210

پاکپتن: نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرکے ہم ان کو نشہ کی لعنت سے دور رکھ سکتے ہیں.ڈاکٹر احمد علی پرنسپل

پاکپتن( حیدر علی شہزاد سے )نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرکے ہم ان کو نشہ کی لعنت سے دور رکھ سکتے ہیں ان خیالات کااظہار پرنسپل ڈاکٹراحمد علی نے گورنمنٹ ہائراسکینڈری اسکول چک بیدی میں نشہ کے خلاف انجمن فلاح مریضان وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن کے زیر انتظام منعقدہ سیمینارز سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقع پر حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن وڈسٹرکٹ اینٹی ٹی بی ایسوسی ایشن نے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گرد چند لوگوں کو قتل کرتے ہیں جبکہ نشہ کاکاروبار کرنے والے پورے معاشرہ کے قتل میں ملوث ہوتے ہیں اس لیے منشیات کا کاروبار کرنے والوں کے لیے سزائے موت تجویز کی جانی چاہیے اور ان کو نشان عبرت بنایا جائے۔ جنرل سیکرٹری انجمن فلاح مریضاں ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی نے کہا کہ صرف تمباکونوشی کے سبب ہر چھ سیکند بعد ایک جان اس دنیا سے چلی جاتی ہے ۔انہوں نے مذید کہا کہ ایک فرد کے نشہ کا شکار ہونے سے پورا خاندان متاثر ہوتا ہے ۔ تمباکونوشی جو تمام نشوں کی ابتداء ہے اور جس سے سالانہ ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن رہے ہیں، اندھاپن دل کی بیماریاں اور اس سے انسانی صحت کو کئی قسم کے نقصانات ہوتے ہیں۔ تمباکو نوشی 13سے زائد اقسام کے کینسر زکا باعث بنتی ہے اس عفریت سے معاشرے کو پاک کرنے کیلئے جذبہ جہاد سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ صدر پریس کلب پاکپتن و صدرانجمن فلاح مریضاں وقار فرید جگنو نے کہاکہ تعلیمی اداروں پبلک مقامات پر سگریٹ نوشی بالکل ختم ہونی چاہیے اور جنسی بے راہ روی چھوٹے بچوں کے ساتھ زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے پیش نظر طلباء میں شعور کو پیدا کرنیکی کاوشیں جاری رکھنی ہوں گی۔حکیم عبدالمجید شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالب علم اور اساتذہ معاشرہ میں نشہ کا کاروبار کرنے والے ناسوروں کی نشاندہی کریں تاکہ مل کر ان کوراہ راست پر لانے کی کوششیں کی جاسکیں۔مستنصرکامران نے اپنے خطاب میں کہا کہ نوجوان بلڈ ڈونیشن کی طرف آئیں اس کے لیے ان کو لازمی طور پر نشہ کی لت سے دور رہنا ہوگا۔اس موقع پر سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کے لیے دعائے فاتحہ خوانی اور دعا بھی کی گئی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں