285

نواز شریف کی جرنیلوں سے کبھی کیوں نہیں بنی؟…..تحریر: بشارت راجہ.

تحریر: بشارت راجہ.

(بشکریہ: بدل ڈال ڈاٹ کام)

فیصلہ آنے کے بعد آدھا گھنٹہ گزرتا ہے میاں نواز شریف اپنے مصاحبین کے ساتھ کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے خوشگوار موڈ میں گپ شپ کر رہے ہیں۔ ایک گھنٹہ گزرتا ہے عدالتی اہلکار کھسر پھسر کرتے ہیں۔

ڈیڑھ گھنٹہ گزرتا ہے نیب کے افسر کمرہ عدالت میں آتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو ورانٹ گرفتاری دکھاتے ہیں۔ کہتے ہیں ”میاں صاحب چلیں“ میاں نواز شریف جواب دیتے ہیں۔

”جی چلیں گاڑی اپ کے پاس ہے اگر نہیں ہے تو ہماری گاڑی میں چلتے ہیں۔“ اعصاب بحال چہرے پر ملال نہیں اُٹھ کر ساتھ چل پڑتے ہیں۔

اسی ملک کی ایک عدالت سابق ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی سنگین غداری کیس میں گرفتاری کا حکم دیتی ہے اور فرد جرم عائد کرنا چاہتی ہے۔ گرفتاری کے خوف سے سابق ڈکٹیٹر کی ٹانگیں کانپ اُٹھتی ہیں۔ سابق ڈکٹیٹر گاڑیوں کے جلو میں اسلام آباد میں اپنے فارم ہاؤس سے نکلتا ہے اور عدالت حاضر ہونے کی بجائے سیدھا راولپنڈی ”سی ایم ایچ“ پہنچ جاتا ہے. کہا جاتا ہے کہ سابق ڈکٹیٹر دل کے مرض میں مبتلا ہیں وہی کمانڈو جو مُکے لہرایا کرتا تھا کہ میں بہادر کمانڈو ہوں کسی سے ڈرتا ورتا نہیں عدالتوں کا سامنا بہادری سے کروں گا پھر ایسا باہر گیا کہ واپس نہ آیا۔ یہ فرق ہے ایک سیاست دان اور ڈکٹیٹر میں کورٹ رپورٹنگ کرتے ہوئے جس کا میں نے مشاہدہ کیا۔

سیاست دان کی اُٹھان عام لوگوں سے ہوتی ہے عوام اس کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ عوام کی آواز پر وہ لبیک کہتے ہوئے اس کی فلاح و بہبود کا کام کرتا ہے اس کا جینا مرنا عوام کے ساتھ ہوتا ہے جبکہ فوجی ڈکٹیٹر ساری زندگی شاہانہ انداز میں گزارتا ہے اُن کا لائف سٹاہل ہی جداگانہ ہوتا ہے عوام کے مسائل کا انھیں کیا ادراک؟ عوام کو وہ اپنا سرمایہ نہیں سمجھتے. بلکہ بندوق کو اپنا سرمایہ سمجھتے ہیں اور پھر اسی بندوق کے زور پر وہ عوام پر اپنے فیصلے مسلط کرتے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ورق ورق اقتدار پر قبضہ کرنے والے جرنیل حکمرانوں کے سیاہ دھبوں سے پُر ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان کے بعد جنرل یحییٰ خان آیا۔ آمریت کی سیاہ رات کے بعد بھٹو کی شکل میں جمہوریت کا سویرا طلوع ہوا مگر ایک بار پھر جنرل ضیاءالحق نے اس بلڈی سویلین کو عدالتوں کے ذریعے تختہ دار پر چڑھا دیا۔

کہا جاتا ہے کہ میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار ہیں۔ بات سادہ سی ہے کہ میاں نواز شریف اسٹیبلشمنٹ کی پیدوار ہو تو پھر ہر آرمی چیف کے ساتھ ان کے تعلقات کشیدہ کیوں ہو جاتے ہیں۔ جنرل اسلم بیگ ہو یا آصف نواز، جنرل وحید کاکڑ ہوں یا جہانگیر کرامت کسی ایک کے ساتھ میاں نواز شریف کی نہیں بنی۔ میاں نواز شریف بات سول سپریمیسی کی کرتے ہیں جو اسٹیبلشمنٹ کو قبول نہیں پھر سازشیں شروع ہو جاتی ہیں۔

ایسی ہی ایک سازش اس وقت ہوتی ہے جب نواز شریف واجپائی کو لاہور لے کر آئے۔ ایک آٹھ رکنی کمیٹی بنائی جاتی ہے جو مسئلہ کشمیر سمیت پاکستان ہندوستان کے تمام دیرینہ مسائل کے حل کی طرف پیش رفت کرتی ہے۔ کمیٹی کشمیر کے حل کے قریب پہنچ جاتی ہے پھر کارگل ہو جاتا ہے اس کے بعد تاریخ میں سب موجود ہے۔

میاں نواز شریف کو آخری دور حکومت میں صرف آٹھ سے دس ماہ آزادانہ کام کرنے کا موقع ملا اور یہ وقت وہ تھا جب جنرل راحیل شریف کو یہ امید تھی کہ ان کی مدت ملازمت میں توسیع ہو گی۔ آس پر دنیا قائم ہے۔ اسی امید پر سویلین حکومت سے چھیڑ چھاڑ نہیں کی گئی۔ جب امیدیں دم توڑ گئی تو پھر ڈان لیکس کا معاملہ اُٹھا اس کے بعد فیصلہ ہوا کہ نواز شریف کو عبرت کا نشانہ بنانا ہے۔ نواز شریف کو مقدمات میں اتنا الجھاؤ کہ اس کے اعصاب جواب دے جائیں۔

بیگم بیمار ہوئی لندن کے ہسپتال میں زیر علاج رہی عیادت کے لیے عدالت سے جانے کی اجازت نہ ملی، گرفتار کیا گیا بیٹی سمیت اڈیالہ جیل بند کر دیا گیا اعصاب نہ ٹوٹے سیاسی رفیق بھی ثابت قدم رہے، بیگم کی رحلت پر اڈیالہ سے جانے کی اجازت ملی۔ کانا پھوسی ہوئی کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے پا جائیں۔ گے مگر رہائی کی مدت پوری ہونے کے بعد میاں نواز شریف پھر جیل میں چلے گئے۔

العزیزیہ ریفرنس میں دی جانے والی سزا کے بعد نواز شریف جیل کی سلاخوں سے ڈرا نہیں بلکہ انھیں گلے سے لگایا۔ نیب کا اہلکار وارنٹ گرفتاری لے کر آیا تو وہ کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے اس وقت یہ گفتگو کر رہے تھے ”جب جنگ حق سچ کی ہو تو حوصلہ اللہ دیتا ہے“۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں