400

اذان اور انسان

تحریر۔۔۔ ڈاکٹر فیاض احمد
اذان کا مطلب پکارنا یا بولانا کے ہیں اس دنیا ء فانی میں بولانے اور پکارنے کے کئی طریقے ہوتے ہیں جب بھی کوئی پکارتا ہے تو اس میں پکارنے والے کا کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہوتا ہے ہم نے اکثر اوقات دیکھا ہے کہ جب ہم سے کسی کو کوئی کام ہوتا ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے بغیر مقصد کے کوئی آواز نہیں دیتا ہے لیکن اس دنیا میں ایک ایسی بھی ذات ہے جو ہمیں کچھ عطاء کرنے کے لئے بولاتی ہے اور وہ ذات اقدس اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کا کوئی بھی مثل نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ کی آواز اذان کی آواز ہوتی ہے
وہ سحر جس سے لرزتا ہے شبستان وجود۔۔۔ہوتی ہے بندہ مومن کی اذاں سے پیدا
بطور مسلمان ہمارا ایمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے اور حضرت محمد اللہ کے آخری رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں مسلمان کی زندگی کا آغاز بھی اذان سے ہوتا ہے یعنی جب ہم پیدا ہوتے ہیں تو سب سے پہلے ہمارے کانوں میں اذان کی آواز سنائی جاتی ہے جو ہمیں دائرہ اسلام میں داخل کرتی ہے اذان میں خدا نے واضع بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور حضرت محمد اللہ کے آخری رسول ہیں اور آؤ مسجد کی طرف تمہیں اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پکار رہی ہیں جلدی سے آؤ اور اس سے فیض یاب ہو جاؤ تمہیں تمہارا رب پکار رہا ہے دن میں پانچ وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکار آتی ہے کہ اے میرے بندے آ میری طرف اور سمیٹ لے میری رحمتیںآج تک دنیا میں کوئی بھی ایسی بے مثال ہستی نہیں ہے جو انسان کو اپنی طرف بولائے اور اپنی نعمتوں سے نوازے لیکن اس کے باوجود ہم اذان کی آواز سن کر ان سنی کر دیتے ہیں یعنی ہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور برکات کی ضرورت نہیں ہے ہم نے کبھی سوچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور صبح سے شام اور شام سے رات اور رات سے پھر صبح تک اللہ تعالیٰ ہمیں کئی نعمتوں سے نوازاتا ہے صرف اور صرف ہمیں غور سے دیکھنے کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل کرنے کے بہت آسان طریقے ہیں جب اذان کی آواز سن کر نماز پڑھنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انسان کے نامہء اعمال میں نیکیاں لکھوانی شروع کروادیتا ہے اور نماز کے ختم ہونے تک انسان کو اللہ تعالیٰ کی برکات میسر ہوتی ہیں یہ تو بات اللہ تعالیٰ اور انسان کے درمیان کی ہے اب دیکھتے ہیں سانئس کی رو سے
کہنے لگا مریخ ، ادا فہم ہے تقدیر۔۔۔ہے نیند ہی اس چھوٹے سے فتنے کو سزاوار
موجودہ دور میں سانئس نے اتنی ترقی کر لی ہے کہ ہر چیز کے بارے میں ایک گہرائی تک تحقیق ہوتی ہے امریکن تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ انسان کا صبح سویرے اٹھنا اور چند قدم پیدل چلنا صحت مند جسم کی علامت ہے اور صبح کی تازہ ہوا بہت سی سانس کی بیماریوں سے نجات کا باعث بنتی ہیں وضو کرنے کے دوران ہاتھ، پاؤں اور چہرے کو پانی سے دھونے سے بہت سی جلدی بیماریوں بھی ختم ہو جاتی ہیں کیونکہ تازہ پانی ڈالنے سے جلد کے مردہ خلئے انسانی جلد سے خارج ہو جاتے ہیں اور جلد کے سوراخ صاف ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے جلدی امراض یعنی کیل مہاسے وغیرہ سے انسان محفوظ ہو جاتا ہے اور گردن کا مسح کرنے سے ذہنی بیماریوں سے بچا جا سکتا ہے ہمارے جسم میں دل ایک پمپ کے طور پر کام کرتا ہے چلنے پھرنے یا لیٹنے کے دوران بھی دل سر سے نیچے ہوتا ہے جس کی وجہ سے دماغ تک خون کی رسائی بہت کم ہوتی ہے کیونکہ اوپر کی طرف عموماً پریشر کم ہوتا ہے صرف ایک ہی وجہ ہے جس کی بدولت سر کی طرف انتقال خون زیادہ ہوتا ہے وہ سجدے کی حالت ہے جس میں ہمارا دماغ دل سے نیچے ہوتا ہے جس کی وجہ سے خون دماغ کی طرف تیزی سے حرکت کرتا ہے دماغ کو تازہ خون ملنے کی وجہ سے بہت سی ذہنی کیفیت یعنی ڈپریشن وغیرہ سے نجات اور اس کے ساتھ ساتھ چہرے میں موجود چھوٹی چھوٹی خون کی نالیوں کو تازہ خون ملنے سے چہرے کی رنگت سرخ ہو جاتی ہے جس سے ہم بغیر کریموں کے خوبصورت نظر آتے ہیں اس بات اور جدید سانئس کی تحقیق سے ثابت ہوتا ہے نماز پڑھنے سے ہمیں کتنی بیماریوں سے شفاء ملتی ہے اور کتنے بیرونی فائدے میسر ہوتے ہیں یہ تو وہ ہیں جو تحقیق سے ثابت ہو چکے ہیں اگر ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کا پتہ چل جائے تو ہم اذان کے انتظار میں ہوں اور ہماری خواہش ہو کہ اذان ہوتی رہے اور ہم نماز پڑھتے رہیں نماز ہمارے اندر نظم و ضبط، صفائی، احساس اور ایک دوسرے کا خیال کرنے کا جذبہ پیدا کرتی ہے
ہم نے اپنے معاشرے میں دیکھا ہے کہ لوگ امیر اور غریب میں ایک فرق رکھتے ہیں اور امیروں کو غریبوں پر برتری دیتے ہیں لیکن یہ کتنی خوش بختی کی بات ہے کہ دوران نماز سب امیر اور غریب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں کتنی پیاری ترتیب ہے کہ چاہے کوئی وزیر ہو یا بادشاہ ہو، گورا ہو یا کالا ہو، امیر ہو یا غریب سب لوگ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں برابر ہیں
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمودوایاز۔۔۔نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز
اللہ تعالیٰ بندے سے کہتا ہے کہ ایک تیری چاہت ہے اور ایک میری چاہت ہے اگر تو نے اپنا لیا میری چاہت کو تو میں تجھے دوں گا تیری چاہت اگر تو نے چھوڑ دیا میری چاہت کو تو میں تجھے مار دوں گاتیری چاہت میں مگر آخر میں ہو گا وہی جو میری چاہت ہے اس لئے ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے احکامات پر اپنی زندگی گزاریں جس کی بدولت دنیاوی سکون اور آخرت ِؐؐکی راحت ملے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں