300

پاکپتن: تمباکو نوشی کے خاتمہ کے لیے جذبہ جہاد سے کام کرنے کی ضرورت ہے. حکیم لطف اللہ

پاکپتن( حیدر علی شہزاد سے ) تمباکو نوشی 13سے زائد اقسام کے کینسر زکا باعث بنتی ہے اس عفریت سے معاشرے کو پاک کرنے کیلئے جذبہ جہاد سے کام کرنے کی ضرورت ہے ان خیالات کا اظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے گورنمنٹ ایلیمنٹری اسکول چک نور محمد میں نشہ کے خلاف انجمن فلاح مریضان وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ہیڈ ماسٹڑ محمد اکرم سیال نے کہا کہ نشہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے جو معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے ۔جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے کہا کہ صرف تمباکونوشی کے سبب ہر چھ سیکند بعد ایک جان اس دنیا سے چلی جاتی ہے یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی اگر ہم اس عادت میں مبتلا ہوں تو پھر ہم کہاں سے اشرف المخلوقات ہوئے۔انہوں نے مذید کہا کہ ایک فرد کے نشہ کا شکار ہونے سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ۔ تمباکونوشی جو تمام نشوں کی ابتداء ہے اور جس سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں، اندھاپن دل کی بیماریاں اور اس سے انسانی صحت کو کئی قسم کے نقصانات ہوتے ہیں۔ صدر پریس کلب پاکپتن و صدرانجمن فلاح مریضاں وقار فرید جگنو نے کہاکہ تعلیمی اداروں پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی بالکل ختم ہونی چاہیے اور جنسی بے راہ روی چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر طلباء میں شعور کو پیدا کرنیکی کاوشیں جاری رکھنی ہوں گی۔حکیم عبدالمجید شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم اور اساتذہ معاشرہ میں نشہ کا کاروبار کرنے والے ناسوروں کی نشاندہی کریں تاکہ مل کر ان کوراہ راست پر لانے کی کوششیں کی جاسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں