235

نوشہروفیروز: سول ہاسپٹل انتظامیہ نے تمام حدیں پار کرديں، خاتون نے رکشے میں بچی کو جنم دیدیا.

نوشہروفیروز(ملک مشتاق احمد سے) سول ہاسپٹل انتظامیہ نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرديں، حاملہ خاتون کو پوری رات لیڈی ڈاکٹرکے آنے کا آسرا دیکر ساری رات تڑپایا گیا، بلیڈنگ جاری ہونے پر نکال دیا گيا، خاتون نے رکشے میں بچی کو جنم دیدیا، ایم پی اے کی آمد، انتظامیہ پر شدید برھمی کا اظہار. تفصیلات کے مطابق سول ہاسپیٹل انتظامیہ نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرديں، نوشہروفیروز کے نواحی گاوں موسی مری کی حاملہ خاتون کو تکلیف ہونے پر سول ہاسپٹل نوشہروفیروز لایا گيا مگر لیڈی ڈاکٹر صغرہ ابڑو کی عدم موجودگي پر انہیں ساری لیڈی ڈاکٹرکے آنے کا آسرا دیکر پوری رات تڑپایا گیا. جس کے بعد حاملہ خاتون “ح” زوجہ فیصل مری کو بلیڈنگ جاری ہونے پر نکال دیا گیا جس کے باعث نجی ہاسپٹل میں شفٹ ہونے کے دوران حاملہ خاتون نے بچي کو رکشے میں جنم دیدیا اس موقع پر حاملہ خاتون کے شوہر فیصل مری نے بتایا کہ میری بیوی کو درد محسوس ہونے پر سول ہاسپٹل نوشہروفیروز لیکر آئے مگر لیڈی ڈاکٹر صغرہ ابڑو موجود نہ ہونے پر آسرے دیئے گئے کہ وہ آرہی ہیں مگر وہ نہيں آئی جس کہ باعث میری بیگم پوری رات تڑپتی رہی اور بلیڈنگ جاری ہونے پر ھمیں سول ہاسپٹل سے نکال دیا گیا جس کہ بعد پی پی ایم پی اے شہناز انصاری سول ہاسپٹل پہنچ گئی جس نے انتظامیہ سے فون کرکے فوری طور پر لیڈی ڈاکٹر کو سول ہاسپٹل میں بھیجا جائے مگر انتظامیہ نے سیدھا جواب دیدیا کہ وہ چھٹی پر ہے جس کہ بعد میری بیوی کو نوابشاھ ریفر کیا گیا. میں اپنی بیوی کو رکشے میں نجی ہاسپٹل منتقل کر رہا تھا کہ میری بیوی نے بچی کو رکشے میں جنم دیا. دوسری جانب ایم ایس اقبال انصاری نے کہا کہ خاتون کو نوابشاھ ریفر کرنے کے باوجود بھی کہا کہ حاملہ خاتون نے سول ہاسپٹل نوشہروفیروز میں بچی کو جنم دیا ہے دوسری جانب سول ہاسپٹل بچایو ایکشن کمیٹی کی جانب سے 87 دن بھی سول ہاسپیٹل میں سہولیات کی کمی اور ڈاکٹروں ٹرانسفر کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا اس موقع پر ایکشن کمیٹی کے راہنماوں محمد یونس راجپر، خادم حسین سیال، خالد چانڈیو اور ديگر نے کہا کہ ھم 87 دن سے مسلسل احتجاج کررہے ہيں مگر اس کے باوجود بھی سرکاری ہاسپٹل کے عملے پر کانوں ميں جوں تک نہيں رینگ رہی ہے جب کہ سول ہاسپٹل نوشہروفیروز سے دن دہاڑے 2 مرتبہ ادویات چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گيا ہے مگر افسوس کہ چور ملازمین کے خلاف کاروائی نہيں کی جارہی ہے اور نہ ہی ڈاکٹروں کو ڈيوٹی کا پاپند کیا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں