354

بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی کا نوحہ

تحریر: صابر بخاری

چند روز قبل بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے ایک طالبعلم نے واٹس اپ پر ایک ویڈیو بھیجی ہے ،میں تب سے حیران اورپریشان  ہوں کہ وسیب کی سب سے بڑی اکلوتی یونیورسٹی کس نہج پر پہنچ چکی ہے ۔یہ ویڈیو یونیورسٹی کے ایک پروفیسر کی ہے جس میں وہ غیر اخلاقی حرکات کرتا نظر آرہا ہے ۔تازہ اطلاعات کے مطابق پروفیسر پر الزامات درست ثابت ہو چکے ہیں ۔جنوبی پنجاب کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ وسیب کا تعلیمی میدان میں پیچھے رہ جانا ہے ۔پورے جنوبی پنجاب کی کروڑوں کی آبادی میں واحد بڑی یونیورسٹی جس میں اپر پنجاب اور ملک کے باقی حصوں سے بھی طالبعلموں کی کثیر تعداد زیور تعلیم سے آراستہ ہو رہی ہے،بدترحالات کا سامنا کر رہی ہے ۔بد انتظامی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے ۔حکمرانوں کی نا اہلیوں ،مقامی جاگیرداروں ،سیاستدانوں کی سازشوں کی بدولت اس خطہ کو جان بوجھ کر تعلیمی میدان میں پیچھے رکھا گیا ۔جان بوجھ کر وسیب کے تعلیمی اداروں کا ماحول بہتر نہ کیا گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آج طالبعلم تو ایک طرف پروفیسر ز بھونڈی حرکتیں کرتے نظر آتے ہیں ۔جس کی وجہ سے آج بی زیڈ یو تعلیمی بربادی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے ۔

چند برس قبل بھی ایک دوست نے ایک پروفیسر کی طرف سے  اپنی سٹوڈنٹ کو بھیجے گئے نازیبا پیغامات بھیجے تھے ،ان پیغامات کا تذکرہ آگے کرتے ہیں ۔

پہلی مرتبہ زمانہ طالبعلمی میں بی زیڈ یو اپنے دوست شاہد فاروق کو ملنے گیاجو الیکٹریکل انجینئرنگ کا طالبعلم تھا ،غالباً ایک اور دوست اے بی شہزاد بھی ہمراہ تھے ۔رات دس بجے ہم حمزہ ہال پہنچے تو اٹینڈنٹ نے ہاسٹل میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی ۔شاہد فاروق نے بڑی منت سماجت کی مگر اٹینڈنٹ نہ مانا ،اسکے بعد شاہد سپریٹنڈنٹ کے پاس گیا کہ سر میرے دوست دور سے آئے ہیں ،آخری یونیورسٹی شٹل بھی روانہ ہوچکی ہے، یہ لوگ کہاں جائیں گے؟مگر سپریٹنڈنٹ صاحب نہ مانے ۔میں حیران اور گم سم کھڑا یونیورسٹی کے عملہ اور سسٹم کو سوچتا اور افسوس کرتا رہا۔ہماری خوش قسمتی کہ ہاسٹلز کوسبزی  پہنچانے والی گاڑی شہر جارہی تھی،ہم بھی اس میں سوار ہوگئے ۔جن قارئین نے بہاؤالدین یونیورسٹی نہیں دیکھی انکو بتاتا چلوں کہ بی زیڈی یو ملتان شہر سے کوئی بیس تیس کلو میٹر کی مسافت پر ہے ۔یونیورسٹی کا رقبہ بھی کئی مربع اراضی پر مشتمل ہے ۔خیر شاہد ہمیں اپنے ایک عزیز کے گھر لے گیاجہاں ہم نے رات بسر کی ۔

چار برس قبل کی بات ہے میرے ایک دوست ڈاکٹر تنویر نے کہا کہ بی زیڈیو سے فاصلاتی نظام تعلیم میں ایم فل کر لو ۔موقع غنیمت جانا اور ایم فل ماس کمیونیکیشن میں داخلہ لے لیا ۔ہراختتام ہفتہ پر لاہور سے ملتان کلاس لینے کیلئے جاتا۔ڈاکٹر اسحاق فانی فاصلاتی نظام تعلیم کے انچارج اور پروفیسر ڈاکٹر علقمہ وائس چانسلر تھے ۔ماس کمیونیکیشن فاصلاتی نظام تعلیم کورس کے انچارج بی زیڈ یو ماس کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر تھے۔موصوف برسوں سے اس عہدے پر فائز تھے اور انسٹیٹیوٹ کی حالت پتلی ہی ہوتی جا رہی تھی ۔پروفیسرموصوف ایک مذہبی جماعت کے کرتا دھرتا تھے اور سازشوں سے برسوں سے اس سیٹ پر براجمان تھے اور اپنے طالبعلم مخالف رویہ  کے حوالے سے مشہور تھے ۔ انکے دست راست بھی ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک اور پروفیسرصاحب سیاہ و سپید کے مالک بنے ہوئے تھے ۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ بی زیڈ یو ماس کمیونیکیشن کے ڈیپارٹمنٹ کی حالت دگرگوں کیوں ہے ؟

اس دوران وائس چانسلر خواجہ علقمہ اور ڈاکٹر اسحاق فانی سمیت اساتذہ ،طلباء ،عملے کو قریب سے سمجھنے،پرکھنے کا موقع ملا ۔اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ یہ یونیورسٹی باقی یونیورسٹیوں سے پیچھے کیوں رہ گئی ہے ۔جتنی سازشی سیاست اور بد انتظامی وہاں دیکھی شاید ہی ملک کی کسی اور یونیورسٹی میں ہو۔طلباء صرف جگا گیری اور آوارہ گردی کیلئے آتے ،ڈسپلن نام کی کوئی چیز دیکھنے کو نہ ملی ،کوالٹی آف ایجوکیشن پر کسی کا فوکس نہیں تھا۔اساتذہ سے لیکر طلباء تک سبھی کا اپنا اپنا نظام تھا ۔سب یونیورسٹی کے رولز کو پیروں تلے روند رہے تھے ۔مجھے اندازہ ہوگیاتھا کہ بی زیڈ یو تباہی کی طرف جا رہی ہے اور آج یہ پایہ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ بی زیڈیو کا کوئی پرسان حال نہیں۔پروفیسرز لوٹ مار میں لگے ہیں کچھ پر مقدمات درج ہوچکے ہیں۔جس یونیورسٹی میںپروفیسرز طالبات کیساتھ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں پکڑے جا رہے ہوں اس جامعہ کے طلباء کی اخلاقی اقدار کا اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے ۔جبکہ یونیورسٹی پروفیسرز اپنے سٹوڈنٹس کے ہاتھوں اغواء ہو رہے ہیں ۔

سابق وائس چانسلر نے جو ایک مذہبی جماعت سے تعلق رکھتے تھے ، یونیورسٹی کی تباہی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی،اگرچہ اب وہ عہدے سے استعفیٰ دے چکے ہیں ،مگر حقیقت یہ ہے کہ استعفیٰ ان سے لیا گیا تھا تاکہ عزت سادات رہ جائے۔انکے پیشرو وائس چانسلر کو سرعا م ہتھکڑیاںلگیںاورکرپشن کا کھرا انکے گھر تک جاتا تھا مگر اس کی تفتیش  نہیں کی گئی ،اگر کی جاتی تو بہت سی باتیں طشت ازبام ہو جاتیں ۔

جب راقم ویکنڈ پر کلاس لینے یونیورسٹی جایا کرتا تھاتو اکثر چھوٹے موٹے ایشو کو بہانہ بنا کر چھٹی دے دی جاتی حتیٰ کہ ایک بار پاکستان میچ جیتا تو اس کی خوشی میں چھٹی دے دی گئی ،جبکہ راقم سمیت کئی سٹوڈنٹس سینکڑوں کلو میٹرکا فاصلہ طے کرکے کلاس لینے پہنچتے تھے مگر اول الذکر پروفیسرنے اپنے مضمون میں مجھے اس لیے پیپر میں نہ بیٹھنے دیا کہ حاضری پوری نہیں ۔اس مضمون کے علاوہ  پہلے سمسٹر کے تمام مضمون پاس کر لیے اور اسکے بعد بی زیڈ یوکے عجب ماحول سے جی اکتا گیا اور میں نے بی زیڈ یو کو خدا حافظ کہہ دیا ۔

 ان دو رکنی پروفیسرز کے گروپ کے کچھ ثبوت برسوں سے میرے پاس تھے ۔چھ برس قبل کی بات ہے کہ میں اپنے ایک دوست کو ملنے بی زیڈ یو گیا ۔اس وقت میں اپنے سابقہ صحافتی ادارے میں کرائم اور انویسٹی گیشن آفیئرز کا انچارج تھا ۔عثمان ہال میں چائے کی چسکی لیتے ہوئے دوست نے موبائل میری طرف بڑھاتے ہوئے کہا کہ یہ میسج پڑھو ۔میں میسج پڑھ کر چونک گیامگراس وقت میری حیرانی کی انتہا نہ رہی جب یہ معلوم ہوا کہ یہ ٹیکسٹ پیغامات ماس کمیونیکیشن ڈیپارٹمنٹ کا ایک پروفیسراپنی سٹوڈنٹ کو کر رہا ہے اور وہ لڑکی اس لڑکے کو وہ پیغامات فارورڈ کر رہی ہے ۔میرے دوست نے وہ پیغامات مجھے فارورڈ کر دیے اور آج تک وہ پیغامات میرے پاس محفوط ہیں ۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ پیغامات ماس کمیونیکیشن کے دو رکنی پروفیسر کے گروپ کے تھے ،جن کی بدولت میں نے بی زیڈ یو کو خیر باد کہا ۔مگر میں ذاتی انتقام یا بلیک میلنگ پر یقین نہیں رکھتااور نہ میں نے کبھی پروفیسر صاحب کو اس حوالے سے ہلکی سی بھنک بھی پڑنے دی ۔آج چونکہ یونیورسٹی بربادی کا منظر پیش کر رہی ہے اس لیے یہ تذکرہ کرنا ضروری سمجھاتاکہ تبدیلی سرکار کوبھی معلوم ہو کہ وسیب کی اکلوتی بڑی یونیورسٹی کیساتھ کیا کھلواڑ کیا جا رہا ہے ۔

بی زیڈ یو میں منشیات کا استعمال سر عام کیا جاتا ہے اور طلبہ اس لت میں بری طرح مبتلا ہیں ۔چند برس قبل بی زیڈ یو دوست کو ملنے گیا تودوست رات کویونیورسٹی میں ایک جگہ لے گیا جہاں بڑی تعداد میں طلبہ شراب اور افیون کا استعمال ایسے کر رہے تھے جیسے نشئی کرتے ہیں ۔

فضائی حادثہ میںجاں بحق ہونے والے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر نصیر احمد خان کے دور میں بی زیڈ یو نے کامیابیوں کا مختصر سفر طے کیا مگر اس مختصرعرصہ کے بعد یونیورسٹی زوال کی طرف گامزن رہی ۔بی زیڈ یو کا طالبعلم باقی یونیورسٹیوںسے بہت پیچھے ہے ۔اعتماد کی کمی ہے ۔ذہنی اور تعلیمی استعداد ایک کالج کے طالبعلم سے زیادہ نہیں ۔معیاری تعلیم کا فقدان ہے ۔ریسرچ پیپرز نہ ہونے کے برابر شائع ہو رہے ہیں۔تعلیمی ماحول کسی بھی طرح ایک بڑی یونیورسٹی کا نقشہ پیش نہیں کرتا ۔پریکٹیکل کی تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے۔جتنے بھی وائس چانسلرآئے اکثر باہر سے لائے گئے جونا اہل ثابت ہوئے۔اساتذہ کی طرف سے مارکس کی آڑ میں طالبات کو بلیک میل کرنا معمول بن چکا ہے،جس کے کافی ثبوت میرے پاس موجود ہیں۔ایمپلائزیونین کے نام پر غنڈہ گردی اور من پسند تعیناتیوں کا سلسلہ برسوں سے جاری ہے ۔چند برس قبل یونیورسٹی کے رجسٹرارکا بھائی یونین کا صدر تھا ،دونوں بھائیوں نے یونیورسٹی کی تباہی میں اہم کردار ادا کیا ۔رجسٹرار کیخلاف نیب میں کیسز آج بھی زیر سماعت ہیں ۔

بی زیڈ یو کی تباہی میں مقامی سیاستدان تو شادیانے بجا رہے ہیں کہ کہیں وسیب کا نوجوان پڑھ لکھ کر عقل و شعور کے منازل طے نہ کر لے ،مگر اس سے وسیب کے نوجوان کا جو استحصال ہو رہا ہے وہ کئی نسلوں کی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے ۔گورنر پنجاب کو بی زیڈ یو کے معاملات کو از سر نودیکھنا چاہیے اور وہاں ایک حقیقی تعلیمی ماحول  پیدا کرنا چاہیے کہ تعلیم اورریسرچ کا کام آگے بڑھایا جا سکے ۔اور دوسرے ایک ولی اللہ اور بزرگ کے نام پر بننے والی یونیورسٹی کو ایسے غیر اخلاقی عناصر سے پاک کیا جانا چاہیے جنہوں نے تعلیم کے تقدس اور طالبات کی عزت و شرافت کو داؤ پر لگارکھا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں