281

تعلیم مگر کیسی؟ …….(پروفیسر ماجد غفور)

تحریر : پروفیسر ماجد غفور۔

تعلیم تعلیم اور تعلیم۔ ترقی کا واحد حل صرف تعلیم ہی ہے۔ اگر کوئی ملک ترقی کرنا چاہتا ہے تو تعلیم حاصل کی جائے۔ دنیا می آج تک جس نے بھی ترقی کی ہے تو وہ تعلیم کے بل بوتے پر ہی کی ہے۔ ملکی جی ۔ڈی ۔پی کا چار فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہئے۔ کیونکہ تعلیم ہو گی تو ملک خوشحالی کے راستے پہ گامزن ہو سکے گا۔ یہ اور اس طرح کے کئی جملے سننے کو ملتے ہیں۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہر قسم کی صرف تعلیم کا حاصل کرلینا ہی ترقی کی طرف لے جاتاہے یا تعلیم کا بھی کوئی پیمانہ ہونا چاہئے کہ کس طرح کی تعلیم ترقی اور خوشحالی کا سبب بن سکتی ہے۔اگر تو تعلیم صرف معلومات کا ذخیرہ بنتی ہے اور جسکا پیداواری عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا تو ایسی تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کو پڑھنا لکھنا آگیا ہے۔ایسی تعلیم کو غیر پیداواری تعلیم کا نام دیا جاتا ہے۔اس کے برعکس ایسی تعلیم جسکا حاصل کرنا نہ صرف پیداواری عمل کو آگے بڑھائے بلکہ پیداواری ذہن پیدا کرتے ہوئے خوشحالی اور ترقی کے راستے پہ ہاتھ پکڑ کے ہمیں لے جائے اسے پیداواری تعلیم کہتے ہیں۔یقیناًہر باشعور شخص کا یہی جواب ہوگا کہ ترقی اور خوشحالی کی طرف لیجانے والی تعلیم ہی فائدہ مند ہے۔
اگر ہم پاکستان کے نظام تعلیم اور نصاب تعلیم پہ ایک نظر دوڑائیں تو پتہ چلتاہے کہ ہمارا تعلیمی نظام غیر پیداواری ہے۔ اس تعلیمی نظام کے تحت تعلیم حاصل کرنے والے طلباء سند یافتہ تو ہو جاتے ہیں مگر پیداواری عمل دخل میں انکا کوئی حصہ نہیں ہوتا۔ان کے پاس کتابوں سے حاصل کردہ معلومات کا ذخیرہ تو ہوتا ہے مگرعملی شکل میں اسکو ڈھالنے کا کوئی ڈھنگ نہیں آتاہے۔ یہی ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خامی ہے جسکی وجہ سے ہم دوسرے ملکوں کے لئے صارفین تو ہیں جو انکی پیداکردہ چیزیں استعمال کرتے ہیں جبکہ خود سے پیدا کرکے آجرین نہیں بن سکے۔جیسا کہ موبائلز، کمپیوٹرز، اور الیکٹرونکس کی بے تحاشا چیزیں جنکے ہم عادی ہو چکے ہیں۔یہ سب کی سب دوسرے ملکو ں کی پیدا کردہ ہیں۔
یہی تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب ہے جسکی وجہ سے آج تک یہاں انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کرنے والے طلباء انجینئرز بننے کی بجائے مکینک بن رہے ہیں۔میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے والے ڈاکٹرز کو ملٹی نیشنل کمپنیز کی تیار کردہ ادویات ہی مریض کو لکھ کے دینا پڑتی ہے۔سائنس کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد سائنس دان بننا تو دور کی بات سائنسی سوچ ہی پیدا نہیں ہوسکی۔اور نہ ہی ہم سائنسی عمل کو ذہنی طور پہ کبھی قبول کرسکے۔اسی طرح سماجی سائنس کے علوم پڑہنے والے طلباء کبھی بھی سماج کی ہیئت کا تجزیہ کرنے کے بھی قابل نہیں ہیں۔اور سما ج کی میکانیت کو بھی جانچنا ان کے بس کی بات نہیں ہے۔
اگر ہم اپنی روزمرہ کے معمول پہ نظر دوڑائیں تو صبح سے لے کے شام تک جتنی بھی چیزیں استعمال کرتے ہیں جیسا کہ ٹوتھ پیسٹ، صابن، ٹائلٹ صاف کرنے والا لیکوئڈ، شیمپو موبائل، موبائل کا چارجر، فلپس کا بلب، ٹی وی، فریج، کمپیوٹر، اے۔سی، گاڑی، اور اس طرح کی بے تحاشا چیزیں سب کی سب دوسرے ملکوں کی پیدا کردہ ہیں۔جبکہ ان میں سے زیادہ تر اشیاء پیدا کرنے پہ کوئی ایسی راکٹ سائنس استعمال نہیں ہوتی ہے کہ ہم خود سے یہ سب نہ بنا سکیں۔بس فرق صرف اتنا ہے کہ ہمارے تعلیمی نصاب کا پیداواری عمل سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔جن ملکوں نے ترقی کی ہے صرف اس وجہ سے کی ہے کہ انہوں نے تعلیم کو اپنا نصب العین بنا لیا اور وہ بھی صرف پیدا واری تعلیم کو۔اب اگر پاکستان کے تعلیمی نصاب پہ نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اسکا پیداواری عمل میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔اسلئے یہاں کلرک اور مکینک ہی پیدا ہو رہے ہیں۔اور جب تک تعلیمی نظام کو پیداوری عمل سے جوڑ کے تعلیم کو پیداواری نہیں بناتے ، تب تک کلرک اور مکینک ہی تو پیدا ہوتے رہے گے۔اور اس کے ساتھ ساتھ پیداواری ذہن کبھی بھی پیدا نہیں ہو سکے گے۔اور تعلیم پیداواری کیسے بن سکے گی اسکے لئے ضروری ہے کہ سائنس پڑھنے والوں کو لیبارٹریز کے ساتھ جوڑ دیا جائے، انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے والے کو صنعتوں کے ساتھ منسلک کیا جائے۔اور اسی طرح سوشل سائنس پڑہنے والے طلباء کے تعلیمی نصاب کو سماج کو پرکھنے کے قابل بنایا جائے۔اگر اس طرح اپنے تعلیمی نظام اور تعلیمی نصاب کو پیداواری عمل سے جوڑ دیا جاتا ہے تو پھر انجینئرز ،سائنسدان ، معیشت دان، اور پیداوری ذہن پیدا ہونا شروع ہو جائیں گے۔ورنہ پھر ہم ہمیشہ صارفین ہی رہ جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں