیٹ کیا۔ 17،18،19 کا فنگشن تھا، میں نے مہندی کے فنگشن پر انوائیٹ کیا اور سوچا وہاں بات کر لوں گا شاید تھوڑی ہمت آ جائے۔
17 تاریخ دوپہر دو بجے میں نے اُسے کال کی۔ میں نے کہا 7 بجے آپ نے آ جانا چوک سے آگے میں خود لے جائوں گا۔ میں گھر تیاریوں میں مصروف ہو گیا، ٹائم کا پتا ہی نہیں چلا، 7:30 ہو گئے اور بیگم صاحبہ کا پتا ہی نہیں کہاں ہیں۔ میں نے کال کی نہیں اُٹھائی، 8:30 تک مسلسل کال کی نہیں اُٹھائی۔ میں نے کہا گھر سے پتا کرتا ہوں وہاں گیا تو گھر کو بھی تالا، اب پریشانی میں بھی اضافہ ہوا، دراصل اُسکی کسی رشتہ دار کی رخصتی بھی تھی، میں سوچ رہا تھا شاید وہاں سے واپس ہی نہ آئی ہو ابھی تک۔
اِیک بزرگ دوسرے کو بتا رہا تھا ” تھلے ڈگی کڑی چھتوں ہن ویکھوں بچدی کے نہیں” مطلب نیچے گری چھت سے لڑکی دیکھیں زندہ بھی رہتی یا نہیں۔ میرے پائوں تلے سے زمین ہی نکل گئی اور میری ٹانگیں کانپ رہی تھی۔ میں اپنے آپ کو تسلی دے رہا تھا، کوئی اور ہو گی۔ میں پاس گیا میں نے پوچھا بابا جی کون گرا نیچے، اُنہوں نے پورا قصہ بتا دیا، وہاں سے دوڑ لگائی سیدھا ہسپتال، گھر یہ بتا کر نکلا ہوا تھا کہ بہنوئی طرف جو مہندی وہاں جا رہا ہوں۔ ہسپتال پہنچا ایمرجنسی روم میں وہاں جا کر میری بس ہو گئی، ایک طرف وہ لیٹائی ہوئی اور ایک طرف سے خون سارا چہرا خون سے بھرا ہوا تھا۔ تب سمجھ نہیں آیا وہ آدمیت کہاں گئی، کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کروں۔ دماغ میں 1000 سوالات ایک ہی ساتھ آ رہے تھے۔ اِس کے وارث کہاں؟ ماں باپ کہاں؟ کون لے کر آیا اِسے؟ میں اِس کا کیا لگتا ہوں؟ زندہ بھی ہے یا نہیں؟ یااللہ اِسےکچھ بھی نہ ہو۔
اپنی کانپتی ٹانگوں پر قابو پا کر میں بیڈ کے پاس پہنچا، اور سسٹر کو کہا اِسے یہاں کون لے کر آیا، سسٹر نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کیا میں اُس کے پاس گیا۔ میں نے کہا سر میں اِس کا بہت اچھا دوست ہوں اور کلاس میٹ بھی، اُس نے بہت ہی عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا، لیکن این-جی-او میں رہ کر ایسی نظروں کی مجھے عادت ہو گئی تھی۔
میں نے سوال کیا آپ اِس کے کیا لگتے اور اِسے ہوا کیا۔ اُس نے کہا جی میں اِس کا پڑوسی ہوں مجھے پہلے ہی پتا تھا یہ ایسی لڑکی ہی ہونی، لڑکوں کو دوست رکھتی ایسا ہونا ہی تھا۔ مجھے ابھی تک اُس بے غیرت اِنسان کے لفظ یاد، کہہ رہا تھا منہ کالا کروا کے آئی ہو گی کسی نے دیکھ لیا تو چھت سے چلانگ لگا کر خودکشی کی کوشش کی۔ اللہ بچائے ایسی لڑکیوں سے۔ وہاں میرا دماغ خراب ہوا اور میں آگ بگولا ہو گیا۔ میں نے کہا بے غیرت اِنسان میری آنکھوں کے سامنے سے دفع ہو جا ابھی اور اِسی وقت اِس سے پہلے کے میں کوئی ہاتھا پائی شروع کر دوں۔
میری آنکھیں غصہ سے لال ہو گئی اور دماغ میں چل رہا تھا کہ اِسے تھپڑ مار دوں بلکہ جان سے ہی مار دوں۔ لیکن وہاں پڑی اُس لڑکی کا بھی خیال کرنا تھا۔ اتنے میں سسٹر آئی اور اُس نے کہا بلڈ بینک جا کر او پوزیٹیو خون لے آئیں، میں نے کہا میرا خون او پوزیٹیو ہے اور میں ڈونیٹ کروں گا، سسٹر نے ایک پیج پر سائین کروائے اور میں نے خون کی ایک بوتل نکلوا لی۔ میں مسلسل کچھ نہ کچھ پڑھ کر اُس پر پھونک رہا تھا۔
مجھے سکوں نہیں آ رہا تھا، اور میں نے آج تک یہ سوچا بھی نہیں تھا، اِس طرح بے یارومددگار یہ میرے سامنے لیٹی ہو گی اور بالکل چُپ ہو گی۔ میں اللہ سے دعائیں نہیں بزنس کر رہا تھا،
یا اللہ اسے کچھ نہ ہو 5 وقت کی نماز پڑھوں گا، کسی بھی لڑکی کی طرف آنکھ اُٹھا کہ بھی نہیں دیکھوں گا۔ ساری میری بہنیں وغیرہ وغیرہ۔ میری آنکھوں سے مسلسل آنسوں بہ رہے تھے اور میں امید ہار چکا تھا، اُس کی حالت دیکھ کر لگ رہا تھا کوئی امید نہیں بچنے کی،
میں اُس کا ہاتھ پکڑے بیٹھا تھا، پتا نہیں ہاتھ پکڑنا بھی ایک عجیب احساس ہے جیسے آپ اُس کا سارے کا سارا درد ہی کھینچ رہے ہوں۔ کافی فتوے جاری ہوں گے وہ نامحرم تھی دوزخ میں جائو گے وغیرہ، خیر 1 بجے اُس کی آنکھیں کھلی ایک زور دار سانس لیا آنسو بھری آنکھوں سے دنیا کا آخری چہرا دیکھا اور ٹھیک 1بج کر 3 منٹ پر خالقِ حقیقی سے جا ملی،
بس میری سانس بند ہو گئی۔ اور مجھے یوں لگ رہا تھا سارا کچھ ختم، اب بس مجھے بھی فرشتہ لینے آ رہا، میں تقریباً رات 2 بجے گھر آیا اُس کا کوی وارث اُسے لینے نہیں آیا۔ اِیک بے یار و مددگار لڑکی لاوارث نعش اور نعش کو چند فیٹ جگہ بھی نصیب نہ ہوئی، مردہ خانہ مقدر بنا اور وہ اِس دنیا جہاں فانی سے کوچ کر گئی۔
میری زندگی کا بہت بڑا نقصان ہو چکا تھا۔ میرا کسی بھی کام میں دل لگنا ختم ہو گیا۔ ماما نے ہزار دفع پوچھا کیا ہوا میں نے کہا کہ بس بہن کو یاد کر رہا ہوں کبھی نہیں بتایا کیا قصہ تھا کہاں سے شروع ہوا اور کہاں ختم۔
پڑھائی بالکل چھوڑ دی، کوئی کام نہیں کیا اور بس کئی سال اِسی غم میں گزار دیے۔ لیکن جاتے جاتے مجھے ایک سبق تو دے ہی گئی۔ لڑکیاں بھی آزاد ہیں، اُنہیں بھی آزادی ہونی چاہیئے۔ اپنی مردانگی کو اُن کی حفاظت کرنے پر لگائو نہ کہ اُن کی آزادی چھیننے پر اور نہ ہی اُنہیں ذہنی مریض بنا کر۔ اپنی 5 منٹ کی سیٹسفیکشن کے لیے ایک پوری زندگی دائو پر نا لگائو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں