272

پاکپتن: دہشت گرد چند لوگوں کو قتل کرتے ہیں جب کہ نشہ کاکاروبار کرنے والے پورے معاشرہ کے قتل میں ہیں. حکیم لطف اللہ

پاکپتن( حیدر علی شہزاد سے ) دہشت گرد چند لوگوں کو قتل کرتے ہیں جبکہ نشہ کاکاروبار کرنے والے پورے معاشرہ کے قتل میں ملوث ہوتے ہیں اس لیے منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی جانی چاہیئے۔ ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے گورنمنٹ ہائی اسکول و پرائمری اسکول فیروزپور چشتیاں میں نشہ کے خلاف انجمن فلاح مریضان وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام منعقدہ سیمینارز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

سینئرہیڈ ماسٹر پر حامد اللہ چشتی نے کہا کہ نشہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔اس سے نوجوان نسل کو بچانے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا ۔جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے کہا کہ صرف تمباکونوشی کے سبب ہر چھ سیکند بعد ایک جان اس دنیا سے چلی جاتی ہے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اگر ہم اس عادت میں مبتلا ہوں تو پھر ہم کہاں سے اشرف المخلوقات ہوئے۔انہوں نے مذید کہا کہ ایک فرد کے نشہ کا شکار ہونے سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ۔ تمباکونوشی جو تمام نشوں کی ابتداء ہے اور جس سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں، اندھاپن دل کی بیماریاں اور اس سے انسانی صحت کو کئی قسم کے نقصانات ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی 13سے زائد اقسام کے کینسر زکا باعث بنتی ہے اس عفریت سے معاشرے کو پاک کرنے کیلئے جذبہ جہاد سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

صدر پریس کلب پاکپتن و صدرانجمن فلاح مریضاں وقار فرید جگنو نے کہاکہ تعلیمی اداروں پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی بالکل ختم ہونی چاہیے اور جنسی بے راہ روی چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر طلباء میں شعور کو پیدا کرنیکی کاوشیں جاری رکھنی ہوں گی۔ڈاکٹر اظہرحسین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم اور اساتذہ معاشرہ میں نشہ کا کاروبار کرنے والے ناسوروں کی نشاندہی کریں تاکہ مل کر ان کوراہ راست پر لانے کی کوششیں کی جاسکیں۔سیمینار سے حکیم ندیم احمد اور حید علی شہزاد نے بھی خطاب کیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں